Friday, August 28, 2015

بجلی کے نرخوں میں 30 فیصد اضافہ


ایک ایماندار جج کے چھ سوالات

آج ایک ایسے شخص کی وکالت میں مجھے قلم اٹھانا ہے‘ ایسے فرد کے کردار کی گواہی دینا ہے کہ جس کے بارے میں میرا یقین ہے کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو روز حشر مجھ سے ضرور سوال کیا جائے گا۔

مجھے سید الانبیاء ﷺ کی حدیث میں درج اس انجام کا بھی خوف ہے جو ہادی برحقؐ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے ’’اگر کسی نے اپنے مومن بھائی کی اس وقت مدد نہ کی جب اس کو بے آبرو کیا جا رہا تھا تو اللہ اس کو ایسے وقت میں تنہا چھوڑ دے گا جب اسے بے آبرو کیا جا رہا ہو اور وہ مدد کے لیے لوگوں کی جانب دیکھ رہا ہو‘‘۔

مجھے پاکستان کی عدلیہ کے ایک ایسے باکردار‘ منصف مزاج‘ ایماندار اور صالح شخص کے حق میں ایسے وقت میں گواہی دینے کا شرف حاصل ہو رہا ہے جب جمہوری اقدار کے پروانے اور آزادی اظہار کے دیوان اس کی کردار کشی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اللہ مجھے اس ذمے داری کا حق ادا کرنے کی توفیق دے کہ مجھ سے دہرا سوال ہو گا۔ مجھے اللہ نے قلم کی طاقت عطا فرمائی اور پھر اسی اللہ نے اس طاقت کو پذیرائی بخشی۔ اللہ میری خطاؤں کو معاف فرمائے اور اس دوران میں جو لکھوں اس پر فیصلہ کرتے ہوئے میرے حسن ظن اور نیک نیتی کو سامنے رکھے۔

آج سے تقریباً دو دہائیاں قبل گوجرانوالہ میں ایک سیشن جج کے خلاف وہاں کے وکلاء نے ہڑتال کر دی اور اس کے تبادلے کے لیے سرگرم ہو گئے۔ پنجاب ہائی کورٹ کی سربراہی اس وقت جسٹس فلک شیر کے پاس تھی۔ وکلا تنظیموں کا بڑا گٹھ جوڑ ہوتا ہے اور انصاف تو بنچ اور بار کا یرغمال ہے۔ کس کو کب‘ کیسا‘ کتنا مہنگا اور کتنی دیر میں انصاف ملے گا اس کا فیصلہ بنچ اور بار مل کر کریں گے۔
اس جج نے اس روایت کو توڑنے کا اعلان کیا اور کہا کہ بحیثیت سیشن جج میری ذمے داری سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا ہے۔ پنجاب کے موجودہ انسپکٹر جنرل پولیس اس وقت گوجرانوالہ میں ڈی آئی جی تھے۔ تمام تھانوں کے سربراہوں کو بلایا گیا اور جج صاحب نے ان سے کہا کہ آپ بلاوجہ تعمیل میں دیر نہیں کریں گے اور گواہوں کو غیر ضروری طور پر پیشی سے نہیں بھگائیں گے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ کسی وکیل کو بلاوجہ تاریخ نہیں دوں گا۔

اس کے بعد کیسوں کے فیصلے ہونا شروع ہوئے۔ گوجرانوالہ کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ ایک قتل کے کیس کا فیصلہ کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ چار دن میں کیا جانے لگا۔ صرف چند مہینوں کے اندر تمام وکلا اپنے چیمبرز میں ہاتھ پہ ہاتھ ڈالے بیٹھے ہوئے تھے۔ ہڑتال شروع ہوئی۔ جسٹس فلک شیر تک اس ہڑتال کی گونج پہنچی۔ پوچھا مسئلہ کیا ہے۔ وکیلوں کی زبان میں کہا‘ یہ سیشن جج ہمیں ’’ریلیف‘‘ نہیں دیتا۔ ’’ریلیف‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جو پاکستان کے عدالتی نظام میں سکہ رائج الوقت ہے۔

وکیل عدالت سے پیشیاں اور تاریخیں لینے جب تک اپنے موکل کو ہلکا نہ کر لیں‘ ان کو مقروض نہ بنا لیں‘ ان کی جائیداد بکوا لیں نہ ان کی وکالت کا رعب پڑتا ہے اور نہ ہی ان کی زندگی خوشحال ہوتی ہے۔ فلک شیر بھی خوش قسمتی سے ایسے چیف جسٹسوں میں سے تھا جن پر بار کا ناجائز رعب نہیں چلتا تھا۔ کاظم علی ملک نے کہا میں نے گزشتہ پندرہ سال سے التواء کا شکار مقدمے ختم کر دیے۔ لوگوں ایک جانب ہو گئے۔

جو مطمئن تھے وہ چین سے سو گئے اور جو غیر مطمئن تھے وہ اپیل میں چلے گئے۔ فلک شیر کا اگلا سوال وکلا سے تھا‘ اب صاف صاف بتاؤ‘ کچھ صاف گو   وکلا نے کہا ہم چیمبر بند کر کے چابیاں آپ کو دے دیتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ کاظم علی ملک نے کہا کہ جتنے لیڈر میرے خلاف ہڑتال کر رہے ہیں وہ مجھے پہچانتے تک نہیں۔ وہ آج تک میری عدالت میں پیش تک نہیں ہوئے۔ یہ میرا اس انسان سے ایک غائبانہ تعارف تھا۔ ان دنوں میں خود ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت پر فائز تھا۔ یوں لگا جیسے کسی نے میرے راستے کے آگے آگے مشعل رکھ دی ہو اور اس مشعل کو کاظم علی ملک نے تھاما ہوا تھا۔ میں اس شخص کی ٹوہ میں لگ گیا۔ اسے جاننے کی کوشش کرنے لگا۔

ضلع خوشاب کے قصبے نور پور تھل میں یکم اکتوبر 1949ء کو پیدا ہونے والے کاظم علی ملک نے جوہر آباد ڈگری کالج سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ یہ زمانہ طلبہ یونینوں کا زمانہ تھا۔ وہ 1968ء میں کالج یونین کا صدر بھی منتخب ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے قانون کا امتحان پاس کرنے کے بعد اس نے جوہر آباد اور سرگودھا میں وکالت شروع کر دی۔

اسے ایڈیشنل سیشن جج مقرر کیا گیا۔ یہاں سے ماتحت عدلیہ میں ایک قابل فخر سپوت کی آمد ہوئی۔ چھوٹے چھوٹے شہروں میں اس کا مقدمات کو فیصلے کرنے کا انداز وہی تھا جو گوجرانوالہ میں تھا۔ پنجاب میں بھلوال ان تحصیلوں میں سے ہے جہاں جرائم کی کثرت ہے۔ تین ماہ بعد بھلوال کے تمام زیر التوا مقدمات کے فیصلے ہو چکے تھے۔ انھیں کہا گیا آپ سرگودھا کا بھی چارج ساتھ ہی رکھ لیں۔ 
یہ اور ایسی کہانیاں میانوالی اور لیہ میں بھی عوام آپ کو سنائیں گے۔

 وہ منزلیں طے کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج بن گئے۔ عدلیہ کی آزادی کا غلغلہ تھا۔ مشرف اور پھر زرداری کے بنائے ہوئے ڈوگر عدالت کے جج ایک ہی فیصلے سے ختم کر دیے گئے۔ کاظم علی ملک کا یہ سوال آج بھی جواب طلب ہے کہ کیا یہ اس کے بس میں تھا کہ وہ اس سال اپنی پرموشن کی سطح پر پہنچتا کہ جب ڈوگر چیف جسٹس تھا۔ واپس سیشن جج بنے‘ ریٹائر ہوئے اور پنجاب میں ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن لگا دیے گئے۔ یہاں بیوروکریسی سے ان کی ٹھن گئی۔

کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ایسا عہدہ جسے بیوروکریسی نے اس لیے تخلیق کیا ہو کہ ان کی مرضی کی کارروائیاں ہوں‘ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جائے کہ ہم کرپشن کے خلاف بہت کچھ کر رہے ہیں۔ ایک ایسا چیف سیکریٹری ان کے خلاف ہوا جو ہمیشہ سیاست دانوں کی آنکھ کا تارا رہا ہے اور جس کے ہاں اطاعت گزاری ہر اصول پر فوقیت رکھتی تھی۔

صرف ایک فقرہ کافی تھا کہ اگر کاظم علی ملک اینٹی کرپشن کے محکمے میں رہا تو جس طرح بیورو کریسی پر وہ ہاتھ ڈال رہا ہے‘ آیندہ الیکشنوں میں آپ اپنا انجام سوچ لیں۔ یہ فقرہ کسی بھی وزیراعلیٰ کے پاؤں تلے سے زمین نکالنے کے لیے کافی تھا۔ ہٹا دیے گئے کہ اس تباہ حال سسٹم میں ایماندار اور با اصول شخص کا یہی انجام ہوتا ہے۔

میں ٹیلی ویژن پر ایک پروگرام متبادل کے نام سے کرتا ہوں۔ جس میں موجودہ نظام کی ناکامی پر بحث کے بعد ایک متبادل دیا جاتا ہے۔ عدلیہ کے حوالے سے کاظم علی ملک میرے مہمان تھے۔ ان کا ایک ایک فقرہ عدلیہ کی تاریخ بدل سکتا ہے۔ کہا اگر واقعی ہمارے جج ایمانداری سے کام کریں اور وکیلوں کے رزق میں اضافہ کرنے کے لیے تاریخیں نہ دیں تو عدالتوں پر اتنا کم بوجھ ہے کہ آدھے جج فارغ کرنا پڑیں گے۔

آدھے سے زیادہ سول کیس صرف ایک پیشی پر ختم کیے جا سکتے ہیں اور قتل جیسا مقدمہ بھی تین دن لگاتار شنوائی کے بعد فیصلے تک جا پہنچتا ہے۔ کہا‘ دیکھو لوگوں کو عدالتوں میں بلاؤ فیصلوں کے لیے‘ اپنے برآمدوں کی رونق بڑھانے کے لیے نہیں۔ اللہ جس کو عدل کی کرسی پر بیٹھ کر انصاف کی توفیق دے‘ اس کا اپنے کردار پر اعتماد دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔

میں نے آج سے چھ ماہ قبل اسی پروگرام میں این اے 122 کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے اتنا کہا کہ میرے ماں باپ کی تربیت‘ اور میرے اللہ کا کرم یہ ہے کہ اللہ نے مجھ سے غلط کام کرنے کی توفیق ہی چھین لی ہے۔ فیصلے پر کوئی تبصرہ نہ کیا۔ لیکن فیصلہ آنے کے بعد مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ فیصلہ کیا آیا۔ مجھے اس فیصلے کے آغاز میں جسٹس کاظم علی ملک نے جو چھ سوال خود سے کہے ہیں وہ اس قوم کے سامنے رکھنا ہیں۔

ان سوالات میں ایک درد بھی چھپا ہے اور آپ اس دباؤ کا بھی اندازہ کر سکتے ہیں جو اس صاحب ایمان جج پر تھا۔ کاظم علی ملک لکھتے ہیں۔ فیصلے سے پہلے میں نے اپنے ضمیر سے چھ سوال کیے۔ -1 کیا میں صرف خور و نوش کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔ -2 کیا میں کھونٹے پر بندھے اس جانور کی طرح ہوں جسے اپنے چارے کی فکر ہوتی ہے۔-3 کیا میں ایک بے لگام درندہ ہوں جسے کھانے کے سوا اور کسی چیز سے سروکار نہیں ہوتا۔-4 کیا مجھ میں دین‘ ضمیر یا اللہ کا خوف نہیں ہے۔-5 کیا مجھے اس کائنات میں بلا روک ٹوک ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔
-6 کیا مجھے یہ حق ہے کہ میں صراط مستقیم کو چھوڑ کر باطل قوتوں کی راہوں میں بھٹکتا رہوں۔ یہ چھ سوال پاکستان کے ہر اس فرد کو اپنے آپ سے ضرور کرنا چاہئیں جو اس مکروہ اور گلے سڑے نظام میں اس بات پر جھک جاتا ہے‘ حق کی راہ میں ہٹ جاتا ہے کہ اقتدار پر قابض افراد اس کی اور اس کے خاندان کی جانوں کے دشمن ہو جائیں‘ انھیں کی زندگیاں مشکل کر دیں گے‘ انھیں بے موت مار دیں گے۔

اگر ان کا ضمیر ان کا جواب نفی میں دے تو سمجھو وہ اس دنیا میں بھی سرخرو اور آخرت میں بھی۔ جسٹس کاظم علی ملک نے لکھا میرے ضمیر نے ان سوالوں کا جواب نفی میں دیا تو میں نے نظریہ ضرورت کو پس پشت ڈال کر تلخ سچ بول دیا۔ سچ کی تلخی وہ کڑوی دوا ہے جو اس قوم کی تمام امراض کا علاج ہے۔

اوریا مقبول جان

Thursday, August 27, 2015

مودی کا گجرات کیوں جل رہا ہے؟

دو مہینے پہلے تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے خود ان کی اپنی ریاست گجرات سے ایک بڑا چیلنج کھڑا ہوسکتا ہے اور بغاوت کا پرچم بلند کرنے والا ایک اکیس سال کا نوجوان ہوگا۔
گجرات کی سڑکوں پر 13 سال کے بعد تباہ کاری کے ایسے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ سینکڑوں بسیں نذر آتش کی جاچکی ہے، جگہ جگہ سے آگ زنی کے واقعات کی اطلاعات ہیں، تشدد میں کم سے کم نو لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور اس مرتبہ سڑکوں پر ا ترنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ سے بی جے پی اور نریندر مودی کی مضبوطی کے ساتھ حمایت کی ہے۔

گجرات کی پٹیدار یا پٹیل برادری خوشحال بھی ہے اور سیاسی اعتبار سے طاقتور بھی۔ گجرات کا شمار ملک کی سب سے خوشحال ریاستوں میں ہوتا اور وہاں کاروبار اور صنعت پر پٹیل برادری کا غلبہ ہے۔ ملک کے پہلے وزیر داخلہ ’مرد آہن‘ سردار ولبھ بھائی بھی پٹیل تھے اور موجودہ وزیر اعلیٰ اور نریندر مودی کی معتمد آنندی بین کا تعلق بھی اسی برادری سے ہے۔ ریاست میں ان کی آبادی تقریباً پندرہ فیصد ہے۔ بی جے پی کے 120 اراکین اسمبلی میں سے چالیس پٹیل۔
لیکن برادری کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ دوسرے پسماندہ طبقات کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں حاصل ریزرویشن کی سہولت کی وجہ سے پٹیل نوجوان محرومی کا شکار ہیں، نہ انہیں نوکریاں ملتی ہیں نہ پروفیشنل کالجوں میں داخلے۔

دو مہینے پہلے تک نہ یہ مطالبہ کبھی سنجیدگی سے اٹھایا گیا تھا اور نہ کسی کو یہ اندازہ تھا کہ چند ہی ہفتوں کے اندر ریزرویشن کے لیے پٹیلوں کی تحریک اتنی شدت اختیار کر لے گی۔
تحریک کی کمان ہاردک پٹیل نے سنبھال رکھی ہے جو صرف 21سال کے ہیں۔ ان کے والد بی جے پی سے وابستہ رہے ہیں اور کچھ عرصہ پہلے تک وہ ’سبمرسبل پمپ‘ کے کاروبار میں اپنے والد کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔
لیکن جب انہوں نے ایک چھوٹے سے پلیٹ فارم سے ریزرویشن کا مطالبہ کیا تو اچانک لوگ ان کے ساتھ جڑنا شروع ہوگئے۔ ان کے آخری دو جلسوں میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی اور احمدآباد کی ریلی کے بعد جب پولیس نے انہیں گرفتار کیا تو پوری ریاست میں تشدد کی لہر دوڑ گئی۔

خوشحال برادریوں کی جانب سے ریزرویش کے مطالبات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ حال ہی میں راجستھان میں بھی پرتشدد تحریک کے بعدجاٹوں اور گوجروں کو ریزرویش دیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ کے احکامات کی وجہ سے ملازمتوں اور کالجوں میں پچاس فیصد سے زیادہ سیٹیں ریزرو نہیں کی جاسکتیں۔

گجرات میں پہلے سے ہی پسماندہ طبقات (او بی سی) کو 27 فیصد ریزرویشن حاصل ہے، اس کے علاوہ پسماندہ ذاتوں کو ساڑھے سات فیصد اور قبائلیوں کو 15 فیصد ریزرویشن کی سہولت پہلے سے ہی حاصل ہے۔ ایسے حالات میں مزید برادریوں کے لیے ریزرویشن کی گنجائش پیدا کرنا مشکل ہے۔ اور اگر قانون میں کسی قسم کی ترمیم کی کوشش بھی کی گئی تو جو لوگ ریزرویشن کے دائرے سے باہر ہیں، یا پٹیلوں کو ریزرویشن دینے کی وجہ سے جن کا حصہ کم ہوجائے گا، وہ سڑکوں پر اتر سکتے ہیں۔

گجرات کے پٹیلوں کی تحریک وزیر اعظم نریندر مودی اور ریاست میں بی جے پی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ وہ اگر بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیں تو لمبے عرصے کے بعد ریاست میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے خود وزیر اعظم کو بھاری سیاسی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
 
اس لیے حکومت نہ پٹیلوں کا مطالبہ آسانی سے منظور کر سکتی ہے اور نہ مسترد۔ یہ سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ آخر ہاردک پٹیل اچانک اتنے مقبول کیسے ہوگئے؟ کیا ان کے پیچھے کسی دوسری سیاسی طاقت کا ہاتھ ہے؟ اتنی بڑے جلسے کرنے کے لیے انہیں فنڈز کون فراہم کر رہا ہے؟ حکمت عملی کون وضع کر رہا ہے اور کیا یہ ممکن ہے کہ خود بی جے پی یا ہندتوا پریوار کے کچھ ناراض حلقے ان کی پشت پناہی کر رہے ہوں؟

فی الحال ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں، لیکن گجرات کی سڑکوں پر 13 سال بعد فوج گشت کر رہی ہے۔ 2002 کے فسادات آج تک نریندر مودی کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں، وہ دعا کر رہے ہوں گے ہاردک پٹیل جلد سے جلد گھر لوٹ کر دوبارہ اپنے والد کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کردیں۔

سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان سٹاک ایکسچینج کیا ہے؟

ایک ایسے وقت میں جب چین کی معیشت میں سست رفتاری سے دنیا بھر کے بازارِ حصص میں مندی کا رجحان ہے، ایسے میں پاکستان میں سٹاک مارکیٹس کے نگران ادارے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) نے ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے سٹاک ایکسچینجز کو آپس میں ضم کر کے ’پاکستان سٹاک ایکسچینج‘ بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ایس ای سی پی اور سٹاک مارکیٹس کی مشترکہ کمیٹیوں کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت ’بازارِ حصص میں شفافیت لانے اور کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بین الاقومی معیار متعارف کروانے کے لیے انھیں ایک پلیٹ فارم کے تحت اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی تین سٹاک مارکیٹس کو آپس میں ضم کر کے پاکستان سٹاک ایکسچینج بنانے کا فائدہ کیا ہو گا اور اس کا مطلب کیا ہے؟
یہ جاننے کے لیے میں نے سٹاک مارکیٹ میں کام کرنے والی کمپنی عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف اکانومسٹ خرم شہزاد سے بات کی۔

پاکستان سٹاک ایکسچنیج

سٹاک مارکیٹ کے انضمام یا ڈی میچولائیزیشن کا قانون سنہ 2012 میں منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے تین سٹاک ایکسچنج اپنے 40 فیصد تک حصص سرمایہ کاروں کو فروخت کریں گے اور یہ سرمایہ کار سٹرٹیجک سرمایہ کار‘ جیسے بیرونی سٹاک ایکسچنج بھی ہو سکتا ہے۔ تینوں سٹاک ایکسچنجز کے ارکان 40 فیصد کے مالک ہوں گے جبکہ باقی 20 فیصد حصص فروخت کے لیے عوام کو پیش کیے جائیں گے۔

خرم شہزاد نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان میں سٹاک مارکیٹ میں اصلاحات کی جانب پیش رفت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستانی سٹاک مارکیٹ بھی ایک ہی پلیٹ فارم سے کام کر سکے گی اور اس طرح سے مارکیٹ میں نئے سرمایہ کار آئیں گے نئے ٹیکنالوجیز متعارف کروائی جائیں گی۔

انھوں نے کہا کہ لاہور کراچی اور اسلام آباد سٹاک ایکسچینج کی بجائے ایک ہی سٹاک مارکیٹ ’پاکستان سٹاک ایکسچینج‘ ایک کمپنی کی طرز پر کام کرے گی، جس کے اپنے شیئر ہولڈز ہوں گے، بورڈ آف ڈائریکٹرز ہوں گے جو شیئر ہولڈرز کو جوابدہ ہوں گے اور اس طرح سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے نئی مصنوعات متعارف کروائی جا سکتی ہیں۔
 
سٹاک مارکیٹ کے انضمام یا ڈی میچیولائیزیشن  کا قانون سنہ 2012 میں منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے تین سٹاک ایکسچینج اپنے 40 فیصد تک حصص سرمایہ کاروں کو فروخت کریں گے اور یہ ’سٹرٹیجک سرمایہ کار‘ بیرونی سٹاک ایکسچینج بھی ہو سکتے ہیں۔
تینوں سٹاک ایکسچینجز کے ارکان 40 فیصد کے مالک ہوں گے جبکہ باقی 20 فیصد حصص عوام کو فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

تاہم سٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کار عقیل کریم ڈھیڈی نے 40 فیصد تک حصص کی سٹرٹیجک سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی شرط کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ریگولیٹر کو اپنے سرمایہ کاروں پر بھروسہ کرنا چاہیے اور انھیں بھی سٹاک مارکیٹ کے حصص خریدنے کی اجازت دینی چاہیے۔

ایک بازارِ حصص

پاکستان سٹاک ایکسچنج ایک کمپنی کی طرز پر کام کرے گی، جس کے اپنے شیئر ہولڈز ہوں گے، بورڈ آف ڈائریکٹرز ہوں گے جو شیئر ہولڈرز کو جوابدہ ہوں گے اور اس طرح سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے نئی مصنوعات متعارف کروائی جا سکتی ہیں۔

ماہر اقتصادیات خرم شہزاد

عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان سٹاک ایکسچینج کے قیام سے ملک کے بازارِ حصص کو ریگولیٹ کرنا آسان ہو جائے اور اس سے مارکیٹ میں رِسک اور مینیجمنٹ بہتر ہو گی اور مارکیٹ کی آمدن میں اضافہ ہو گا۔

کراچی سٹاک ایکسچینج ہنڈرڈ انڈیکس کا شمار دنیا میں تیزی سے ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں ہوتا ہے لیکن حالیہ دنوں میں چینی معیشت کی سست رفتاری اور کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس میں بھی مندی کا رجحان ہے۔

ماہر اقتصادیات خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹ کی ڈی میچیولائیزیشن سے مارکیٹ کا حجم بڑھے گا اور نئی اصلاحات سے ریگولیشنز مضبوط ہوں گی اور سرمایہ کاری کو محفوظ بنایا جا سکے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان سٹاک ایکسچینج بھی ایسے ہی ہو گا جیسے نیویارک کا نیس ڈیک سٹاک ایکسچینج یا ممبئی سٹاک ایکسچینج۔ اس طرح ایک سٹاک ایکسچینج پورے ملک کے بازارِ حصص کو ظاہر کرے گا، جس میں انڈیکس تو الگ الگ ہو سکتے ہیں لیکن سٹاک ایکسچینج ایک ہی ہو گا، جس سے بلاشبہ بازارِ حصص میں بہتری آئے گی۔

بشکریہ
سارہ حسن
بی بی سی اردو