Friday, October 24, 2014

بھوربن....

بھوربن صوبہ پنجاب کا ایک چھوٹا شہر اور گلیات کا ایک پہاڑی مستقر ہے، اس جگہ کا نام ایک قریبی جنگل کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ مری سے تقریبا 9 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اپنے منفرد سرسبز پہاڑیوں کی بناء پر یہ سیاحوں کی جنت تصور کیا جاتا ہے جبکہ قریب ہی ایوبیہ نیشنل پارک ہونے کی بناء پر ہائیکنگ کے شائقین کے لیے بھی یہ کسی نعمت سے کم نہیں، بھوربن ہل اپارٹمنٹ یہاں کا خوبصورت ریزورٹ ہے جہاں جانے والے لوگوں کا واپس آنے کا دل ہی نہیں کرتا۔

ملکہ کوہسار مری.....

ملکہ کوہسار مری پاکستان کا مشہور ترین سیاحتی مقام قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا جو کہ اسلام آباد سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔اسلام آباد سے آئے یا ایبٹ آباد کی جانب سے مری کا سفر سر سبز پہاڑوں، گھنے جنگلات اور رقص کرتے بادلوں کے حسین نظاروں سے بھرپور ہے، گرمیوں میں سر سبز اور سردیوں میں سفید رہنے والے مری کے پہاڑ سیاحوں کے لیے بہت کشش کاباعث ہیں۔
مری سطح سمندر سے 2300 میٹر بلندی پر واقع ہے، مری کی بنیاد 1851 میں رکھی گئی تھی اور یہ برطانوی حکومت کا گرمائی صدر مقام بھی رہا۔ یہاں سے آپ موسمِ گرما میں کشمیر کی برف پوش پہاڑیوں کا نظارہ کر سکتے ہیں جبکہ بارشوں کے دنوں میں بادلوں کے کھیل تماشے اور سورج کے غروب ہونے کا منظر تو روز ہی نظر آتا ہے۔ اس تفریح گاہ کے کچھ حصے خصوصاً کشمیر پوائنٹ جنگلات سے بھرپور اور انتہائی خوبصورت ہیں۔

ایوبیہ نیشنل پارک......

ایوبیہ نیشنل پارک مری سے 26 کلومیٹر دور واقع ہے سابق صدر ایوب خان کے نام پر اس علاقے کا نام ایوبیہ رکھا گیا۔ چار مختلف پہاڑی مقامات گھوڑا گلی، چھانگلہ گلی، خیرہ گلی اور خانسپور کو ملا کر ایوبیہ نیشنل پارک بنایا گیا۔ پکنک مقامات، سیرگاہوں اور سرسبز علاقوں کہ علاوہ یہاں ایک چیئر لفٹ بھی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہے۔ پاکستان میں یہ اپنی طرز کی پہلی تفریحی سرگرمی تھی، یہ چیر لفٹ علاقے کی سیاحت کا ایک بہتر ذریعہ ہے۔
پارک میں کئی اقسام کے پرندے جیسا کہ سنہری عقاب، جنگلی کبوتر، گدھ وغیرہ پائے جاتے ہیں جبکہ جانوروں میں کالا ریچھ، جنگلی لومڑی اور لگڑبگھڑ پائے جاتے ہیں۔

ڈونگا گلی......

گلیات کا یہ خوبصورت سیاحتی مقام 8200 فٹ بلندی پر ہے اور ایوبیہ نیشنل پارک کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ یہاں سے نتھیا گلی تین کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ڈونگا گلی میں ماکش پوری ہائیکنگ ٹریک ہے جس کی چوٹی پر پہنچ کر آس پاس دیکھا جائے تو سرسبز پہاڑوں کا نظارہ کسی کے بھی ہوش گم کرسکتا ہے، وہاں موجود چشمے کا شفاف میٹھا پانی بھی ایسا صحت بخش ہے کہ اسے پینے سے بھوک مٹنے کا احساس ہوتا ہے۔