Friday, October 31, 2014

’’برگر بچے اورمسئلہ کشمیر‘‘.......


مجھے اسلام آباد کے پوش ایریے میں ایک کلر فل بینر نظر آیاجس پر’ یوتھ‘ اور’ کشمیر ‘کے الفاظ ساتھ ساتھ پڑھ کے میں بے اختیار گاڑی کو سڑک کی سائیڈ پر کھڑنے پر مجبور ہوگیا تاکہ تفصیل سے اس بینر کو پڑھ سکوں۔ اس بینر پر کشمیر کے لیئے کام کرنے والے کسی یوتھ فورم کی طرف سے اسلام آباد کے رہائشیوں کو ایک کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

کانفرنس اور فورم کا نام مجھے کافی دلچسپ لگا اور مجھے شوق پیدا ہوا کہ میں اس کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم کروں، دیئے گئے نمبر پر رابطہ کیا تو ایک مہذب اور نرم لہجہ میرے کانوں میں پڑا اور بولنے والے نوجوان نے انتہائی شستہ اردو میں اپنا تعارف کروانے کے بعد مجھ سے میرا نام پوچھا، میں نے اپنا تعارف کروانے کے بعد اس نوجوان سے کانفرنس کی تفصیلات معلوم کیں اور فورم کے آفس کا ایڈریس معلوم کر کے آفس پرنچ گیا، وہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آفس ورک میں مصروف تھے،ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جنہیں عرفِ عام میں’ ممی ڈیڈی یا برگر‘کہا جاتا ہے۔

فون پر بات کرنے والے نوجوان نے آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا اور میرے سوال پر جب اپنے فورم کے ورک ایریاز پر روشنی ڈالی تو میں حیران رہ گیا اور سوچنے لگا کہ ان برگر بچوں کو کشمیرجیسے سنجیدہ موضوع میں ایسا کیا نظر آیا جو یہ یہاں کام کرنے چلے آئے؟میں دل کی بات زبان پر لایا تو مجھے بتایا گیا کہ ہم کشمیر کو ایک سنجیدہ اور روایتی طریقے سے پیش کر نے کی بجائے امن ومحبت کے ساتھ ایک دلچسپ اور مختلف زاویے سے پاکستان اور کشمیر کی یوتھ اور دنیا کے سامنے لا رہے ہیں کیوں کہ مسئلہ کشمیر کے پیچھے چلے جانے کی وجہ ہی یہی ہے کہ اسے بورنگ اورافسردہ تھیمز کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا ہے، مجھے فورم کی تفصیلات پر مشتمل لٹریچر دیا گیا جو میں لے کر واپس آ گیا۔
گھر پہنچ کر میں یہ سوچتا رہا کہ ہمارے معاشرے میں ممی ڈیڈی اور برگر بچوں کے بارے میں کتنا غلط تاثر موجود ہے کہ وہ بس شغل میلہ اورسیر سپاٹا کرنا ہی جانتے ہیں، انہیں انگریزی بولنے اورفیشن کرنے کا کریز ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن وہاں معاملہ الٹ تھا،اتنی پُرجوش یوتھ میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی اور وہ بھی کشمیر جیسے مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے جو خطے کا سب سے اہم مسئلہ ہے،میرا دل یقین سے بھر گیا کہ ایسے نوجوان جس ملک میں ہوں اسے کوئی کسی بھی میدان میں پیچھے کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ ایسے نوجوان کسی بھی ملک کا وہ سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں جسے کبھی زوال نہ ہو، بس انہیں مثبت انداز میں استعمال کر نے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس خطے کے سب سے اہم مسئلے میں نوجوانوں کی دلچسپی ایک انتہائی حوصلہ افزاء پہلو ہے، ان کا کام قابلِ ستائش ہے اور ہر نوجوان کو ان کا ساتھ دینا چاہیئے کیوں کہ اس خطے کی ترقی کا راز مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے، ان نوجوانوں کومیرا مشورہ ہے کہ وہ ہندوستان، پاکستان اور آزاد و مقبوضہ کشمیر کی یوتھ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کریں اور مل کر اس مسئلے کے حل کے لیئے کام کریں کیونکہ ہم پرلے ہی چار جنگیں لڑ چکے ہیں اور اب خطہ مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، مسئلہ کشمیر ایک ایٹمی جنگ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
مسئلہ کشمیر کا حل شملہ معاہدے سے ہو یا اقوام متحدہ میں پیش کردہ قرارداد سے ، دونوں ملکوں کو سنجیدگی اورصبر سے کام لینا ہوگا اور کسی نہ کسی معاملے میں لچک دکھانے کی ضرورت ضرور پیش آئے گی ، ہندوستان، پاکستان اور آزاد و مقبوضہ کشمیر کی یوتھ کو اس وقت آگے بڑھ کر اس طرح کی کانفرنسوں اور سیمینارز کا انعقاد کروانے کی ضرورت ہے جو دونوں حکومتوں کو امن واستحکام اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ابھارے اور ان پر مسئلے کے حل کیلئے دباؤ ڈالے تاکہ دونوں طرف سے سنجیدہ کوششوں کی شروعات ہو سکیں۔
موجودہ پاکستانی حکومت کے اقدامات قابلِ ستائش ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو بھی لائن آف کنٹرول پر فائرنگ بند کرہوئے مسئلے کو مذاکرات کی ٹیبل پر آنا ہوگا اور میری ناقص رائے میں یہی ایک حل ہے جو خطے کے معاملات کی بہتری کا بھی سبب بن سکتاہے ۔

محمد حسان

تھرکے دورافتادہ گاؤں.......جہاں موت کا رقص جاری ہے


اپنی جھگی کی دہلیز پر بیٹھی سیاہ آنکھوں میں آنسو چھپائے گھاگھرا کرتی پہنے وہ اپنے تین سالہ بیٹے کو گود میں لئے نجانے کس کی راہ تک رہی تھی۔ خوف اس کی آنکھوں سے چیخ رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا بیٹا اب نہیں بچے گا۔وہ خود بھی بھوکی اورپیاسی تھی لیکن اسے اپنی بھوک کی نہیں بلکہ اپنے بیٹے کے بے حرکت جسم کی فکر تھی۔پچھلے ایک سال میں اس گاؤں کے کتنے ہی بچے دم توڑ گئے اورجو باقی ہیں انہیں بھی موت اپنی آغوش میں لینے کیلئے بیتاب ہے۔ اسے یقین تھا کہ اس کا بیٹا بھی مر جائے گا۔ کیسی قیامت ہے ایک ماں خود ہی اپنے بچے کو موت کی آغوش میں دینے کے لیے وقت کا انتظار کررہی تھی اورپھرچند گھنٹوں بعد اس کا بچہ مر گیا۔

یہ کہانی ہے تھرکے دورافتادہ گاؤں کی ہے۔ ہم لوگ حیدرآباد سے کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد مٹھی اورپھروہاں سے اسلام کوٹ کے اس چھوٹے سے گاؤں میں پہنچے تھے۔ ہم اگرچند گھنٹے پہلے پہنچ جاتے تو شاید اس بچے کی جان بچ جاتی، ہم لوگ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے ساتھ اس علاقے میں پہنچا تھے جہاں پیاسا تھراب تک ایک درجن سے زائد بچوں کو نگل چکا تھا۔ ہمارے پاس پانی کی بوتلیں ،بسکٹ ،آٹا،چاول، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات تھیں۔ ہم نے یہ سامان غم سے نڈھال ان لوگوں میں تقسیم کیا ، چند گھنٹے ان کے ساتھ گزارے اور پھر دوسرے علاقوں میں نکل گئے۔

ان دنوں ایسے مناظرتھرکے ہرگاؤں میں نظرآتے ہیں۔ جہاں بھوک سے بلکتے معصوم پھول بن کھلے مرجھا گئے۔ موت ہے کہ ایک ایک کرکے سب کو نگل رہی ہے۔ حکومتی اعدادوشمارکے مطابق رواں ماہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 27 جبکہ یکم جنوری 2014 سے اب تک 405 تھری قحط سالی کا شکار ہوکرموت کے منہ میں جاچکے ہیں۔

بارش زندگی ہے اس کا ادراک تھریوں سے زیادہ اور کوئی نہیں کر سکتا ، جس کی ایک بوند سے تھری جھوم اٹھتے ہیں ۔ بارش ہوئی تو ان کے نصیب جاگ اٹھے اور نہ ہو تو قحط سالی کا بھوت انہیں نگلنے کو تیار ہوتا ہے۔ جب بھی تھر کے آسمانوں پہ بجلی چمکتی اور بادلوں کا رخ صحرائے تھر کی جانب ہوتا ہے تو شہروں میں امیروں کے گھروں میں جھاڑو برتن کرکے روزی روٹی کمانے والی تھری عورت کے منہ سے بے اختیار’’مارو تھر برسیو رے’ نکلتا اور اسکی آنکھوں کے کونے گیلے ہو جاتے ہیں۔ بارشوں کا سوکھا پن خوفناک ڈائن کی مانند ان تھریوں کو چاٹ رہا ہے ،یہاں کی عورتیں سورج نکلنے سے پہلے ہی پانی کے برتن لئے صحرا کی طرف چل پڑتی ہیں، منہ اندھیرے کنویں سے پانی کھنچنے کے لئے باری کے انتظار میں وہ سورج کا تڑکا اسی کنویں کی منڈیر پہ دیکھتی ہیں۔ کنواں سوکھا ہو تو پانی کھینچنے کے لئے گدھے یا کسی اور جانور کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

یہ پانی پیاس تو نہیں بچھا پاتا لیکن اس سے زندگی ضرور دھکیلی جاتی ہے۔اور اس دھکیلی جانے والی زندگی کو صحرائے تھر کے کنووں کا یہ کھارا پانی کتنا روگی بنا دیتا ہے یہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تھری بچے ہوں یا خواتین اور بزرگ، یہاں کے سب ہی باسی بھوک اور افلاس کا شکار ہیں۔ تھری سہولیات تو کجا زندگی گزارنے کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ پینے کا پانی چاہے گدلا ہی کیوں نہ ہو، انہیں میسر نہیں، علاج معالجہ اور مناسب رہائش جیسے الفاظ شاید ان لوگوں نے کبھی سنے بھی نہ ہوں۔ یہاں زندگی بلاشبہ کسی بوجھ سے کم نہیں ہے۔

بچوں کی اموات کی خبروں کے بعد تمام تر امدادی کارروایوں کا مرکز مٹھی بنا ہوا ہے، لیکن درحقیقت تھر ایک بہت وسیع علاقہ ہے جس کے دوردراز علاقوں میں کوئی امدادی کاروائی نظر نہیں آتی ،اور اسی وجہ سے قحط سے متاثرہ لوگ ابھی تک میرپورخاص، سانگھڑ، بدین اور دوسرے علاقوں میں نقل مقانی کرنے پر مجبور ہیں۔ تھر میں کام کرنے والے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے کارکنوں نے بتایا کہ تھر کے بیشتر علاقے اب بھی امدادی ٹیموں کی پہنچ سے دور ہیں،جہاں کوئی امدادی کاروائی نہیں کی جارہی، جس سال بارشیں ہوتی ہیں، اسی سال میٹھا پانی دستیاب ہوتا ہے ورنہ کنویں کا کڑوا اور ناقابلِ استعمال پانی پینا تھریوں کی قسمت ہے۔اس کے علاوہ غذا، پانی اور دوا کی عدم موجودگی کے باعث حاملہ مائیں بیمار ہوجاتی ہیں اور ان کے بچے بھی بیمار پیدا ہوتے ہیں، ساتھ ہی مویشی مرجاتے ہیں، لہذا بچوں کو نہ ماں کا دودھ ملتا ہے اور نہ مویشیوں کا۔

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی طرف سے رواں ماہ 25 کنویں اورہینڈپمپ لگوائے گئے ہیں جبکہ 70 زیرتعمیرہیں۔ جو کام ہماری سوئی ہوئی حکومت کو کرنا چاہئے وہ مختلف فلاحی ادارے سرانجام دے رہے ہیں۔ تھر کے دوردراز گوٹھ گولیو، مورانو، کیہڑی، تانیلو، گنگا لچ ، سگروڑ، تانیلی، ڈاندو بھیل، وہیلنجا اور کاری ہرسمیت بیشتر گوٹھوں میں اب تک امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکی ہیں اوریہاں اب بھی موت کا رقص جاری ہے۔

آصف محمود
 

Tuesday, October 28, 2014

کامیابی کی شرائط.....



 محنت میں عظمت پنہاں ہے، مگر محنت تب ہی رنگ لاتی ہے جب اس کے پیچھے حتمی فیصلے کی قوت ہو اور اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھنے کی صلاحیت ہو۔‘‘ یہ الفاظ ہیں جاپان سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف بزنس ٹائیکون سویشیرو ہنڈا کے، جن کی شخصیت سے کوئی واقف ہو نہ ہو مگران کے نام سے ضرور دنیا کا بچہ بچہ واقف ہے۔ جی ہاں ایک سروے کے مطابق سویشیرو ہنڈا کے انتقال کے بیس سال کے بعد بھی دنیا بھر میں ان کا نام ہر سیکنڈ میں دس بار لیا جاتا ہے کیوں کہ انھوں نے اپنی مصنوعات کا نام اپنے نام پر رکھا تھا… ہنڈا۔
سویشیرو ہنڈا کی کہانی جہد مسلسل اور عزم و حوصلہ کی ایک لازوال داستان ہے۔ وہ جاپان کے ایک دور افتادہ دیہات میں ایک لوہار کے گھر پیدا ہوئے، غربت میں پرورش پائی اور تعلیمی میدان میں بھی اسکول سے آگے نہ بڑھ سکے۔ گھریلو اور ملکی حالات ایسے تھے کہ اس سے زیادہ تعلیم حاصل کرنا ان کے لیے ممکن بھی نہیں تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب عالمی جنگ کی وجہ سے جاپان اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار تھا۔ 
تباہی کے عفریت نے گو ایٹمی حملے سے پہلے ہی جاپان کو اپنے حصار میں لے لیا تھا، مگر اگست کے ایک بھیانک دن جب جاپان پر ایٹمی حملہ ہوا تو گویا ہر طرف موت کے بادل چھاگئے، ہر چیز تباہ ہو گئی۔

ان بدترین حالات، غربت، مروجہ نصابی تعلیم کے نہ ہونے کے باوجودایک عام سے موٹر مکینک سویشیرو ہنڈا نے جان توڑ محنت، صحیح فیصلے اور عزم و حوصلے کی قوت سے بالآخر آٹو موبائل انڈسٹری کی تاریخ بدل دی۔ اس کی بنائی گئی ہلکی، دلکش، اعلیٰ معیار اور قیمت میں کم موٹرسائیکلز پوری دنیا پر چھا گئیں۔ ایک دیہات میں واقع بوسیدہ سے گیراج سے شروع ہونے والا سفر ہنڈا کارپوریشن کے قیام پر ختم ہوا، جو نہ صرف جاپان کی صف اول کی کمپنی بنی بلکہ آج دنیا کی چند بڑی آٹو موبائل کمپنیوں میں سے ایک ہے، جس میں ایک لاکھ سے اوپر ملازم ہیں۔

سویشیرو ہنڈا کی کامیابی کی مکمل داستان نہایت دلچسپ اور سبق آموز ہے جو ہمارے ان نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے جو اپنی خداداد ذہانت، دیانت اور ملک کے لیے کچھ کرنے کی لگن کے باوجود سسٹم میں موجود چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے بہت جلد مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں، وہ جب مسٹر ہنڈا کی کہانی پڑھیں گے (جو تفصیل سے وکی پیڈیا پر پڑھی جاسکتی ہے) توکبھی مایوس نہیں ہوں گے۔ وہ جان جائیں گے کہ حتمی فیصلہ، لگن ، محنت اور حوصلے سے ہر کام کیا جاسکتا ہے۔ وہ سویشیرو کی داستان سے نفرت کے بجائے مثبت سوچ کے ثمرات بھی سیکھیں گے۔ مسٹر ہنڈا کی ہی زندگی سے مثبت و تعمیری سوچ کے ثمرات کا ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔

جب سویشیرو کی ہنڈا موٹر سائیکل پوری دنیا میں مشہور ہوگئی تو ایک دن ایسا بھی آیا کہ امریکا کے چند صنعت کاروں نے ان کی موٹر سائیکل امریکا میں لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جاپانی میڈیا میں اس خبر پر گرماگرم بحث چھڑ گئی کہ جس ملک نے جاپان کے ہزاروں شہریوں پر آگ و خون کی بارش کردی، کیا اس کے ساتھ بزنس کیا جاسکتا ہے؟ کئی اخبارات نے اسے ملکی سلامتی کا مسئلہ قرار دے دیا، کئی ملکی دانشوروں نے یہاں تک کہا کہ سویشیرو امریکا کو انکار کرکے جنگ عظیم کا بدلہ لے سکتا ہے۔ صورت حال بے حد جذباتی اور حساس ہوگئی، مگر ہنڈا نے بالآخر ہر دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے وہ فیصلہ کیا جو ایک مثبت سوچ رکھنے والا ہی کرسکتا ہے۔

انھوں نے اس پیشکش کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا: ہم نے دشمن سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا ہے مگر ہم جنگ کے ذریعے بدلہ نہیں لیں گے، کیوں کہ جنگیں یاسیت لے کر آتی ہیں، ہم بدلہ لیں گے معاشی ہتھیار سے، جو دور جدید کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس فیصلے کے بعد انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، مگر امریکا میں ڈیلرشپ شروع کرنے کے بعد جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ہنڈا موٹر سائیکلیں اور پھر ہنڈا کاریں پوری دنیا میں چھا گئیں اور اس کے بعد جاپان کی مصنوعات کو عالمی سطح پر قبول عام حاصل ہوا۔

مسٹر ہنڈا کی زندگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ان کی ایک اور خوبی کا ادراک ہوتا ہے، وہ ہے ان کی دوسروں کے ساتھ خیر خواہی۔ خود بے حد مقبولیت اور دولت حاصل کرنے کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزاری اور کئی فلاحی منصوبے شروع کیے، یقیناً ان کی کامیابی کے پیچھے قوت فیصلہ اورمستقل محنت کے ساتھ ان کی فلاحی سوچ بھی تھی۔

میدان کوئی بھی ہو، مایوس ہوئے بغیر درست سمت میں مستقل مزاجی سے محنت اور درد انسانیت دو ایسی کنجیاں ہیں، جو ساتھ ہوں تو گویا تدبیر اور تقدیر ایک نکتے پر جمع ہو کر انسان پر کامیابی کے در وا کردیتی ہیں۔ انسانیت پر اپنی محنت کی کمائی خرچ کرنے سے نہ صرف آنے والی بلائیں ٹلتی ہیں بلکہ ازروئے حدیث اﷲ پاک کم ازکم دس گنا کرکے واپس بھی لوٹاتے ہیں۔ گویا یہ سراسر نفع کا سودا ہے۔
صرف ہنڈا ہی نہیں بلکہ دنیا کی کئی شخصیات ایسی ہیں، جنھوں نے خالی ہاتھ کام شروع کیا، کئی بار ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑا مگر انھوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا، مسلسل محنت کرتے رہے اور بالآخر اپنا آپ منوا کر رہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی کامیابیوں کو انسانیت پر خرچ کے ذریعے سے ضرب دینا شروع کیا تو آج وہ خود بھی اربوں کھربوں میں کھیل رہے ہیں اور ان کے ذریعے لاکھوں انسانوں کے درد کا درماں بھی ہو رہا ہے۔

خود ہمارے احباب میں ایسے دو دوست ہیں، ان دونوں نے انتہائی غربت سے سفر شروع کیا مگر صحیح فیصلہ اور پھر مسلسل محنت نے انتہائی حیرت انگیز طور پر ایک عشرے میں انھیں اپنے میدان میں قابل رشک کامیابی سے نواز دیا۔ ان میں سے ایک ہمارے کلاس فیلو ہیں جن کا نام سفیان احمد علوی ہے۔ سفیان نے ہر طرح کی نہایت غربت کے باوجود نہایت ثابت قدمی سے تعلیم جاری رکھی اور آخر اپنے ادارے سے گولڈ میڈل لے کر کینیڈا میں بہترین جاب حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ آج اس کے پاس بہترین مستقبل ہے مگر اس نے اپنے چھوٹے سے شہر اور وہاں کے غریب باسیوں کو نہیں بھلایا، جس کا نتیجہ ٹنڈوآدم جیسے پسماندہ شہر میں بچوں کے ایک بہترین فری کلینک کی صورت ظاہر ہے، جہاں غرباء کے لیے علاج اور دوائیں بالکل مفت ہیں۔

ہمارے دوسرے دوست ارشد حسین قاضی نے بھی انتہائی غربت اور مشکل حالات میں جدوجہد شروع کی۔ اس نے پان کا کیبن بھی چلایا، ریڑھی بھی لگائی مگر ذہن کو وسیع رکھا۔ مارکیٹنگ کے شعبے میں دس برس تک شدید محنت کی، کئی بار شدید نقصان بھی اٹھایا مگر بالآخر قدرت مہربان ہوئی اور اس کی محنت کا پھل انھیں یوں ملا کہ آج وہ اندرون سندھ میں اپنے شعبے کی مارکیٹنگ کا ایک جانا پہچانا نام ہے۔ اس کی بھی اہم خوبی صدقے کی عادت تھی۔ ہم نے ہمیشہ دیکھا کہ اس نے کبھی کسی کو خالی ہاتھ واپس نہیں کیا، شاید یہی وجہ تھی کہ اﷲ تعالیٰ نے بھی اسے بہت نوازا۔

ان باتوں کو اپنی گرہ سے باندھ لیں تو انشاء اﷲ تعالیٰ کامیابی ضرور قدم چومے گی۔ ایک خوب غوروفکر کے بعد درست میدان کا انتخاب، پھر اپنے فیصلے پر جم جانا، اس کے بعد اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے شدید اور مسلسل محنت، اور ان تمام تدابیر کے ساتھ لوگوں کے ساتھ بھلائی اور خیرخواہی کی عادت۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو شخص ان صفات کو زادِ راہ بنالے گا، اﷲ کے فضل سے ضرور پھل پائے گا۔

محمد فیصل شہزاد