Friday, September 19, 2014

سیلاب کا بحران اور طرز حکمرانی کی ناکامی........


حکومتوں کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب قوم سنگین مسائل سے دوچار ہو۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ بحرانوں کی صورت میں دو طرح کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں: (1) ہم بحرانوں میں جو ردعمل دیتے ہیں وہ وقتی ہوتا ہے۔ ہم مسائل کی وجوہات کا تجزیہ کم اور مسائل سے وقتی طور پر نمٹنے کی حکمت عملی پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ (2) ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں وہ کسی نہ کسی واقعہ کے ردعمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ان واقعات سے نمٹنے کے لیے ہمیں قبل از وقت جو ہوم ورک، منصوبہ بندی یا حکمت عملی درکار ہوتی ہے، اس کا فقدان قومی سطح کے اداروں اور حکومتی محاذ پر پایا جاتا ہے۔ یہ عمل ملک میں کمزور حکمرانی، بدعنوانی،کرپشن اور نااہلی پر مبنی نظام کی نشاندہی کرکے ہمیں حالات کی سنگینی، پیچیدگی اور بے ضابطگیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے۔لیکن ریاست، حکومت اور ہمارے انتظامی اداروں کے بقول ملک تیزی سے ترقی اور خوشحالی کا جانب بڑھ رہا ہے۔ 

اسی تضاد کے باعث ملک میں تیزی سے بالادست طبقات اور عام لوگوں میں اپنے اپنے سچ کے درمیان ایک واضح خلیج بڑی ’’بداعتمادی‘‘ کی صورت میں پیدا ہورہی ہے۔ اس کا ایک مظہر حالیہ سیلاب کے بحرانوں میں گھری ہوئی کمزور، نااہل اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل حکومت کی صورت میں دیکھنے کو ملا ہے۔ اگرچہ اس وقت حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کی توجہ کا محور متاثرینِ سیلاب ہیں، لیکن یہ سوال تو پوچھا جانا چاہیے کہ اس سیلاب سے بچائو کے لیے حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر قبل از وقت جن اقدامات کی ضرورت تھی وہ کیوں نہیں کیے گئے؟کیا واقعی ہمارے ادارے اس طرح کی آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ یا عدم جوابدہی اور نگرانی کا کمزور نظام ان کی مؤثر کارکردگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے؟

پاکستان میں حکمرانی کے نظام کا اندازہ محض اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے بقول انھیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں اس قدر شدید ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح ایک بڑے قد کاٹھ کے وفاقی وزیر خواجہ آصف کے بقول یہ قدرتی آفات ہیں اور خدا کی جانب سے آئی ہیں، اس پر ہم کیا کرسکتے ہیں! پنجاب کے وزیر قانون رانا مشہود کے بقول ہم نے جو شاندار انتظامات کیے تھے انھی کی وجہ سے کئی ہزار لوگوں کی زندگیوں کو بچالیا گیا ہے۔ جہاں حکمرانی کا یہ انداز ہو، وہاں کے نظام کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ارباب اختیار اپنی ناکامی، نااہلی و بدعنوانی کو چھپانے کے لیے ’’خدا‘‘ کو ڈھال بناکر بچنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ قدرتی آفات، سیلاب، زلزلے اور دیگر تباہ کاریوں کا آنا فطری ہے، اور یہ واقعات مختلف وجوہات اور عوامل کی وجہ سے دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہوتی ہے کہ آپ نے اپنی اپنی سطح پر ان آفات سے نمٹنے کے لیے کس طرزکے انتظامات کیے ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم انتظامات تو کرتے نہیں اور خدا کو بیچ میں لاکر خود کو بچانے کی کوشش کرکے لوگوں کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ اللہ کا عذاب ہے اور دعا کیجیے۔ 

یعنی جو کام حکومتوں کا ہے اسے وہ کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ لوگوں کو جھوٹی تسلیاں دے کر کہا جاتا ہے کہ یہ جو عذاب آیا ہے خدا کی جانب سے ہے اور وہ ہمارا امتحان لے رہا ہے۔ حالانکہ خدا ظالم نہیں، یہ نظام ظالمانہ ہے، اس لیے یہ سمجھنا ہوگا کہ نظام محض دعائوں سے نہیں چلتے، اس کے لیے کچھ کرکے دکھانا ہوتا ہے، جس میں ہمیں ناکامی اور نااہلی کا سامنا ہے۔
حکومتی سطح پر اس طرح کی آفات سے نمٹنے کے لیے قومی، صوبائی اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیاں قائم کی گئی ہیں، لیکن وہ کوئی اچھی کارکردگی دکھانے سے قاصر ہیں۔ اربوں روپے کی سرمایہ کاری ان اداروں پر ہوچکی ہے ، لیکن نتیجہ نااہلی کی صورت میں سامنے ہے۔ حالت یہ ہے کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے پاس ان اداروں کے اجلاسوں کی صدارت کرنے کا بھی وقت نہیں اور نہ ہی یہ ادارے ان کی ترجیحات کا حصہ نظر آتے ہیں۔

ان اداروں کا آخری سربراہی اجلاس 2012ء میں ہوا تھا۔ اسی طرح 2010ء میں جو بڑا سیلاب آیا اُس سے نمٹنے میں ناکامی، خامیوں یا غلطیوں سے بھی ہماری حکومتوںنے کچھ نہیں سیکھا۔ 2010ء میں پنجاب فلڈ کمیشن رپورٹ میں جن بے ضابطگیوں، خامیوں سمیت مستقبل میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے جن اقدامات کی نشاندہی کی گئی، اس پر پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کچھ نہ کرسکے۔ جسٹس منصور کی سربراہی میں اس کمیشن نے اُن تمام افراد کی نشاندہی کی تھی جو اس سیلاب میں مجرمانہ غفلت کا شکار ہوئے تھے۔ لیکن حکومت نے اس کمیشن کی رپورٹ پر کچھ نہیں کیا، اور جو لوگ اس سیلاب میں تباہی کے ذمہ دار تھے اُن کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے انھیں باقاعدہ ترقیاں دی گئیں۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس رپورٹ پر عملدرآمد نہ کرکے پنجاب کے وزیراعلیٰ نے مجرمانہ کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کیا۔ سیلاب کی آمد پر حکومت کا مؤقف تھا کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ سیلاب آنے والا ہے، اور یہ محض ایک حادثہ تھا… لیکن چیف میٹیرلوجسٹ کے بقول ہم نے جولائی میں ہی صوبائی حکومت کو شدید بارشوں کی نشاندہی کردی تھی، لیکن حکومتی سطح پر ہماری دی گئی وارننگ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سچ بول رہے ہیں یا چیف میٹیریالوجسٹ؟

یہ بات ذہن نشین رہے کہ پنجاب میں پچھلے چھ سال سے میاں شہبازشریف اور مسلم لیگ (ن)کی حکومت ہے۔ یہ سوال تو پنجاب کے وزیراعلیٰ سے ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ کیوں وہ 2010ء میں فلڈ کمیشن رپورٹ پر خاموش رہے؟ اورکن سیاسی وجوہات یا اقربا پروری کی بنیاد پر ذمہ داروں کو حکومتی تحفظ دے کر بچایا گیا؟ ہمارے بعض دوستوں کے بقول پنجاب کے وزیراعلیٰ بڑے فعال ہیں اور حکمرانی کا مضبوط نظام رکھتے ہیں۔ لیکن جب مسائل ابھر کر سامنے آتے ہیں تو ان کے یہ دعوے محض دعوے ہی رہ جاتے ہیں، کیونکہ اصل مسئلہ نظام اور اداروں کو مؤثر بنانے کا ہوتا ہے، لیکن ہمارے حکومتوں کا مسئلہ فوٹو سیشن ہے ۔ شہبازشریف کی نیک نیتی اپنی جگہ، لیکن جس طرح سے انھوں نے پورے نظام کو محض اپنی ذات کے گرد رکھا ہوا ہے، اس سے ان کی حکمرانی کا نظام متاثرہواہے۔ سیلاب کے بعد حکومتی اداروں اور ان کے ماتحت ادارہ جاتی نظام کی اصل حقیقت لوگوں کے سامنے آگئی ہے۔

 اب ایسی صورت حال میں لوگ اچھی حکومت کے ان دعووں کا کیا کریں جو حکومت کرتی ہے! لوگوں کو تو گلہ ہے کہ اس مشکل وقت میں حکومت وہ کچھ نہ کرسکی جس کی وہ ہمیشہ سے تسلیاں دیا کرتی تھی کہ ہم نے لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات کیے ہوئے ہیں۔ جب وقت آتا ہے تو ہماری حکومت اپنی بے بسی کا اظہار کردیتی ہے۔

جہاں تک سیلاب متاثرین کی امداد کا تعلق ہے اس کی تقسیم اور ترسیل کا نظام بھی بڑا غیر مؤثر اور غیر مہذب ہوتا ہے۔ یعنی ہمارے حکمرانی کے نظام پر اس سے زیادہ کیا ماتم کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس امدادی سامان بالخصوص خوراک کی تقسیم کا مہذب اور شفاف نظام جو لوگوں کی عزتِ نفس کو برقرار رکھ سکے، نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ حکمران طبقات کی جانب سے مسلسل مقامی حکومتوں کے نظام اور مقامی طرز حکمرانی کے نظام کو قبول نہ کرنا ہے۔ جب مقامی ادارے فعال ہی نہ ہوں اور یہ سمجھا جائے کہ ہم مقامی حکمرانی کا نظام مرکزی نظام کے تحت چلا کر اچھی حکمرانی کا نظام قائم کرسکیں گے، محض خوش فہمی ہی کہی جاسکتی ہے۔ جس انداز سے لوگوں کی مدد کی جارہی ہے اس سے ان کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کیا جارہا ہے، لگتا ہے یہ متاثرین کی نہیں بلکہ بھکاریوں کی ایک لمبی قطار ہے جن میں بڑی بے دردی سے اشیاء تقسیم کی جارہی ہیں۔ ہماری بیوروکریسی یا انتظامیہ کا نظام بھی اس قدر ناقص ہے کہ اس پر دکھ ہوتا ہے۔ ہماری سرکاری مشینری کی جو حالت ہے اس میں وہ کیسے ایک مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے! اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اداروں کے درمیان نگرانی کا نظام بھی کمزور ہے ۔ ایک ایسا نظام جو اپنی ساکھ مجروح کرچکا ہے، ہم اس سے کیوں امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ قومی اور لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے!

وہ تو بھلا ہو مقامی تنظیموں اور خدمت کا جذبہ رکھنے والوں کا جو حکومت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت آگے آتے ہیں۔
جماعت اسلامی کی حمایت سے چلنے والی الخدمت فائونڈیشن بھی اسی محاذ پر سرگرم ہے۔ الخدمت فائونڈیشن بہت عرصہ سے پاکستان میں آنے والے ہنگامی حالات یا آفات میں اپنی خدمت کے ساتھ میدان میں موجود رہتی ہے۔ اس کے کارکن واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں جو اس تباہ کاری میں رضاکارانہ بنیاد پر وہ کام کرتے ہیں جو بنیادی طور پر ریاست یا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن ہماری ریاست اور حکومت اپنی ذمہ داری سے غافل ہوتی ہے۔ الخدمت فائونڈیشن کے ترجمان شعیب ہاشمی کے بقول ان کے ادارے نے فوری طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات کیے ہیں اور 35میڈیکل کیمپ، 15موبائل میڈیکل کیمپ، 5فیلڈ ہسپتال، 300 ٹینٹ اور 1000ترپال کی مدد سے اب تک 43,800 سیلاب متاثرین کی مدد کی ہے، اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس لیے مخیر حضرات کو چاہیے کہ وہ سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کرنے کے لیے اپنے مقامی الخدمت کے دفتر سے رجوع کریں، تاکہ آپ کی امداد متاثرین کے دکھوں اور محرومیوں کا فوری طور پر ایسا مداوا کرسکے کہ وہ دوبارہ اپنی اصل حالت میں آسکیں۔

پچھلی بار بھی اور اِس بار بھی ہم نے سیلاب میں مقامی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سیاسی طاقت ور لوگوں کی انتظامی امور میں مداخلت کے مناظر دیکھے ہیں۔ افراد اپنی زمینوں اورعلاقوں کو بچانے کے لیے اپنے سیاسی اثرو نفوذ کی بنیاد پر مقامی سطح پر شفاف اور منصفانہ فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ حالانکہ اس طرز کے فیصلوں کے لیے انتظامی اور پروفیشنل ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن یہ لوگ ان ہنگامی حالات میں بھی اداروں پر اختیار کو بالادست کرکے مزید مسائل پیدا کرتے ہیں۔ 2010ء کی فلڈ کمیشن رپورٹ میں بھی ایسے لوگوں کی نشاندہی کی گئی تھی جو اپنی سیاسی طاقت کی بنیاد پر مقامی انتظامیہ کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، لیکن ان کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی دبائو اور تعلقات کے باعث نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب مقامی طاقت ور سیاسی لوگوں میں احتساب کا ڈر ختم ہوجائے تو وہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حالیہ سیلاب میں بھی جھنگ شہر اور اٹھارہ ہزاروی کے بند توڑنے کے معاملے پر ایک مقامی حکومتی ایم این اے اور ایم پی اے کے درمیان جو توتکار ہوئی تھی، وہ بھی میڈیا میں آئی ہے جس سے ظہار ہوگیاکہ سیاسی لوگ کیسے محض اپنے مفادات کے لیے یہ سب کچھ کرتے ہیں، جس کا نقصان قومی سطح پر ہوتا ہے۔

اسی طرح ہماری سیاسی قیادت، پارلیمنٹ اور جمہوری ڈھانچہ سب کو بے نقاب کردیا ہے ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کسی نے بھی حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا رونا نہیں رویا اور نہ ہی ایسی کوئی حکمت عملی ترتیب دی جس سے اس بحران سے مقامی سطح پر نمٹا جاسکے۔ جب ہم مقامی سطح پر ایسے کوئی ڈھانچے ہی نہیں بنائیں گے ۔ہمارے ادارے فعال نہیں اس کی وجہ ہماری قومی سیاست کی خرابیاں ہیں۔
یہ مسئلہ محض سیلاب کی تباہ کاری تک محدود نہیں، بلکہ ہمارا حکمرانی کا پورا نظام سب کے لیے وبالِ جان بنا ہوا ہے۔ لوگ بری حکمرانی سے نجات چاہتے ہیں، لیکن کیسے؟ یہ خود ایک بڑا سوال ہے۔ کیونکہ جو سیاسی قوتیں اس فرسودہ نظام سے ہمیں باہر نکال سکتی ہیں، وہ خود اس فرسودہ نظام کا حصہ بن کر اقتدار کی سیاست کررہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں لوگوں میں حکومتوں پر غصہ ہے، وہیں قومی سیاسی قیادت پر بھی ہے جو جمہوریت کو بنیاد بناکر عوام دشمن استحصالی نظام کو طاقت فراہم کررہی ہے۔ اس سیلاب میں بھی ماسوائے چند مذہبی جماعتوں کے باقی سب جماعتیں محض زبانی جمع خرچ کررہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں خلیج بڑھتی جارہی ہے۔ جب تک ہم اپنے حکمرانی کے نظام کو چیلنج نہیں کریں گے، اور اس میں ہنگامی اور ایمرجنسی بنیادوں پر جزوقتی اور کل وقتی منصوبہ بندی کرکے اداروں میں جوابدہی کے تصور، نگرانی کے مؤثر نظام، درست ترجیحات سمیت عوام کی شمولیت کے عمل کو یقینی نہیں بنائیں گے، مؤثر حکمرانی کا نظام نہیں چلاسکیں گے۔ جس حکمرانی کے جو نظام میں میرٹ سے زیادہ تعلقات کارفرما ہوتے ہیں، وہ لوگوں میں کبھی بھی اپنی ساکھ برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اس وقت بھی ہمارا حکمرانی کا نظام اپنی سیاسی، اخلاقی اور انتظامی ساکھ کے بحران کا شکار ہے، لیکن حکمران ابھی بھی اسی طرح کی غفلت کا شکار ہیں، جیسے ماضی میں رہے ہیں۔

سلمان عابد

Thursday, September 18, 2014

یہ معاملہ محض وی آئی پی پروٹوکول کا نہیں ہے........




کراچی میں پرواز کی اڑھائی گھنٹے تاخیر کے پیچھے دو وی آئی پی تھے۔ ایک پیپلزپارٹی کے سینیٹر رحمن ملک دوسرے مسلم لیگ کے ایم این اے رمیش کمار۔ اصل میں پرواز رحمن ملک کے لئے لیٹ کی گئی، رمیش کمار نے فائدہ اٹھانا چاہا اور رحمن ملک کا ہمراہی بننے کی کوشش میں شریک رسوائی ہو گئے۔ دونوں کو پتہ نہیں تھا کہ طیارے کے مسافر معمول کے مسافر نہیں، کسی بااثر ادارے کے لوگ ہیں جو پرواز کی ’’وی آئی پی‘‘ تاخیر سے برہم ہوگئے اور دونوں کو جہا زپر سے اتار دیا۔

یہ معاملہ محض وی آئی پی پروٹوکول کا نہیں ہے۔ وی آئی پی پروٹوکول میں یہ کہاں لکھا ہے کہ طیارہ اڑھائی گھنٹے کے لئے روک کے رکھا جائے۔ وی آئی پی پروٹوکول ایک لعنت ہے، ایک ظلم ہے لیکن یہ تو بدانتظامی کا بھی کیس ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ پی آئی اے جیسا قومی ادارہ اب دیہاتی روٹوں پر چلنے والی ویگن سروس بن گیا ہے۔ بجا طور پر پی آئی اے کی تباہی کا ذمہ دار مشرّف ہے جس نے ہر دوسرے ادارے کی طرح اس ادارے کو بھی تباہ کیا۔ وہ اسی ایجنڈے پرتو آیا تھا۔ مشرف کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت آئی جو چاہتی تو اس ادارے کوبحران سے نکالنے کی کوشش کرتی لیکن اس نے تباہی میں اپنا حصّہ ڈالا تاکہ اسے اونے پونے بیچ کر اپنی پسندیدہ ایئر لائن کو اس کی جگہ دی جائے۔ اندھیر گردی یہ ہے کہ رحمن ملک کو جہاز رکوانے کی پرانی عادت ہے اور پی آئی اے میں اس کے کئی نیاز مند افسر اب بھی موجود ہیں، انہی میں ایک ڈائریکٹر ایئرپورٹ سروسز ہے جس کے حکم پر جہاز روکا گیا۔ اسے تو کسی نے کچھ نہیں کہا لیکن دو غیر متعلّق جونیئر افسر معطل کر دیئے گئے۔

بعض صحافتی حلقے اور صورت حال سے بے خبر فیس بک پر تبصرے جڑنے والے کچھ افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام جاگ اٹھے ہیں۔
’’لا علمی‘‘ کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے۔

عوام ہوائی جہازوں پر سفر نہیں کرتے اور یہ احتجاج کرنے والے مسافر تو معمول کے فضائی مسافر بھی نہیں تھے بلکہ ایلیٹ آف دی ایلیٹ کلاس کے لوگ تھے۔ انہوں نے احتجاج اس لئے نہیں کیا کہ یہ ان کا حق تھا۔ بلاشبہ حق تھا لیکن حق اور بات ہے‘ اختیار اور بات۔ حق تو عوام کو بھی ہے لیکن ان کے پاس اسے استعمال کرنے کااختیار نہیں ہے۔ ان بااثر افراد کے پاس حق استعمال کرنے کی طاقت تھی جو انہوں نے استعمال کر لی۔ رحمن ملک اور رمیش کمار سے جو ہوا‘ بالکل ٹھیک ہوا۔ وی آئی پی حضرات لاشعوری طور پر خود کو قانون اور ضابطے سے اونچا سمجھتے ہیں، نیچے رہنے والے لوگ انہیں قانون کی یاد نہیں دلا سکتے، رحمن ملک اوررمیش کمار کو یہ بات یاد دلانے والے خود انہی جیسے اونچے (یا شاید ان سے بھی اونچے) لوگ تھے۔ فیس بک کلب کی یہ خوش فہمی ہے کہ عوام جاگ اٹھے ہیں۔ پاکستان کے طاقتور حلقوں نے ایسے فول پروف بندوبست کر رکھے ہیں کہ عوام بیدار نہیں ہو سکتے۔ عوام کا واحد اختیار اس ملک میں الیکشن کے ذریعے اپنی پسند کے لوگوں کو جتوانا ہے اور سب دیکھ رہے ہیں کہ طاقتور سکرپٹ رائٹر ان سے یہ حق چھیننے پر بھی تل گئے ہیں۔ بدقسمتی ان طاقتوروں کی یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے پلان پر عمل کے لئے دو نالائق اور ہونّق جوکروں کا انتخاب کر ڈالا جو اپنی جگ ہنسائی اور اپنے آقاؤں کی ’’عزّت افزائی‘‘ کے سوا کچھ کمائی نہیں کر سکے۔
__________________________
وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سیلاب زدگان کے حالات دیکھنیجہاں جہاں بھی جاتے ہیں۔ انہیں گو نواز گو، گو شہباز گو کے نعروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ایک نئی صورتحال ہے جس کا تجربہ انہیں ہو رہا ہے۔

ضروری نہیں کہ سارے ہی متاثرین یہ نعرے لگاتے ہوں لیکن یہ سوچنا تو ضروری ہے کہ متاثرین کا ایک حلقہ یہ نعرے کیوں لگا رہا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ حکومت کی امداد ان لوگوں تک بروقت نہیں پہنچی، اس کا غصّہ ہے اور اس سے زیادہ غصّہ اس بات کا کہ سیلاب سے بچانے کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔
پورا بندوبست تو کوئی بھی حکومت نہیں کر سکتی لیکن پنجاب میں معاملہ کچھ اور ہوا۔ پنجاب حکومت جتنا انتطام کر سکتی تھی، وہ بھی نہیں ہوا جس کی وجہ یہ ہے کہ خزانے کی بھاری رقوم میٹرو بس جیسے بے کار، بے فائدہ بلکہ نقصان دہ منصوبوں پر لگا دی گئیں، سیلاب سے بچانے کے لئے کوئی رقم بچی ہی نہیں۔ جیسے سکولوں اور ہسپتالوں کے لئے بھی نہیں بچی۔

اور وی آئی پی کلچر بھی ہے۔ وزیراعلیٰ کے ہاتھوں مدد ملے گی۔ یہ کہہ کر حکّام نے کئی جگہ پر لوگوں کو زبردستی صبح سے بٹھائے رکھا اور وزیراعلیٰ کئی گھنٹے بعد پہنچے۔ سیلاب سے تباہ حال لوگ پھر کیا کرتے اگر گو گو کے نعرے بھی نہ لگاتے۔ وزیراعلیٰ سچ کہتے ہیں کہ وہ سیلاب سے متأثر ہونے والوں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے لیکن یہ بات وہ لاہور میں بھی بیٹھ کر کہہ سکتے تھے۔ ان کے دوروں پر جو رقم اٹھتی ہے‘ وہ متأثرین کی امداد پر کیوں نہیں لگ سکتی۔ فوٹو چھپوانے کے اور بہت سے معقول موقعے ملتے رہیں گے۔
سیلاب زدگان کی مدد پر سچ مچ توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کی کمی ہے۔ وزیراعلیٰ کے دوروں کا کوئی فائدہ نہیں۔ نااہل یا ڈرے ہوئے افسر جعلی امدادی کیمپ لگاتے ہیں جو دورہ پورا ہوتے ہی اٹھا لئے جاتے ہیں۔ لاہور ہی میں بیٹھ کر انتظام بہتر کریں تو خرچہ بھی کم ہوگا اور انتظام بھی ٹھیک ہوگا۔ افسروں کو اس طرح ڈرا کر رکھیں گے تو وہ جعلی کیمپ نہیں لگائیں گے تو کیا کریں گے۔ نیز مناسب ہے کہ کسی ماہر روحانیات کی خدمات حاصل کی جائیں جو وزیراعلیٰ ہاؤس کا ’’روحانی معائنہ‘‘ کر کے یہ معلوم کرے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس ہاؤس میں جو بھی آتا ہے‘ وہ باتصویر دوروں پر سارا زور لگا دیتا ہے ۔ ترکی کے وزیراعظم (اب صدر) اردگان نے اپنی حکومت کے15برسوں میں اتنی تصویریں نہیں چھپوائی ہوں گی جتنی پنجاب کا (کوئی بھی) وزیراعلیٰ ایک مہینے میں چھپوا دیتا ہے۔ پھر بھی ترکی کا بچّہ بچّہ اردگان کی تعریفیں کرتا ہے اور یہاں گو گو کے نعرے لگتے ہیں۔ روحانی تشخیص کے بعد اس ’’وجہ‘‘ کو دور کرنے کی تدبیر کی جائے۔ امید ہے فائدہ ہو گا۔
__________________________
ڈی چوک کے فیشن شو کا آرگنائزر‘ رنگیلا بڑے میاں عرف کپتان خان ’’امپائر‘‘ کی انگلی سے مایوس ہو چکا ہے‘ اسی لئے اب عدلیہ سے اپیلیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ وہی عدلیہ جسے وہ کسی کھاتے میں لکھتا ہی نہیں تھا‘ اب اس کی امیدوں کا مرکز بن گئی ہے لیکن عدلیہ امپائر والا کام تو کر ہی نہیں سکتی۔ امپائر کا کام کیا تھا‘ وہ کپتان اور جو کر مولوی دونوں بار بار بتا چکے کہ امپائر آئے گا اور دونوں کو بیک وقت وزارت عظمیٰ کی گدّی پر بٹھا دے گا۔ عدلیہ یہ کام کیسے کر سکتی ہے۔ بے کار اپیلوں کا کوئی فائدہ نہیں۔مولوی نے تو چیف جسٹس سے لے کر صوبائی وزیروں تک کی فہرست بنا لی تھی۔

کپتان نے عدلیہ سے اپیل بھی دھمکی کے انداز میں کی ہے۔ کہا ہے عدلیہ مداخلت کرے، ورنہ خانہ جنگی ہو جائے گی۔یہ دھمکی نہیں ’’کپتان بھبکی ‘‘ ہے۔ خانہ جنگی کا خطرہ تھا، اب نہیں رہا یا بہت کم ہوگیا۔ سکرپٹ رائٹرز ناکام ہوگئے اگرچہ کپتان اور مولوی اپنے خاص بلوائیوں کو رازداری سے اب بھی یہی بتاتے ہیں کہ مایوس نہیں ہونا‘ نومبر تک امید باقی ہے۔ نومبر آنے میں ایک ماہ بارہ دن ہیں اور 14 اگست کو گزرے ایک مہینہ سے زیادہ ہو گیا۔ یہ مہینہ خانہ جنگی کے بغیر گزر گیا، ستمبر کے باقی بارہ دن اور پھر اکتوبر بھی امن سے گزر جائے گا۔ خانہ جنگی کے لئے ان دونوں آلہ ہائے فساد نے سوادِاعظم کے جن علماء سے رابطہ کیا، سب نے کورا جواب دے دیا۔ خدا نے چاہا تو نہ خانہ جنگی ہوگی نہ چینی سرمایہ کاری رکے گی۔ بلوچستان پاکستان سے الگ ہوگا اور نہ صوبہ خیبر کا آدھا حصّہ براستہ افغانستان بھارت کو دینے کا خواب پورا ہو گا، جیسا کہ حافظ سعید کے بیان سے بھی اشارہ ملتا ہے۔
انقلاب ’’سرخی‘‘ مانگتا ہے کوئی مولوی اور کپتان کو بتا دے کہ انقلاب لپ سٹک کی لالی سے آتا ہے نہ بکرے کے خون کی سرخی سے۔

عبداللہ طارق سہیل
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات 

VIP Protocol in Pakistan

Hundreds of thousands left homeless by Pakistan floods








Hundreds of thousands left homeless by Pakistan floods

Wednesday, September 17, 2014

’جب پانی ہمارا تعاقب کر رہا تھا‘......


سات ستمبر اتوار کی دوپہر کو جنوبی سرینگر کے علاقے آلوچہ باغ میں خوف اور بےیقینی کا ماحول تھا۔
میں گھر کے باہر بچاؤ کی سبیل سوچ ہی رہا تھا کہ پانی کا ایک ریلا ہماری کالونی میں برق رفتاری کے ساتھ چلا آیا۔ میرے چیخنے پر میری اہلیہ اور بیٹی باہر نکلے تو میں نے کہا، ’بھاگو!‘ پانی گویا ہمارا تعاقب کر رہا تھا۔
 
دروازے تک پہنچنے کی دیر تھی کہ صحن میں گھٹنوں تک پانی بھر گیا۔ کچھ لوگ گاڑیوں میں بال بچوں سمیت بھاگنے لگے مگر انھیں اُلٹے پاؤں لوٹنا پڑا کیونکہ دوسری جانب سے بھی سیلابی ریلا آلوچہ باغ کی طرف آ رہا تھا۔
 
اس بستی میں مسلمانوں کے علاوہ سکھوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ پڑوسی علاقے مہجور نگر میں گگلن کوہلی نامی ایک تاجر طغیانی کی نذر ہو چکا تھا۔ اس کی لاش آخری رسوم کے لیے آلوچہ باغ لائی گئی لیکن پانی لاش کو چتا سمیت بہا لے گیا۔ بچوں کی چیخ پکار اور افراتفری کے عالم میں ہم سب نے قریب ہی واقع پانچ منزلہ سکول میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔
پانچ منزلہ منٹوسرکل سکول کی آخری منزل پر ایک بڑے ہال میں ہم نے چار راتیں گزاریں۔ مسلمانوں کے 11 اور سکھ فرقے کے دس خاندان اپنے گھروں کے قریب ہی واقع اس اونچی عمارت میں محصور ہو کر رہ گئے۔ ان میں بچے، عورتیں اور عمررسیدہ افراد بھی تھے۔ سب لوگ خالی ہاتھ آئے تھے، ظاہر ہے طغیانی سے فرار کے وقت جان بچانا سب لوگوں کی اولین ترجیح رہی تھی۔ جان تو بچی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اب کھائیں گے کیا؟
پہلی رات تو باتوں باتوں میں بیت گئی۔ صبح ہوئی تو سب کے چہرے فق پڑے تھے۔ جو بھی باہر جھانک کر دیکھتا رو پڑتا۔ کالونی آب آب تھی۔ پانی کی سطح سکول کی دیوار پار کر چکی تھی۔ لیکن اب پانی میں وہ بلا کی طغیانی کا زور نہیں تھا بلکہ ایک خاموش مگر خوفناک ٹھہراؤ تھا۔
میری 13 سالہ بیٹی تابندہ انجم کئی بار پوچھ چکی تھی: ’پاپا پانی کب اُترے گا؟‘ اس روز فضا میں فوج کے ہیلی کاپٹروں کی گونج تھی۔ ہم نے سُرخ کپڑے لہرائے لیکن ہیلی کاپٹر پاس میں ہی واقع فوجی کیمپ میں کھانے کے پیکٹ گرا کر چلے جاتے تھے۔
ایک سکھ ساتھی نے کہا: ’ہمارا مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ بچوں کا ہے۔‘ میں نے اثبات میں سر تو ہلایا، لیکن اندر سے گویا میں کہہ رہا تھا کہ’جناب مسئلہ سب کا ہے۔‘

دوسری رات کو پہلی رات کے مقابلے ہال میں خاموشی تھی۔ بچے اب شرارتیں نہیں کر رہے تھے بلکہ غیر متوقع طور پر دیواروں کے ساتھ ٹیک لگائے اپنی اپنی سوچوں میں گُم تھے۔ بڑے بھی نڈھال تھے۔ بے بسی کے لہجے میں تابندہ نے اپنی بھوک کی نمائندگی یوں کی: ’اب تو مچھر بھی نہیں کاٹتے۔‘
تیسری صبح باہر جھانکا تو پانی کی سطح کچھ کم ہوئی تھی لیکن خوراک کا مسئلہ اپنی جگہ پر برقرار تھا۔ اب بچے اور بڑے دونوں اس کوشش میں تھے کہ کچھ نہ کچھ کرنا ہے۔ ہیلی کاپٹروں کو لال رومال دکھانے اور سیٹیاں بجانے کی تمام ترکیبیں ناکام ہوچکی تھیں۔
اسی اثنا میں دوپہر کو حکومت ہند کی نیشنل ڈزاسٹر ریسپانس فورس یا این ڈی آر ایف کی ایک مخصوص کشتی سکول کے صحن میں نمودار ہوئی۔ اس میں لائف جیکٹس پہنے کچھ افسر اور ایک ادھیڑ عمر کشمیری شہری بھی تھا۔
کشتی ابھی داخل ہی ہو رہی تھی کہ ہمارے ایک ساتھی فاروق احمد نے خوش امید لہجے میں کہا: ’میں تو کہہ رہا تھا کہ حکومت ہم کو تنہا نہیں چھوڑے گی، دیکھا آ گئی نا کشتی۔‘
کشتی سے جب یہ کشمیری شخص اُترا تو اس نے ہمارے درمیان موجود ایک نوجوان کو گلے لگایا اور زار و قطار رونے لگا۔

۔۔کشتی پر گھروں سے کھانے کا سامان اور گیس کے سیلنڈر لائے گئے
اس نوجوان کا نام عادل ہے اور وہ سکول کی نجی سکیورٹی ٹیم کا رکن ہے اور یہاں اس کشتی میں پہنچنے والا شخص فاروق احمد اس کا باپ۔ دراصل فاروق وسطی کشمیر کے بیرواہ گاوں سے فوج کی مدد لے کر اپنے بیٹے کی تلاش میں آیا تھا۔

سب لوگ باپ بیٹے کے ملنے پر خوش تھے۔ عادل کو اسی کشتی میں واپس جانا تھا۔ ایک سکھ ساتھی نے ’این ڈی آر ایف‘ اہلکاروں سے منت سماجت کی کہ فاروق اور اس کے بیٹے کو واپس لے جانے سے پہلے وہ کشتی میں گھروں سے خوراک لانے میں ہماری مدد کریں۔ درخواست قبول ہوئی تو 50 منٹ کے عرصے میں ہی تالیوں اور سیٹیوں کے بیچ اسی کشتی میں گیس سیلنڈز، ستو اور ہر طرح کی غذائی اجناس سکول پہنچ گئیں۔
خواتین نے سبزی صاف کی، ایک سکھ ساتھی بلجندر سنگھ نے کھانا پکانے کی ذمہ داری لی۔ جاوید اور میں نے تین دیواروں سے ہوتے ہوئے ایک مکان کی چھت پر لگے ٹینک سے پانی لانے کا ذمہ لے لیا۔ بھوک تو گویا صرف اس احساس سے مٹ گئی کہ اب کھانا ممکن ہے۔

دو راتیں ہم اندھیرے میں گزار چکے تھے، لیکن اس بار عشائیے کی محفل طے تھی۔ موبائل فونز کی روشنیوں سے جیسے تیسے گزارا ہوا۔ ایک ہی دستر خوان پر سکھ اور مسلم خاندانوں کے بچوں اور بڑوں نے جس بھائی چارے اور رواداری سے کھانا کھایا، اس نے پل بھر کے لیے سیلاب زدگی کے احساس کو ہی مٹا دیا۔
اگلے دو روز تک میں صرف افواہوں کی تردید کرتا رہا۔ ہمارے پاس باہر کی خبریں جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ ریڈیو نشریات اور ٹیلی فون کی سہولت پورے کشمیر میں ٹھپ تھی۔ اسی دوران جنوبی کشمیر کے بجبہاڑہ قصبہ سے دیوندر سنگھ نامی ایک پولیس اہلکار آٹھ گھنٹے کا پیدل سفر کرتے ہوئے سکول آن پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ پورے کشمیر میں مکان تاش کے پتوں کی طرح گر رہے ہیں: ’میں نے راستے میں درختوں کے ساتھ لاشیں دیکھیں۔‘

تباہی اور بربادی کی چشم دید داستان سن کر سب لوگ مایوس ہوگئے۔ پھر ہماری پناہ گاہ میں کئی لوگ آئے۔ ایک صاحب نے آ کر دلاسہ دیا کہ ہلاکتوں کی تعداد کسی کو نہیں معلوم، البتہ تباہی اس قدر وسیع ہے کہ کشمیر اگلے 50 برس تک ہوش میں نہیں آئے گا۔
بہرحال پانی جب کمر کی سطح تک نیچے آ گیا تو ہم لوگوں نے گھروں کی خبر لینے پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد سب لوگ زندگی کے بکھرے تار سمیٹنے میں جُٹ گئے اور یہ کوشش ہزارہا دشواریوں کے باوجود جاری ہے۔

ریاض مسرور