Sunday, February 7, 2016

نجکاری کی جونک

پاکستان سپر لیگ میں ’پاکستان‘ کہاں تھا ؟

جس کا بے چینی سے انتظار تھا، وہ وقت آگیا، پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا باقاعدہ آغاز ہوگیا، مگر بدقسمتی یہ کہ دہشتگردی کے سبب یہ آغاز پاکستان میں نہیں ہوسکا، بلکہ دبئی میں ہوا ہے یہ کیا؟ چلیں حالات کے سبب اگر ایسا ہوا ہے تو ہم معاملات کو سمجھ سکتے ہیں، اور ساتھ ساتھ یہ اُمید بھی کرتے ہیں کہ پی ایس ایل کا اگلا سیزن پاکستان میں ہی ہو تاکہ ویران میدانوں سے مایوس شائقین کرکٹ کو کچھ خوشی میسر آسکے۔

 لیکن جب میں کل پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب دیکھ رہا تھا تو ذہن میں خیال آیا کہ پاکستان میں صرف لیگ کے انعقاد کا مسئلہ تھا، ایسا کہاں لکھا تھا کہ دبئی میں پاکستان کی ثقافت کو روشناس نہیں کروایا جاسکتا؟ مجھے یقین ہے کہ گزشتہ روز جس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اُس کا مرکز پاکستانی عوام ہی ہونگے، لیکن جو کچھ دکھایا گیا، وہ کچھ ایسا تھا کہ کم از کم میں تو اپنے گھر والوں کے ساتھ نہیں دیکھ سکا، آخر اُس میں ایسا کیا تھا اُس کی جھلک آپ بھی دیکھیے۔

حالانکہ پاکستان میں تو سندھ، خیبر پختونخواہ، کشمیر، گلگت بلتستان، پنجاب اور بلوچستان شامل ہیں، جہاں ایک مکمل مشترکہ خاندانی نظام رائج ہے، جس میں ماں باپ، بہن بھائی، سب باہمی رشتے سے جڑے ہوتے ہیں، اور جو کچھ پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب میں میں ’پاکستان‘ کی ثقافت کے نام پر دکھایا گیا وہ کچھ عجیب ہی معلوم ہوا۔

اگر آپ لوگ ایسا سمجھ رہے ہیں کہ میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ تقریب میں داڑھیوں والے آکر نماز کا درس دیتے یا برقع پوش خواتین آکر پردے کے فیض و برکات بیان کرتیں تو آپ بالکل غلط سمجھ رہے ہیں کیونکہ ظاہر ہے وہ ایک انٹرٹینمنٹ کی تقریب تھی اور اس میں کچھ ہلہ گلہ کچھ کھیل تماشا ہونا چاہیے تھا، اگر نہیں ہوتا تو یہ عجب بات ہوتی، مگر یہ ضرور طے ہونا چاہیے تھا کہ وہ ہلہ گلہ کس قسم کا ہونا چاہیے تھا۔
 اگر بات اب بھی سمجھ نہیں آرہی تو میں تھوڑا سمجھانا چاہوں گا۔ دیکھیں یہ لیگ، یہ میچ، یہ کھیل جب ملکی سطح پر ہوتے ہیں تو ان کا مقصد صرف کھیل نہیں ہوتا یہ کسی قوم کے نظریات، ثقافت روایات اور تہذیب کا اظہار ہوتے ہیں۔ یہ دراصل باقی دنیا کو بتانے کا موقع ہے کہ ہم کیا ہیں؟ ہماری روایات کیا ہیں؟
نپولین نے کہا تھا، کسی ملک کی جنگیں اس کے کھیل کے میدانوں میں جیتی جاتی ہیں۔

 کیا ہی اچھا ہوتا یہ تقریب پاکستان میں ہی منعقد ہوتی۔ اب پہلا سوال اٹھے گا کہ سیکیورٹی کے مسائل کے سبب یہ ممکن نہیں تھا، تو اسکا جواب ہے کہ بے شک میچ پاکستان میں نہ رکھے جاتے کم ازکم افتتاحی تقریب تو پاکستان میں کی رکھی سکتی تھی۔ کیا ہماری پولیس ہماری ایلیٹ فورس یا باقی سیکیورٹی ادارے ایک تقریب کی حفاظت نہیں کرسکتے تھے؟ پاکستان میں تو اسکولوں، کالجوں کی بھی سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، لیکن بند تو وہ بھی نہیں ناں؟ فیشن شوز ہوتے ہیں، ماڈلنگ شوز ہوتے ہیں، ریمپ پر واک ہوتی ہے مگر ایک پاکستان سپر لیگ کی سیکیورٹی نہیں ہوسکتی تھی؟

ذرا سوچیں یہ تقریب پاکستان میں ہوتی اس میں پاکستان کے تمام صوبوں کی ثقافت دکھائی جاتی، کشمیری رقص ہوتا، پنجابی لڈی ہوتی، خٹک ناچ ہوتا، بلوچستان کا روایتی وش ملے ہوتا، کیلاش اور چترال کی منفرد تہذیب کی جھلک ہوتی، گلگت بلتستان کا کلاسیکل ادب ہوتا، قصہ گوئی ہوتی تو کیا ہی عمدہ ہوتا۔ مطلب یہ ایک بہت بڑا موقع تھا کہ ایک طرف ہم دنیا میں پاکستان کی شناخت بہتر بناتے اور دوسری طرف ایک مثال قائم کرتے کہ ہماری تہذیب کتنی شاندار ہے

 اور پھر سوچیے جب اس انداز سے تقریب کا اہتمام ہوتا تو کیسے پوری پاکستانی قوم یک دل ہو کر ایک نظر نہ آتی۔ ہلہ گلہ ہوتا، ایک جوش و خروش ہوتا۔ سیکیورٹی کوئی اتنا بڑا مسئلہ تو نہیں، کیا ہوتا جو ایک روز ہماری صرف ایلیٹ فورس کی ڈیوٹی تمام سیاستدانوں کی حفاظت کے بجائےاس تقریب کی حفاظت پر لگادی جاتی۔
لہذا اگر واقعی پاکستان کا بھلا کرنا ہے تو آئندہ ایسی کوئی بھی تقریب کرنی ہو تو پاکستان میں کریں اور اس میں پاکستانی ثقافت کے رنگ دنیا کو دکھائیں۔ 

سیکیورٹی کا مسئلہ ہے تو پولیس کس لئے ہے؟ پولیس نہیں کرسکتی تو پھر فوج زندہ باد۔ یہی غلطی پاکستانی فلم انڈسٹری کے لوگوں نے کی کہ بھارتی ناچ گانے کا بھونڈا چربہ پاکستانی فلموں میں دکھانا شروع کردیا، اگرچہ پاکستان فلم انڈسٹری تو بتدریج کامیابی کی جانب جارہی ہے، لیکن اُس میں بھی دکھایا وہی جارہا ہے جو بھارتی فلموں میں دکھایا جاتا ہے، بس چہروں کا فرق ہے۔ اب ایسا ہی کچھ پاکستان سپر لیگ کے ساتھ ہونے جارہا ہے۔ تو براہ ِ کرم ایسا نہ کیجئے۔ کتے پر بکرا لکھنے سے وہ بکرا نہیں ہوجاتا۔

محمد عثمان فاروق


کتب خانے اور ہم - شاہنواز فاروقی

مسلمانوں کی تہذیب ”الکتاب“ کی تہذیب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی تاریخ کے بہترین زمانوں میں نہ صرف یہ کہ لاکھوں کتب تخلیق کیں بلکہ انہوں نے اپنے گھروں اور بستیوں کو بھی کتب خانے سے آباد کیا۔

ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کے گھر کا تصور کتب خانے کے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہر گھر میں کم یا زیادہ‘ مگر کچھ نہ کچھ کتابیں ضرور ہوتی تھیں۔ مسلمانوں کے بڑے بڑے شہر مثلاً بغداد‘ غرناطہ‘ قرطبہ اور دہلی اور چیزوں کے ساتھ ساتھ کتب خانوں کے لیے بھی مشہور تھے۔ تاتاریوں نے جب بغداد کو تاراج کیا تو انہوں نے بغداد کے مرکزی کتب خانے کو تباہ کردیا اور اس کی ساری کتابیں دجلہ میں بہا دیں۔ مورخین نے لکھا ہے کہ بغداد کے کتب خانے میںکتابوں کا اتنا بڑا ذخیرہ تھا کہ دریا کا پانی کئی ہفتوں تک سیاسی مائل رہا۔

مگر اقبال کے زمانے تک آتے آتے یہ صورت حال ہوگئی تھی کہ اقبال نے شکایت کرتے ہوئے کہا 

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں

اقبال کی اس شکایت کا لب لباب یہ ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی تخلیقی لہر کمزور پڑ گئی ہے اور وہ کتابیں تخلیق کرنے والوں کے بجائے صرف کتابیِں پڑھنے والے بن کر رہ گئے ہیں۔ لیکن ہمارے دور میں مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ مسلمان کتابیں تخلیق کرنے والے کیا کتابیں پڑھنے والے بھی نہیں رہ گئے ہیں۔ چنانچہ ان کے گھروں اور بستیوں سے کتب خانے اور ان کا حسن و جمال اور ان کی معنویت بھی رخصت ہوگئی ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہم دس لاکھ‘ بیس لاکھ‘ پچاس لاکھ‘ ایک کروڑ‘ دو کروڑ اور پانچ کروڑ کے گھر خریدتے ہیں‘ ان مین دنیا کی کئی کئی مہنگی گاڑیاں رکھتے ہیں‘ دنیا کے جدید ترین آلات ہمارے گھروں کی زینت ہوتے ہیں‘ ہمارے ڈرائنگ رومز پر لاکھوں اور بسا اوقات کروڑ روپے صرف کردیے جاتے ہیں مگر ہمارے گھروں میں ایک چھوٹے سے کتب خانہ کی لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ ہماری روح‘ ہمارے دل اور ہمارے دماغ میں موجود ہوتا ہے مگر کتب خانے کے لیے ہمارے وجود میں کوئی جگہ نہیں۔ وہ نہ ہماری روح میں ہوتا ہے نہ ہمارے دل میں اور نہ ہمارے ذہن میں۔ چنانچہ کتب خانہ ہمارے گھروں میں موجود نہیں ہوتا۔

پاکستان میں کتب خانوں کا معاملہ کتنا سنگین ہوچکا ہے‘ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ کراچی پاکستان کا سب سے بِڑا‘ سب سے جدید اور سب سے امیر شہر ہے۔ اس کی آبادی ڈیڑھ پونے دو کروڑ بتائی جاتی ہے مگر اتنے بڑے شہر میں ایک بھی ایسا کتب خانہ نہیں جہاں سے کتاب گھر کے لیے جاری کرائی جاسکے۔

حکیم محمد سعید بڑے علم پرور تھے اور انہوں نے مدینة الحکمت کے نام سے ایک بڑا کتب خانہ بھی قائم کیا مگر مدینة الحکمت اصل کراچی سے اتنی دور واقع ہے کہ وہاں جانے کا خیال تک انسان کو تھکا دیتا ہے۔ شہر میں آٹھ دس یقینا بڑے کتب خانے موجود ہیں مگر ان سے استفادے کے لیے کتب خانہ جانا اور وہیں بیٹھ کر کتاب پڑھنا ضروری ہے اور یہ کام کوئی ریٹائرڈ شخص ہی کرسکتا ہے۔

عام آدمی کی ضرورت ایسے کتب خانے ہیں جہاں سے وہ پندرہ بیس دن یا ایک ڈیڑھ ماہ کے لیے کئی کتابیں جاری کراکے گھر لاسکے اور انہیں گھر پر اپنی سہولت کے مطابق پڑھ سکے۔ لیکن ڈیڑھ پونے دو کروڑ کی آبادی میں ایک کتاب خانہ بھی ایسا نہیں اور اگر کہیں کوئی ایسا کتاب خانہ موجود بھی ہوگا تو وہ کسی مخصوص علاقے میں ہوگا اور اس کی اطلاع کتابوں کے شوقین عام افراد کو نہیں ہے۔

کتب خانوں کے کلچر کے خاتمے نے معاشرے کے افراد کو کتاب اور کتب خانے سے کتنا دور کردیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ معاشرے کے جن طبقات کو کتاب اور کتاب خانے سے سب سے زیادہ قریب ہونا چاہیے وہ کتاب اور کتب خانہ سے اتنا ہی دور کھڑے ہیں۔

ہم جب جامعہ کراچی کے شعبہ ¿ ابلاغ عامہ کے طالب علم تھے تو ہمیں ایک بار جامعہ کراچی کی مرکزی لائبریری پر ایک رپورٹ کرنے کا ”اسائنمنٹ“ ملا۔ ہم لائبریرین کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ جامعہ کراچی کے اساتذہ کا آپ کے کتب خانے سے کیا تعلق ہے۔ کہنے لگے کہ جامعہ کے پچاس‘ ساٹھ فیصد اساتذہ کبھی بھی لائبریری نہیں آتے‘ بیس سے پچیس فیصد اساتذہ لائبریری سے کتب جاری کراتے ہیں مگر انہیں کئی کئی سال تک واپس نہیں کرتے جس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ کتابیں تو لے جاتے ہیں مگر ان سے استفادہ نہیں کرتے۔

 البتہ پانچ سے دس فیصد اساتذہ ایسے ہیں جو پابندی سے لائبریری آتے ہیں‘ کئی کئی کتابیں جاری کراتے ہیں‘ انہیں وقت مقررہ پر واپس کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پرانی کتب کی جگہ نئی کتب جاری کراکے لے جاتے ہیں۔ ہمیں ایک بار جامعہ کراچی کی مرکزی لائبریری کے تہہ خانہ یا  میں جانے کا اتفاق ہوا تو ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں ہزاروں کتب دھول میں اٹی پڑی ہیں اورانہیں گزشتہ پندرہ بیس سال میں کسی نے بھی مطالعے کے لیے طلب نہیں کیا۔

صحافیوں کو اطلاعات کے سمندر میں غوطہ زن گروہ خیال کیا جاتا ہے لیکن عامل صحافیوں کی اکثریت وہ اخبار بھی پورا نہیں پڑھتی جس میں وہ کام کرتی ہے۔ رپورٹر حضرات کا عام طور پریہ حال ہے کہ کرائم رپورٹرز اخبارات میں صرف کرائم کی خبریں پڑھتے ہیں۔ اسپورٹس رپورٹرز صرف کھیلوں کی خبروں کا ”مطالعہ“ فرماتے ہیں۔ تجارت و صنعت کے شعبوں میں کام کرنے والے صرف تجارت و صنعت سے متعلق اطلاعات سے غرض رکھتے ہیں اور سیاسی زندگی کو رپورٹ کرنے والے صرف سیاسی خبروں کے مطالعے کا ”ذوق و شوق“ رکھتے ہیں۔

ہمیں بارہا کراچی پریس کلب کی لائبریری جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ ہم نے اسے یا تو خالی پایا یا یہ دیکھا کہ دو چار صحافی بیٹھے اخبارات و رسائل کا مطالعہ کررہے ہیں۔ شاعروں کی عظیم اکثریت کے بارے میں ہمارا بیس پچیس سال کا مشاہدہ اور تجربہ یہ

بتاتا ہے کہ وہ صرف شاعری پڑھتے ہیں‘ ادب کی دیگر اصناف مثلاً افسانہ یا ناول اور تنقید یا دیگر فنون مثلاً فلسفے‘ نفسیات اور عمرانیات سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی بلکہ وہ ان علوم کے مطالعے کو اپنی شاعری کے لیے ”خطرہ“ سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے سنجیدہ مطالعے کا رخ کیا تو وہ شعر کہنے کے قابل نہیں رہ جائیں گے۔ ان کا شعور اور لاشعورمطالعے کے ”بوجھ“ میں ”دب“ کر رہ جائے گا۔ شاعری کے میدان میں ایک عمر صرف کرنے کے باوجود انہیں یہ معلوم نہیں کہ بڑی شاعری ”بڑے تجربے“ اور ”بڑے علم“ کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

ہم نے اپنے زمانہ ¿ طالب علمی میں بچوں کے رسالے ”آنکھ مچولی“ میں کام کیا ہے۔ وہاں اکثر بچوں کے ایسے خطوط آتے تھے جن میں بچے بتاتے تھے کہ ہمارے والد یا والدین ہم سے بے پناہ محبت کرتے ہیں‘ وہ ہمیں مہنگے اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں‘ وہ ہمیں بہترین لباس اور بہترین غذا مہیا کررہے ہیں مگر وہ ہمیں پانچ یا دس روپے کا رسالہ خرید کر نہیں دیتے کیونکہ وہ اسے سرمائے کا ضیاع اور رسالے کے مطالعے کو فضول سرگرمی سمجھتے ہیں۔ وہ ہم سے کہتے تھے کہ آپ ہمارے والدین کو سمجھائےں‘ انہیں بتائیں کہ رسالہ پڑھنے سے ہمیں نقصان نہیں فائدہ ہوگا۔

زندگی کی ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ جو پڑھتا ہے وہی سوچتا ہے‘ جو سوچتا ہے وہی تخلیق کرتا ہے اور جو تخلیق کرتا ہے وہی قیادت کرتا ہے۔ مسلم دنیا کو پورے عالم کی قیادت کرنی ہے تو اسے شہر اور ٹاﺅن نہیں یونین کونسل کی سطح پر کتب خانے قائم کرنے ہوں گے اور ہمیں گھروں میں دوسری چیزوں کی طرح ایک چھوٹے سے کتب خانے کے لیے بھی جگہ نکالنی ہوگی۔ الکتاب کی تہذیب کتاب اور کتب خانے کی ضرورت اور محبت سے بے نیاز نہیں ہوسکتی۔

شاہنواز فاروقی 

قاتل تعلیم --- شاہنواز فاروقی

امتحانات اور ان کے نتائج کا زمانہ طلبہ کے لیے ہمیشہ سے امیداوراندیشے کا زمانہ رہاہے۔ لیکن ہمارے زمانے تک آتے آتے یہ زندگی اورموت کا مسئلہ بن گیاہے۔ امریکا اور یورپ ہی میں نہیں جاپان اور کوریا جیسے ملکوں میں بھی ہرسال سیکڑوں طلباءامتحان میں اچھے نمبرحاصل نہ کرنے کی وجہ سے خود کشی کرلیتے ہیں یہاں تک کہ امریکا یورپ اور جاپان میں تو اچھے اسکولوں اور اچھے کالجوں میں داخلہ اتنا بڑا نفسیاتی دباﺅ بن چکاہے کہ وہ کروڑوں طلبہ کو نفسیاتی مریض بنادیتاہے۔ جو طلبہ اچھے اسکولوں اورکالجوں میں داخل ہوجاتے ہیں وہ اور ان کے والدین محسوس کرتے ہیں کہ انہیں جنت مل گئی اور جو طلبا اچھے اسکولوں اورکالجوں میں داخل نہیں ہوپاتے وہ اور ان کے والدین خیال کرتے ہیں کہ انہیں جہنم میں پھینک دیاگیاہے۔
پاکستان میں تعلیم کے منظرنامے پر اس حوالے سے بظاہرخاموشی کا راج نظرآتاہے تاہم حالیہ دنوں میں ایسی کئی خبریں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ امتحانات اور ان کے نتائج کے دباﺅنے ہمارے معاشرے میں بھی تعلیم کو قاتل تعلیم بنانا شروع کردیاہے۔ ان خبروں کے مطابق ملک کے کئی علاقوں میں طلبہ نے امتحانات میں اچھے نمبرنہ آنے کی وجہ سے خودکشی کرلی۔

زندگی ایک مستقل امتحان ہے اور اس کا دباﺅ جان لیواہے چنانچہ بچوں کو ابتداءہی سے چھوٹے موٹے امتحانات سے گزرنے اور ان کے دباﺅکو برداشت کرنے کی عادت ہونی چاہیے۔ تعلیم کے دائرے میں امتحانات کا عمل بچوں کو زندگی کے اصل امتحان کے قابل بنانے میں اہم کرداراداکرتاہے چنانچہ امتحانات میں”معمول کا نفسیاتی دباﺅ“ہوناہی چاہیے اس کے بغیربچوں کوپڑھنے اوربہترنتائج پیداکرکے دکھانے پر مائل نہیں کیاجاسکتا۔

لیکن ہمارے زمانے میں کئی ایسے محرکات پیداہوگئے ہیں جنہوں نے امتحانات اور ان کے نتائج کو طلبہ کے لیے غیرمعمولی اوراعصاب شکن بنادیاہے۔
ہمارے زمانے میں ایسے والدین کی بڑی تعداد موجود ہے جو خود اپنے زمانے میں اچھے طالب علم نہ تھے چنانچہ ایسے والدین اپنے بچوں کی امتحانی کارکردگی کواپنی ”ناکامیوں“کا مداوا بنا لیتے ہیں اور وہ بچوں کو امتحانات اور ان کے نتائج کے حوالے سے حدسے زیادہ حساس بنادیتے ہیں۔ ہم نے زندگی میں ایسے والدین بھی دیکھے ہیں کہ ان کے بچے نے کلاس میں دوسری پوزیشن حاصل کی مگر انہوں نے بچے کو اس طرح ڈانٹ پلائی جیسے وہ فیل ہوگیاہو۔ ایسے والدین اصرارکرتے ہیں کہ بچے کو ہرصورت میں کلاس میں ”فرسٹ“ آنا چاہیے۔ اس طرح کے والدین بچے کے نفسیاتی دباﺅ میں اپنا نفسیاتی دباﺅبھی شامل کردیتے ہیں۔
ہمارے معاشرے بالخصوص ہمارے تعلیمی نظام کی ناکامی یہ ہے کہ اس نے امتحانی نتائج کو”پوری ذہانت“ بنادیاہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ امتحانی نتائج طلبہ کی مجموعی ذہانت کا محض ایک حصہ ہیں۔

ہمارے امتحانی نظام میں رٹنے اوررٹے ہوئے کو دہرانے کی استعداد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور رٹنے کا عمل ذہانت کا پست درجہ ہے۔ ذہانت کا اعلیٰ درجہ تخلیق کرنے کی اہلیت سے متعلق ہے۔ ہمارے امتحانی نظام میں طلبہ پورے نصاب کی تیاری نہیں کرتے بلکہ وہ نصاب کے مخصوص حصوں کی تیاری کرتے ہیں اب یہ مقدرکی بات ہوتی ہے کہ طلبہ نے جن سوالات کی تیاری کی ہے وہی سوالات امتحان میں آئے ہیں یا نہیں۔ اکثرایسا ہوتاہے کہ بعض طالب علم 60 فیصد نصاب سے امتحان کی تیاری کرتے ہیں اور سو فیصد پرچہ حل کرلیتے ہیں اس کے برعکس بعض طلبہ 80 فیصد نصاب سے تیاری کرتے ہیں اور وہ 70 فیصد پرچہ حل کرکے آتے ہیں۔ اس عمل میں اصل چیزذہانت نہیں اتفاق ہے۔ جن طلبہ نے زیادہ نصاب پڑھا سوالات کے سلسلے میں ان کا ”تکّا“ نہیں لگا لیکن جن طلبہ نے کم نصاب پڑھ کر امتحان کی تیاری کی سوالات کے سلسلے میں ان کا ”تکّا“ لگ گیا۔

تاریخ عالم پرنظرڈالی جائے تو بڑے لوگوں کی عظیم اکثریت غیرمعمولی امتحانی ذہانت کی حامل نظرنہیں آتی۔ والمیکی سنسکرت کے تین بڑے شاعروں میں سے ایک ہے اور والمیکی ڈاکو تھا۔ لیکن پھرایک واقعے نے اس کی قلب ماہیت کردی اور اس نے رام کی زندگی کو منظم کرنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ آئن اسٹائن کو 20 ویں صدی کا عظم ترین سائنسدان قراردیاگیاہے اور اپنے اسکول کے زمانے میں آئن اسٹائن اوسط درجے کا طالب علم بھی نہ تھا۔ حکیم الامت اور شاعرمشرق کہلانے والے اقبال نے اسکول اور کالج میں کبھی ”ٹاپ“ نہیں کیا۔ سعادت حسن منٹو اردوکے دوبڑے افسانہ نگاروں میں سے ایک ہے اوروہ میٹرک میں اردوکے پرچے میں ایک سے زیادہ مرتبہ فیل ہوا۔

اس سلسلے میں ہمیں اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ انسانوں میں ذہانت اور صلاحیت کے اظہارکی کوئی خاص عمرنہیں ہوتی۔ بعض لوگوں کی ذہانت اور صلاحیت بچپن ہی میں ظاہرہوجاتی ہے لیکن بعض لوگ بیس‘تیس یا چالیس سال کے بعد اپنی ذہانت اور صلاحیت ظاہرکرتے ہیں۔ چنانچہ بچوں کے سلسلے میں بسا اوقات والدین کو انتظارکرناپڑتاہے۔

والدین اور بالخصوص طلبہ کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ امتحانی نتائج بہت اہم ہیں مگر امتحانی نتائج زندگی کا حصہ ہیں پوری زندگی نہیں اوربرے یا کم اچھے نتائج سے زندگی ختم نہیں ہوجاتی اور نہ ہی زندہ رہنے کا جواز فناہوتاہے۔ جن معاشروں میں مذہب ایک مرکزی حکومت کے طورپر موجود نہیں ان معاشروں میں کسی کو یہ بات سمجھانادشوارہے مگر ہمارے معاشرے میں مذہب ہماری زندگی کا مرکزی حوالہ ہے چنانچہ ہمارے یہاں اساتذہ ‘والدین اور ذرائع ابلاغ کو یہ شعور پیدا کرنے میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔

بعض لوگ تعلیم اور امتحانی عمل کو ”کھیل“ بنانے کے خواہش مند ہوتے ہیں لیکن زندگی کھیل نہیں ہے اس لیے اس کے کھیلوں میں ایک طرح کی سنجیدگی اورمعنویت پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن تعلیمی نتائج اتنی سنجیدہ بات بھی نہیں کہ ان کے لیے زندگی ختم کردی جائے۔ ضرورت دراصل ایک ایسے متوازن شعورکی ہے جس میں امتحان اور اس کے نتائج طلبہ کے لیے موت کے خوف کے بجائے ایک چیلنج بن جائیں۔ چیلنج کے اندربھی خوف کا عنصرموجود ہوتاہے مگر چیلنج میں موجود خوف انسان کو متحرک کرتاہے۔ امیددلاتاہے۔ زندہ رہنے اور جدوجہد کرتے رہنے پرمائل کرتاہے۔ ہمارے طلبہ کو اگرخون کی ضرورت ہے تو چیلنج میں موجود خوف کی۔ ویسے بھی علم زندگی دینے کے لیے ہے‘ زندگی لینے کے لیے نہیں۔

شاہنواز فاروقی