Tuesday, June 30, 2015

سو برس سے جاری جنگ

اب سے ایک سو ایک برس پہلے اٹھارہ جولائی انیس سو چودہ کو پہلی جنگِ عظیم کا بگل بجا تو اس روز عالمی جغرافیہ کچھ یوں تھاکہ ہندوستان سے آبنائے ملاکا تک کا علاقہ سلطنتِ برطانیہ کا مقبوضہ تھا۔شام تا یمن کا مشرقِ وسطیٰ سلطنتِ عثمانیہ کا مقبوضہ تھا اور شمالی افریقہ برطانیہ ، فرانس ، اٹلی اور اسپین نے عثمانیوں سے چھین کے بانٹ رکھا تھا۔اس نوآبادیاتی جغرافیے کا سب سے محکوم کردار عام مسلمان تھا۔لہذا کسی بھی دو طرفہ جھگڑے میں اس کے ساتھ بندر کی بلا طویلے کے سر والا معاملہ ناگزیر تھا۔

بقول ضمیر جعفری
آقا جو لڑکھڑایا تو نوکر پھسل گیا

نومبر انیس سو چودہ کے دوسرے ہفتے میں سلطنتِ عثمانیہ کے مفتیِ اعظم نے استنبول کی الفتح مسجد کے منبر سے فتویٰ جاری کیا کہ تمام مسلمانوں پر ملعون برطانیہ ، فرانس ، روس اور ان کے دیگر ساجھے داروں کے خلاف جہاد فرض ہوگیا ہے۔ مشکل بس یہ تھی کہ جتنے مسلمان سلطنتِ عثمانیہ میں بستے تھے لگ بھگ اتنے ہی ملعونوں کے مقبوضات میں بھی رہ رہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں جانب کے مقبوضہ مسلمان سامراجی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آ گئے۔
برطانیہ نے اپنے زیرِ نگیں مصر سے مختلف جنگی خدمات کے لیے ایک ملین افراد بھرتی کیے۔فرانس نے اپنی نوآبادی الجزائر سے ایک لاکھ ستر ہزار ، تیونس سے اسی ہزار اور مراکش سے پینتالیس ہزار مقامی افراد جبری بھرتی کرکے یورپی محاذ پر روانہ کیے۔جنگ کے خاتمے پر ان میں سے پچیس فیصد سپاہی گھر واپس نہیں لوٹے۔ تیونس کے مورخ خلیل شریف کے مطابق فرانسیسیوں نے نوآبادیاتی سپاہیوں کو اگلے مورچوں پر اور گورے سپاہیوں کو زیادہ تر خندقوں کی جنگ میں استعمال کیا۔اس لیے غلام فوجی زیادہ مرے۔
نوآبادیاتی سپاہی جبراً لڑ رہے تھے، اس لیے فرانسیسی جرنیل ان سپاہیوں کے ڈسپلن کے بارے میں اکثر فکرمند رہتے۔جرمن مسلسل پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ مفتی اعظم کے فتویٰ کے بعد کسی بھی مسلمان کا سلطنت عثمانیہ اور اس کے اتحادیوں (جرمنی وغیرہ) سے لڑنا حرام ہے۔چنانچہ فتوے کے دو ہفتے بعد تیس نومبر انیس سو چودہ کو تیونس کے فوجی قلعے بیضرت میں بغاوت ہوگئی اور مقامی رنگروٹوں نے مارسیلز (فرانسیسی بندرگاہ) جانے والے جہاز میں سوار ہونے سے انکار کردیا۔ اس خبر کو الجزائر اور مراکش کے مقبوضات تک پھیلنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور مورخ فیصل شریف کے مطابق سو سے ڈیڑھ سو کے درمیان تیونسی باغیوں کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا گیا۔

محاذِ جنگ پر بھی نوآبادیاتی فوجیوں میں ڈسپلن قائم رکھنے کے لیے فرانسیسی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ہر دس میں سے ایک کو نشانِ عبرت بنانے کی قدیم رومن فوجی روایت کو شمالی افریقی رنگروٹوں پر لاگو کیا۔پندرہ دسمبر انیس سو چودہ کو ’’ رجمنٹ دو مکس الجئیرز ’’کی دسویں بٹالین کے بیس الجزائری و تیونسی سپاہیوں نے جرمن پوزیشنوں کی طرف پیش قدمی سے ہچکچاہٹ دکھائی تو جنرل لا کورے نے انھیں نہتا کرکے دشمن مورچوں کی طرف بڑھنے کا حکم دیا اور اگر اس دوران دشمن سے بچ نکلیں تو ان ھی کے کامریڈ انھیں گولی سے اڑا دیں۔ فرانسیسی محقق گلبرٹ مینئر کے مطابق انیس سو پندرہ تک مختلف محاذوں پر ایسی سرسری سزائیں دینے کے تحریری احکامات جنگی ریکارڈ میں موجود ہیں مگر بعد میں ایسے احکامات زبانی جاری ہونے لگے۔

فرانسیسیوں کی جبری بھرتی مہم کے خلاف انیس سو پندرہ، سولہ میں لیبیا کی سرحد کے قریب تیونسی قصبے کبیر میں دو بغاوتیں ہوئیں جو جنگ کے بعد بھی گوریلا مزاحمت کی شکل میں جاری رہیں۔ انھیں دبانے کی کوشش میں سیکڑوں فرانسیسی فوجی ہلاک ہوئے۔ان بغاوتوں کے سرغنہ خلیفہ بن عسکر اور محمد دغباچی تھے۔ دغباچی کو انیس سو چوبیس میں پکڑ کے پھانسی دیدی گئی مگر اس کا نام لوک گیتوں کا حصہ بن گیا۔ایسی بغاوتیں عثمانی مقبوضات میں بھی ہوئیں مگر یہاں وہاں اکا دکا بغاوتوں سے قطع نظر اکثریت کے لیے فوجی بھرتی سے انکار دونوں جانب ممکن نہ تھا۔

اپریل دو ہزار پندرہ میں پہلی بار جرمنوں نے بلجئیم میں فلانڈرز کے محاذ پر کلورین گیس کے پانچ ہزار کنستر استعمال کیے۔لگ بھگ چھ ہزار فوری ہلاکتیں ہوئیں اور سیکڑوں زخمی بینائی کھو بیٹھے۔ فرانس کا پینتالیسواں اور ستاسی واں ٹیریٹوریل ڈویژن اولین کیمیاوی حملے کی زد میں آیا۔دونوں ڈویژنوں میں شمالی افریقی رنگروٹوں کی اکثریت تھی۔برطانوی مورخ ایڈورڈ سپئیرز کے بقول بعد کے گیس حملوں میں برطانوی ، فرانسیسی اور کینیڈین فوجی زیادہ متاثر ہوئے۔
عسکری تاریخ کے اس پہلے کیمیاوی حملے میں استعمال ہونے والی کلورین گیس جنگ سے دو برس پہلے ( انیس سو بارہ) برلن میں قائم ہونے والے کیسر ولیہلم انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل کیمسٹری میں تیار ہوئی۔ انسٹی ٹیوٹ کے پہلے ڈائریکٹر فرٹز ہیبر کو انیس سو اٹھارہ میں امونیا گیس سے مصنوعی کھاد بنانے کے فارمولے پر کیمسٹری کا نوبیل انعام ملا۔ اب تک اس انسٹی ٹیوٹ کے تینتیس سائنسداں نوبیل انعام حاصل کرچکے ہیں۔

یورپ کے وسطی محاذ پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد جنگی تعطل پیدا ہوگیا اور فریقین نے خندقوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو مصروف رکھنے کی حکمتِ عملی اپنالی۔ اس تعطل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانوی ایڈمرل ونسٹن چرچل نے جرمن اتحادی ترکی کی فیصلہ کن پٹائی کا منصوبہ بنایا۔مقصد یہ تھا کہ استنبول پر قبضہ کرکے روس تک کمک پہنچانے کے لیے بحیرہ اسود تک کا راستہ کھولا جائے۔ ویسے بھی انیسویں صدی سے کوئی بھی عثمانیوں کو خاطر میں نہیں لا رہا تھا۔اس دوران عثمانیوں سے بلقان اور یونان چھن گئے۔ پھر الجزائر سے مصر تک کے شمالی افریقی مقبوضات یورپئیوں نے ہتھیا لیے۔ انیس سو گیارہ میں لیبیا بھی اٹلی نے جھپٹ لیا۔ لے دے کے شام ، فلسطین ، ولایت بغداد و موصل ، جزیرہ نما عرب اور یمن ہی عثمانیوں کے ہاتھ میں رہ گئے۔ زار نکولس اول کا یہ کہنا کچھ غلط نہ تھا کہ یورپ کے اس مردِ بیمار سے اب کوئی نہیں ڈرتا ورتا۔

چنانچہ پچیس اپریل انیس سو پندرہ کو برطانیہ ، فرانس ، یونان ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مشترکہ افواج بحیرہ ایجین کے کنارے گیلی پولی کے ساحل پر اترنی شروع ہوئیں تو یہاں بس ایک ترک فوجی یونٹ متعین تھا۔آسٹریلوی مورخ بل سیلرز کے بقول جب تھکا ہارا ترک یونٹ پسپائی کی تیاری کر رہا تھا تو اسے مصطفیٰ کمال نامی ایک اعلی فوجی افسر کا پیغام ملا ’’ میں تمہیں لڑنے کا نہیں مرنے کا حکم دیتا ہوں۔تمہاری موت ہمیں اتنا وقت دے جائے گی کہ ہم تمہاری جگہ لے سکیں‘‘۔

مصطفی کمال کی انیسویں کور کے تین لاکھ فوجیوں میں سے پچھتر فیصد کا تعلق ولائیتِ شام و فلسطین سے تھا۔ تین میں سے دو رجمنٹیں عرب تھیں۔ گیلی پولی کا معرکہ سات ماہ جاری رہا اور ترکوں نے اتحادیوں کو اکھاڑ پھینکا۔ دونوں طرف سے لگ بھگ ڈھائی لاکھ فوجی کام آئے۔مگر مصطفی کمال کو معروف عرب شاعر خالد شوقی کی طرف سے خالد بن ولیدِ ثانی کا خطاب مل گیا۔

ادھر جرمنی نے یورپ کے وسطی اور مشرقی محاذ پر اتحادیوں کے جو سپاہی جنگی قیدی بنائے ان میں سے روس کی طرف سے لڑنے والے تاتاری مسلمانوں کو دیگر مسلمان جنگی قیدیوں سے الگ رکھا گیا۔شمالی افریقہ اور ہندوستان کے تین سے چار ہزار قیدی برلن کے نزدیک ہوفمین کیمپ پہنچائے گئے۔

شمالی افریقہ اور ہندوستان کے مسلمان قیدیوں کو باقیوں سے الگ رکھنے کی حکمتِ عملی مشرقِ وسطی میں ایک عرصے تک خدمات انجام دینے والے جرمن قانون دان اور ماہرِسفارت میکسویل اوپن ہائم کا آئیڈیا تھا۔( ان صاحب کا ذکر آگے بھی آئے گا)۔ حکمت یہ تھی کہ سرکردہ ترک اور عرب مذہبی رہنما کیمپ کا دورہ کریں اور اپنے ہم مذہب قیدیوں کو سمجھائیں کہ ترکوں اور ان کے اتحادیوں سے نبرد آزما ’’ مسلمان دشمن قوتوں’’ کی حمایت میں لڑنا کتنا بڑا گناہ ہے۔بعد ازاں کئی قیدی جرمنوں کی طرف سے اپنے سابق آقاؤں کے خلاف لڑے بھی۔

ہوفمین کیمپ میں ہی کیسر ولیلہم نے جیبِ خاص سے ایک چوبی مسجد بنوائی جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش تھی۔جنگ کے بعد ہوفمین کیمپ ختم ہوگیا مگر مسجد کو برلن میں رہنے والے مسلمانوں نے آباد رکھا۔ پھربرلن شہر میں ایک پختہ مسجد بن گئی اور ہوفمین کیمپ والی جرمنی کی اولین مسجد رفتہ رفتہ منہدم ہوگئی۔سوال یہ ہے کہ برطانیہ ، فرانس اور روس کی طرح جرمنی بھی غیر مسلمان تھا۔تو پھر ایسا کیوں تھا کہ جرمنی کو تو عثمانی سلطان قابلِ اعتماد برادر سمجھتے رہے اور باقی یورپی طاقتوں کو کٹر دشمن ؟ اس پالیسی کے کیا کیا فائدے اور نقصانات ہوئے اور اس پالیسی سے مسلمان دنیا کو کیا ملا اور کیا چھنا؟ ( داستان جاری ہے)۔

وسعت اللہ خان
بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

سول، ملٹری قیادت کو مشکل و ناگزیر چیلنج

’ملک سے غداری اورقتل دو ایسے جرائم ہیں جو سب جرائم سے زیادہ سنگین، حتی ٰکہ قومی خزانے کی لوٹ مار، ٹیکس کی عدم ادائیگی اور منی لانڈرنگ جیسے بڑے بڑے وائٹ کالر کرائمز( جو نیم غداری کے مترادف ہیں کہ ان سے کروڑوں لوگوں کے حقوق غصب ہوتے ہیں) پر بھی بھاری، لیکن یہ جس قدر حساس جرائم ہیں، انہیں عائد کرنے اور ان پر مقدمہ قائم کرنے میں بھی اسی درجے کی ذمہ داری، احتیاط اور واضح قانونی جواز کی موجودگی لازمی ہے‘‘۔ 

پاکستان کے چونکا دینے والے حالات حاضرہ کے تناظر میں آج کا ’’آئین نو‘‘ خاکسار کے متذکرہ بیانیے سے شروع ہوتا ہے، جو آج کے کالم کی روح ہے، بیانیے کی حقیقت کو سمجھنا اتنا ہی آسان ہے، جتنا حساس بیان کئے گئے جرائم (قتل و غداری) پھر بھی یوں سمجھیں کہ اگر اپنے آپ سے ہی سوال کریں کہ اگر کوئی آپ کو قتل کرکے آپ سے جینے کا حق چھین لے اور آپ کے لواحقین میں زندگی بھر کے لئے ایک اذیت ناک خلا، پیدا کردے تو اسے سزا ملنی چاہئے؟ اور اگر کوئی شہری، لوگوں کا گروہ یا تنظیم یا اس کے ذمہ داران دشمن ملک سے ساز باز کرکے مالی وسائل حاصل کرے اور اپنے ہی ملک میں دہشت پھیلائے، اسے غدار قرار دینا چاہئے یا نہیں؟

اگر جواب’’ہاں‘‘ میں ہے تو پھر اسے قانون کی روشنی میں سزا بھی ملنی چاہئے؟ جواب پھر ہاں میں ہے تو متذکرہ بیانیہ، ناقابل ردحقیقت ہے، ایسی کہ جسے ملزم بھی تسلیم کرتے ہیں۔ وضاحت طویل ہوگئی، آپ جان گئے ہیں کہ ملکی حالات حاضرہ کے کس موضوع کے تناظر میں آج کا ’’آئین نو‘‘ لکھا گیا۔ کراچی میں غیر معمولی گرمی کی لہر کی قدرتی آفت، شہر کو کرپشن سے غداب میں تبدیل کردینے، سندھ حکومت کے تباہ کن کرتوت اور اس کے دفاع کے لئے کھسک جانے والے لیڈر کی للکار، سب سے بڑھ کر ایم کیو ایم کی قیادت کے بھارت سے فنڈز وصول کرنے اور وہاں کارکنوں کو تربیت دلانے کے الزامات پر مبنی بی بی سی کی ڈاکومنٹری میڈیا کے ایجنڈے اور سیاسی ابلاغ میں چھائے ہوئے ہیں۔
 ان میں سے آخر ا لذکر، سول ،ملٹری قیادت کے لئے ایسا مشکل چیلنج بن گیا ہے کہ انہیں ہر غدار کا کڑا احتساب تو لازماً کرنا ہی ہوگا۔ سندھ حکومت کی ایک سے بڑھ کر ایک کرپشن کہانی بے نقاب ہونے پر جس طرح خبروں میں بیان کئے گئے ذمہ داران دبئی سدھارے ہیں اور جس آزادی سے انہیں جانے دیا گیا ہے۔

اس صورت حال سے پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات سے عوام کو آگاہ کرنا بھی اب سرگرم قیادت کے لئے ایسا چیلنج ہے جس سے وہ منہ موڑ نہ پائے گی۔ معاملہ بہت واضح ہے، یہ فقط روایتی بلیم گیم نہیں کیونکہ ایم کیو ایم کے اہم ذمہ داروں پر چونکا دینے والے الزام ہیں جس میں برطانیہ کا مرکزی کردار ہے جو اپنے ایک شہری کے قتل کے الزام میں دوسرے شہری کے خلاف تحقیق کی آخری حد تک جارہا ہے کہ یہ اس کے شہرہ آفاق نظام انصاف کے اعتبار کا معاملہ ہے۔ تحقیق کے دوران ہی ایک اور جرم منی لانڈرنگ کا انکشاف ہوا جس کی زد میں پاکستانی سیاسی جماعت کے خود ساختہ جلا وطن رہنما آگئے، برطانیہ کو لندن میں ہونے والے پاکستانی نژاد شہری کے قتل کا کھوج لگانے کے لئے حکومت پاکستان کا تعاون ناگزیر ہے کہ قتل کے مبینہ اور معاون ملزمان اس وقت اس کی حراست میں ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے خلاف غداری کا ارتکاب بھی لندن میں ہوا ہے جس کے الزام کا رخ پاکستانی سیاسی جماعت کے لندن بیسڈ قائد کی طرف ہے۔ خبروں کے مطابق الزامات کی مضبوط شہادتیں دینا خصوصاً پاکستانیوں کو چونکا دینے والی کہانی کا سنسنی خیز حصہ ہے۔ سو پاکستان کو بھی حقائق تک پہنچنے کے لئے برطانیہ کا تعاون ناگزیر ہے کہ پاکستان سے غداری کی جو کھچڑی مبینہ طور پر 1994ء سے تیار ہورہی ہے، وہ لندن میں ہورہی ہے۔ معاملہ صرف ملزموں تک پہنچ کا ہی نہیں، بھارت کے پاکستان دشمن کردار کو بے نقاب کرنے کی شدید سفارتی ضرورت کا بھی ہے۔ اب چونکہ دونوں حکومتیں (برطانیہ اور پاکستان کی) ایک دوسرے سے تعاون پر آمادہ ہیں، سو کہانی انجام کی طرف بڑھتی معلوم دیتی ہے۔

انجام دہی بہتر ہونا ہے جو منطقی ہو۔ برطانیہ تو یہاں (منطقی انجام) تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے ،اسٹوری واضح ہونے کے باوجود پاکستان کیلئے منطقی انجام تک پہنچنا ایک کار محال ہے جبکہ اس سے حسب روایت جان بھی نہیں چھڑائی جاسکتی۔ ایک تو معاملہ ملکی سلامتی کا ہے، جو اصل میں حکومت پر شدید عوامی دبائو کی شکل میں آئے گا جو بذریعہ میڈیا پڑے گا۔ یقیناً یہ ایک مشکل چیلنج ہے کہ اس کا تعلق پاکستان کی ایک پارلیمانی طاقت سے جڑتا ہے لیکن چیلنج ناگزیر ہے۔ حکمت عملی پر بہت انحصار کرنا ہوگا، خود ایم کیو ایم کی یہ شدید ضرورت بن گئی ہے کہ الزام کی تحقیق ہو اور یہ قانون کی روشنی میں اپنے اصلی انجام کو پہنچے، وگرنہ ایم کیو ایم خود اپنے لئے کراچی اور پورے ملک کے لئے ایک ’’اذیت ناک‘‘ ’’سیاسی طاقت‘‘ کے طور پر ہی رہے گی۔ اس کا اپنا شفاف ہونا ہی اب اس کی بقاء کا واحد ساماں ہے۔ یہ تو تھا ’’غداری کی کہانی‘‘ کا ایک تجزیہ۔

جہاں تک سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی شدیدکرپشن اور نااہلیت کا معاملہ ہے، یہ بھی دہشت گردی کی کتنی ہی شکلوں سے جڑ گئی ہے۔ سو یہ اس کی بیخ کنی کے لئے سرگرم سول، ملٹری قیادت کے لئے ایک اور مشکل چیلنج ہے اور ناگزیر بھی کہ اب کسی صورت کراچی کو نااہل اور اس قدر کرپٹ حکمرانوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ پی پی حکومتوں نے وفاق اور سندھ میں اقتدار کی باریاں لے کر پاکستان کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی فقط ایک تصویر پی پی کے قیام سے آج تک خیر خواہ سینئر ایڈیٹر اور کالمسٹ نے اپنے حالیہ کالم میں دکھائی ہے۔

 چند دن سے پی پی کے کتنے ہی لیڈروں کی ملک سے اڑان پر رقمطراز ہیں’’سندھ میں بی بی شہید کے خون کے صدقے چند نشستیں مل گئیں، جن کے بل بوتے پر وہ اور ان کا خاندان سندھ پر راج کرتے رہے۔ بہن نے پارٹی پر کنٹرول کیا، بھائی نے صوبہ مٹھی میں لیا اور پھر جس فن میں زرداری صاحب کی شہرت تھی، انہوں نے پوری مہارت سے اس کا مظاہرہ کیا۔ اب زرداری خاندان پاکستان کے نقد سرمایے رکھنے والے خاندانوں میں سرفہرست ہے۔ بیرونی جریدوں کے مطابق کو میاں منشا کو امیر ترین آدمی سمجھا جاتا ہے لیکن تاثر ہے کہ جتنی دولت زرداری خاندان کے پاس ہے، سات میاں منشا بھی اکٹھے ہوجائیں تو انکے پاس نہیں ہے‘‘۔

پی پی لیڈروں کی اڑان کے موسم پر لکھے گئے اس کالم میں جو نیوز اسٹوریز بریک کی گئی ہیں، انہیں ڈیویلپ کرلیا جائے تو پی پی کی موجودہ قیادت اور سندھ کے حکمرانوں کے خلاف ایک پورا وائٹ پیپر تیار ہوجائے۔ تازہ ترین یہ کہ کراچی میں حادثاتی زخمیوں اور لاچار مریضوں کو فوری ریلیف کیلئے 1122 کی جو ایک سو ایمبولینسز خریدی گئی تھیں ان میں سے چھ زرداری صاحب کے ایک بہت قریبی بطور ویگن تبدیل کرچکے۔ کتنی ہی گرد و غبار سے اٹی پڑی کھڑی ہیں کیونکہ کراچی میں 1122 نام کا کوئی سیٹ اپ ہے ہی نہیں۔ اس کے بعد کراچی کربلا نہ بنتا تو کیا بنتا کہ جب حکمران پینے کا پانی بھی قبضے میں لے کر بیچنا شروع کردیں۔ وفاقی حکومت اور سول، ملٹری مصروف آپریشن قیادت اس چیلنج سے نپٹنے سے کیونکر بچ سکتی ہے، وگرنہ وہ بھی اس حوالے سے قابل احتساب نہیں ہوجائے گی؟

ڈاکٹر مجاہد منصوری
بہ شکریہ روزنامہ جنگ