Sunday, May 1, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

شریعت میں کرپشن کی سزا

Read More

Wednesday, April 27, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

’’مجھ سے امیر شہر کا نہ ہو گا احترام‘‘

چھبیس دنوں میں وزیراعظم کے قوم سے تین دفعہ خطاب نے ہر پاکستانی کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کچھ ہونے والا ہے ۔ کیا واقعی کچھ ہونے والا ہے؟ یا پھر یہ کہ پانامہ لیکس کا فتنہ، کچھ ہی دنوںمیں اپنی موت آپ مرنے والا ہے، پھرگو نواز گو کا خطرہ ٹل جائے گا،اور قوم حسب معمول کسی اور خبر کی جانب نکل پڑے گی۔ جتنے منہ اتنی باتیں لیکن وزیراعظم کو بار بار سرکاری ٹی وی پر نمودار ہو کر قوم کو اپنی اور خاندان کی صفائی دینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟یہ بھی سمجھ نہیں آرہی کہ حکمران اتنے معصوم کیوں بن جاتے ہیں اور یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ’’میں نے کچھ نہیں کیا‘‘۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ کچھ نہیں کیا… اگر واقعی کچھ نہیں کیا تو ملکی اداروں کا بیڑہ غرق کیوں ہو چکا ہے۔

منٹو پارک میں چار ہاکی کے گراؤنڈز ہوا کرتے تھے۔ آج قومی کھیل تباہ ہو چکا ہے کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟ نوجوان نسل کو کھیل سے نکال کر جرائم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، یہ کرپشن نہیں ہے؟ تعلیمی ادارے تباہ کر دیے گئے ، کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟ اسپتال تباہ کر دیے گئے، یہ کرپشن نہیں ہے؟… ملک کے ادارے تباہ کر دیے گئے ،کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟ آف شور و ان شور ذاتی ادارے تو دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں مگر ملک کے ادارے ڈوب رہے ہیں۔
اربوں روپے میں بنی ہوئی ملتان روڈ کو دوبارہ سے اُکھاڑ کر منصوبے بنا نا کیا، اسے کس نام سے پکارا جائے۔ گریڈ 18کے افسرکو گریڈ 20میں لگا دینا کونسا میرٹ ہے ؟ ذاتی سیکیورٹی کے لیے پنجاب بھر کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کر دینا اور عوام کو جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا کیا ہے؟ 
گزشتہ 7سال سے رنگ روڈ نہیں بننے دی گئی…؟ ’’ڈولفن فورس‘‘ کا کام اسٹریٹ کرائمز روکنا ہے، دن کی روشنی میں مذکورہ فورس باہر آتی ہے اور رات کے اندھیرے میں غائب ہو جاتی ہے جب کہ رات کو کرائم ریٹ 90فیصد ہوتا ہے۔
مجھے بتائیے کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟ ایک جانب اربوں روپے کے ٹیکے لگ رہے ہیں جب کہ ہمارا ایک کانسٹیبل پچاس پچاس روپے کی کرپشن کر کے اپنا گزر بسر کرے۔ پولیس کے شہداء کو طبقاتی شہید بنا دیا گیا۔ مخصوص لوگوں سے اپنی تعریفیں کروانا اور صحافیوں کو خریدنا کیا، دہشت گردی کو فروغ دینا اور چھوٹو گینگ سمیت سیکڑوں گینگز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ، ملکی سیاست سے اپوزیشن کو ختم کر دینا ،کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟ ملک میں گزشتہ کئی سالوں سے ایک بھی ڈیم نہ بنانا ، نان کرکٹرز کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین لگانا ، غیر ملکی سرمایا کاروں کو پاکستان میں لانے کے لیے اقدام کرنا اور اپنا پیسہ باہر رکھنا کیا یہ کرپشن نہیں ہے؟ الغرض یہ کہ پاکستان کی سیاست کو پیسے کی مداخلت نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے، اسی کی وجہ سے سیاست میں Criminalistaion غالب ہے ۔ کالے دھن نے سیاست کو ایک منافع بخش انڈسٹری کا درجہ دے دیا ہے۔

جس ملک میں منافقت اور جھوٹ عام ہو جائے وہاں ویلیوز یا سماجی اقدار کا انحطاط معاشرے کو لے ڈوبتا ہے، اسی لیے دوسرے جمہوری ممالک میں عوامی نمایندے جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے جائیں تو نہ صرف انھیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑتا ہے بلکہ ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو جاتا ہے۔ برازیل میں خاتون وزیراعظم کے خلاف میگا کرپشن اور اقرباء پروری کے الزامات میں عوامی احتجاج کی ہمہ گیر لہر کے بعد پارلیمنٹ نے ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ جہاں امید ہے انھیں شکست ہو جائے گی۔

برازیل کے ارکان پارلیمنٹ نے ثابت کردیا ہے کہ وہ وزیراعظم کے بجائے اپنے ملک اور اپنے عوام کے مفاد کو زیادہ مقدس سمجھتے ہیں۔ امریکی صدر نکسن کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش ہوئی تھی اس کی وجہ واٹر گیٹ اسکینڈل نہیں تھا جس میں ان پر الزام تھا کہ وہ اپنے مخالفین کے ٹیلی فون ٹیپ کراتے تھے بلکہ مواخذہ اس بات پر تھا کہ انھوں نے کانگریس کے سامنے جھوٹ بولا تھا ۔ اسی طرح جب بِل کلنٹن صدر تھے اور ان پر وائٹ ہاؤس کی ایک ملازم کے ساتھ جنسی تعلقات کا معاملہ سنگین ہو گیا تو مواخذہ اس بات پر نہیں تھا کہ وہ بداخلاقی کے مرتکب ہوئے ہیں بلکہ الزام یہ تھا کہ انھوں نے عدالت کے سامنے جھوٹ بولا تھا۔

انگلینڈ میں اگر کوئی وکیل اپنے مؤکل کے دفاع میں ایسی بات کرتا ہے جو جھوٹ ثابت ہو جاتی ہے تو اس صورت میں اگر عدالت کے نوٹس میں آجائے کہ مذکورہ وکیل نے اپنے مؤکل کو بچانے کے لیے دانستہ جھوٹ بولا ہے تو اس وکیل کا عدالتی کیریئر ختم ہو جاتا ہے لیکن پاکستان کی معاشرتی اور اخلاقی روایات اس درجے پر نہیں پہنچ سکیں کہ یہا ں جھوٹ بولنے پر کوئی گرفت ہو یا ضمیر پر کوئی بوجھ ہو یا عوامی سطح پر ٹھکرائے جانے کا خطرہ ہو۔

غلام رسول چھوٹو نہایت بے وقوف تھا جس نے ڈاکا زنی کے ذریعے کروڑوں روپے کمائے مگر جب وہ گرفتار ہوا تو سکندراعظم کی طرح اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے۔ راجن پور کے ڈاکوؤں کی فیملیوں خواتین اور بچوں پر نظر دوڑایں تو ایک قابلِ رحم تصویر سامنے آتی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اربوں روپے کے جرائم میں ملوث چھوٹو گینگ کا پیسہ کہاں گیا جب اس کا سراغ لگائیں گے تو اس پیسے کا کھُرا سندھ اور پنجاب کے بہت سے ارکانِ پارلیمنٹ کے گھروں تک جائے گا جو چھوٹو کو تحفظ دینے کے بدلے میں اُسے اپنا آلۂ کار بنا کر استعمال کرتے رہے۔ چھوٹو کو چاہیے تھا کہ لوٹ کے مال سے آف شور کمپنی بناتا اور چوری کا مال پانامہ منتقل کردیتا۔ یہ کوئی زیادہ مشکل کام نہ تھا۔

میرا مشورہ ہے کہ اگر عوام کے لیے کچھ کرنا مقصود ہے تو نیت کو صاف رکھ کرکریں ، سب آپ کا ساتھ دیں گے اور اگر ٹی وی پر آکر قوم سے معصومیت سے کہیں گے کہ ’’مجھے اس مٹی سے عشق ہے‘‘۔ مجھے یقین ہے، یہ سن کر یہ مٹی بھی کہے گی ، میں نہیں مانتی، خیر کالم کی وسعت کم ہے ورنہ بقول شاعر

لفظوں کوبیچتا ہوں پیالے خرید لو
شب کا سفر ہے کچھ تو اجالے خرید لو
مجھ سے امیر شہر کا نہ ہو گا احترام
میری زباں کے واسطے تالے خرید لو

علی احمد ڈھلوں

Read More

Sunday, April 24, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

دی گریٹ بل فائٹر نواز شریف : وسعت اللہ خان

نواز شریف حکومت پاناما لیکس کی غیرجانبدار و شفاف چھان بین میں کس قدر سنجیدہ ہے اس کا انداز چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے خط میں مجوزہ کمیشن کی شرائطِ کار (ٹرمز آف ریفرنس) کو دیکھ کر ہو جاتا ہے۔ یعنی کمیشن بطور عدالت کام کرے گا۔ معاونت کے لیے کسی بھی شہری، عہدیدار، مالیاتی ماہر یا کسی بھی ادارے کی کوئی بھی دستاویز طلب کر سکے گا۔ حتمی رپورٹ مرتب کرنے کے لیے کمیشن اپنی معیاد خود طے کرے گا۔

کمیشن ان تمام پاکستانی شہریوں اور سمندر پار پاکستانیوں کے بارے میں چھان بین کرے گا جن کی یا اہلِ خانہ کی آف شور کمپنیاں اب تک سامنے آئی ہیں۔ کمیشن ان تمام بینک قرضوں کو بھی پھٹکے گا جو سرکاری عہدوں پر فائز سابق و حاضر شخصیات یا اہلِ خانہ نے معاف کروائے۔ کمیشن پاکستان سے بیرونِ ملک منتقل ہونے والی ان تمام رقومات کا بھی سراغ لگائے گا جو بدعنوانی، کمیشن یا رشوت خوری سے وصول کی گئیں۔

یعنی کمیشن کو اتنے بڑے دائرے میں دھکیل دیا گیا ہے کہ اسے کسی حتمی نتیجے پر پہنچ کے لگ بھگ سوا آٹھ لاکھ صفحات کی رپورٹ مرتب کرنے کے لیے کم ازکم دو سو سال درکار ہیں۔ حالانکہ اس میں سے بیشتر چھان پھٹک کوئی بھی مستعد حکومت اپنے طور پر کر سکتی ہے، مگر پھر عدالتی کمیشن کیا کریں گے؟ حکومت نے پاناما لیکس کے نام پر کمیشن کا دائرہ کار اسی طرح طے کیا ہے جس طرح تھانیدار ایک من ککڑی چوری کرنے والے کسی ملزم پر شہر بھر کی چوریاں، ڈکیتیاں، دھماکے اور دہشت گردیاں لاد دیتا ہے تاکہ اپنے سر سے بلا ٹلے اور ملزم زندگی بھر پِھرکی بنا رہے۔
پاناما لیکس کے کھیل میں منتشر الخیال حزبِ اختلاف پی آئی اے کے اس مسافر کی طرح ہے جو ہمت کر کے تیسری بار پانی مانگ لے تو اکتائی جھنجھلائی ایئر ہوسٹس اس کے آگے لبالب جگ زور سے دھر دیتی ہے۔ یعنی لے مر پی!
شکر ہے ٹرمز آف ریفرنس میں شام کی خانہ جنگی، سعودی امریکہ تعلقات میں کشیدگی، بلوچستان میں مبینہ بھارتی مداخلت اور ایکواڈور میں آنے والے زلزلے کے پاناما لیکس سے تعلق کی تحقیقات کا کام شامل نہیں کیا گیا۔ ٹرمز آف ریفرنس میں سبھی کچھ ہے علاوہ شریف خاندان پر عائد الزامات کی براہِ راست ترجیحاتی چھان پھٹک کی واضح خواہش کے۔

یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ بل فائٹنگ سپین اور اس کی سابق نوآبادیات میں کتنا مقبول کھیل ہے۔ جونئیر بل فائٹر کو توریرو کہتے ہیں اور استاد بل فائٹر کو میٹا ڈور۔ لوگ باگ اپنی ذات اور مسائل میں اس قدر غرق ہیں کہ شاید ہی کسی کا دھیان اس جانب گیا ہو کہ پاکستان میں بل فائٹنگ کا کھیل باضابطہ طور پر نواز شریف نے متعارف کرایا۔ ان سے پہلے مرغوں کی لڑائی و بٹیر بازی سے جی بہلایا جاتا تھا، لیکن نواز شریف نے بل فائٹنگ کی تربیت اور میچوں کے لیے پہلا خصوصی ایرینا اپنے چاؤ سے بنوایا۔ اس ایرینا کا سنہری موٹو ہے ’آ بیل مجھے مار۔۔۔‘
ایرینا میں چاروں طرف بڑی بڑی پینٹنگز آویزاں ہیں۔ ایک میں میٹا ڈور نواز شریف اپنے وقت کے چیمپیئن سانڈ غلام اسحاق خان کو لال کپڑا دکھا رہے ہیں۔ دوسری پینٹنگ میں جہانگیر کرامت کے دھڑ پر چھوٹے چھوٹے نیزے گاڑ کے فاتحانہ دیکھ رہے ہیں۔ تیسری پینٹنگ میں پرویز مشرف نامی طاقتور بیل نے نواز شریف کو سینگوں میں پرو کے ہوا میں اٹھا رکھا ہے۔ چوتھی پینٹنگ میں نواز شریف پرویز مشرف کو سینگوں سے پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر پیر ہوا میں ہیں۔

پانچویں پینٹنگ میں مسکراتے نواز شریف لال کپڑا لہرا لہرا کر ایک تنومند خاکی بیل کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ بیل ان کی طرف دیکھ ہی نہیں رہا۔ ان دنوں ایرینا کی چھٹی پینٹنگ پر کام ہو رہا ہے۔ نتھنوں سے بھاپ اور کھروں سے چنگاریاں نکالتا بیل پوری طاقت سے میٹا ڈور نواز شریف کی جانب بڑھ رہا ہے اور نواز شریف اس سے ڈرنے کے بجائے مسکرا رہے ہیں۔ بیل کے ایک سینگ پر پاناما اور دوسرے پر لیکس لکھا ہے۔

ایک اچھے بل فائٹر کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے بجائے سانڈ کو تھکانے کی کوشش کرے اور جب سانڈ تھک کے گر پڑے تو کام اتار دے۔ پاناما لیکس کے بھینسے کے ساتھ بھی یہی حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔ یعنی کبھی یکطرفہ کمیشن کا رومال دکھاؤ، کبھی نئے کمیشن کی یکطرفہ شرائطِ کار کے لال کپڑے سے مشتعل کر کے اپنے پیچھے دوڑواؤ ۔ حتٰی کہ بھینسا تھکن سے لڑکھڑانے لگے۔

جیت گئے تو فاتح، روندے گئے تو پھر مظلوم۔

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


Read More
KHAWAJA UMER FAROOQ

طالبعلموں کی خودکشی اور تعلیمی اداروں کی بے حسی

ہمارے ملک میں خودکشی کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے، آئے دن ایسے سانحات منظر عام پر آتے ہیں جنھیں سن کر، پڑھ کر اور دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔ کیا ہم نے ان حالات کے تناظر میں یہ بات سوچنے کی کوشش کی کہ آخر وہ کیا عوامل یا ایسے معاملات ہیں، جن کے باعث لوگ خودکشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ بظاہر جو وجوہات سامنے آتی ہیں، بس ان کو ہی مدنظر رکھا جاتا ہے کہ اگر ایسا ظلم نہ ڈھایا جاتا یا بے انصافی متوفی کے ساتھ نہ کی جاتی تب وہ اپنی جان نہ گنواتا، خودکشی کو روکنے کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے جاتے ہیں، سوائے المیہ منظرنامہ پیش کرنے کے۔

خودکشی کرنے کی بنیادی اور ٹھوس وجہ تو یہ ہے کہ آج کے والدین اپنے بچوں کو اعتماد میں نہیں لیتے ہیں، انھیں اپنا دوست اور رازدار نہیں بناتے ہیں، ان رشتوں کو قائم کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، لیکن فی زمانہ وقت کی بے حد کمی ہے، اپنی اولاد کے لیے بھی اتنا وقت میسر نہیں ہے کہ اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے دان کردیں۔ والدین سے اچھے تو پھر وہ دہشت گرد ہوئے جو چند ہی ماہ میں مغوی بچوں کو اپنے اعتماد میں لے لیتے ہیں اور پھر وہ جو چاہتے ہیں ان معصوم بچوں سے کرواتے ہیں۔ یہ معصوم طلبا استاد کے فرمانبردار، جنت اور حوروں کے طالب، باغات و میوہ جات، دودھ کی نہروں کے تمنائی، بادلوں پر سفر کرنے کے لیے اپنی مرضی سے قربان ہوجاتے ہیں اور اپنے ساتھ درجنوں افراد کو خون و خاک کے جنگل میں اتار دیتے ہیں۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ والدین اپنے فرائض انجام نہیں دے پاتے ہیں، بلکہ تدریس کے لیے اجنبی لوگوں کے پاس اعتماد سے چھوڑ آتے ہیں اور پھر چند روٹی کی ٹکڑوں کی خاطر ان کی خبر بھی نہیں لیتے، انھیں اطمینان ہوتا ہے کہ ان کا بچہ مدرسے میں پڑھ بھی رہا ہے اور بھوکے شکم کو رزق بھی مل رہا ہے۔ اکثر اوقات غربت اور پیسے کے لالچ میں اپنی تنگدستی کو دور کرنے کے لیے دہشت گردوں سے پیسے بھی وصول کرلیتے ہیں، وہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ یہ نذرانہ ان کے لخت جگر کو اس کے ہی خون میں ڈبو کر دیا ہے، اس کی نسلوں کو برباد اور نیست و نابود کیا۔ اگر والدین خود تعلیم یافتہ ہوں تو اپنی اولاد کے دماغ کی سلیٹ پر ایسے حروف لکھ دیں جو ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتے ہیں، دماغ میں پیوست ہوجاتے ہیں، اجالے، اندھیرے اور صدق وکذب کی شناخت میں مددگار ہوتے ہیں، تب یہ بچے اور ان کے والدین تخریب کاروں کے گھناؤنے اور قاتلانہ کھیل میں کبھی شریک نہ ہوں۔

والدین کی توجہ، محبت، درس، اخلاقی تقاضے، عفو و درگزر، جزا و سزا کا سبق بچے کی زندگی کو بدل دیتا ہے، پھر وہ کبھی مایوس ہوکر خودکشی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ دکھ سکھ، غم اور خوشی، شکست و ریخت زندگی کا حصہ ہیں، ہر رات کے بعد صبح کا روشن اجالا نئی امیدیں ساتھ لے کر آتا ہے، لہٰذا بہادری و جرأت و شجاعت کا تقاضا یہ ہے کہ زندگی صبر و شکر کے ساتھ گزاری جائے اور اپنی زندگی کی کشتی کو ساحل پر لانے کے لیے تگ و دو کی جائے تو یقیناً محنت اور جدوجہد سے ساحل ضرور ملے گا۔

پچھلے دنوں کئی طالب علموں کی خودکشیاں اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں، الیکٹرانک میڈیا پر چھائی رہیں اور لوگوں کو خون کے آنسو رلاتی رہیں۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا ہے جب ایبٹ آباد کے عبدالمبین ولد سردار محمد رفیق نے خودکشی کرلی، یہ بچہ ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ عمر بمشکل 11 یا 12 سال ہوگی، وہ ہاسٹل میں رہنا نہیں چاہتا تھا، اس کی وجہ استاد کا رویہ ظالمانہ اور اس کی تذلیل کا باعث تھا۔ جسے اس کا ننھا ذہن برداشت نہ کرسکا۔ فرار کی جب اسے کوئی راہ نظر نہ آئی، تب اس نے اپنے آپ کو ختم کرنے اور دنیا سے رخصت ہونے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے سے قبل اس نے اپنی ماں کو خط لکھا۔ وہ ماں جو دنیا کی سب سے زیادہ شفیق ہستی ہوتی ہے جس کی کل کائنات اس کی اولاد ہوتی ہے، اولاد کے لیے جینا مرنا زندگی کا نصب العین سمجھتی ہے۔

عبدالمبین کے بعد از مرگ اس کی جیب سے ایک خط برآمد ہوا۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’ماں! تم میرے جانے کے بعد بہت روؤ گی، لہٰذا میری قبر پر آکر رو لینا اور میری الماری میں ایک ڈائری رکھی ہے اسے ضرور پڑھ لینا، ماں! مجھے دنیا سے بڑا پیار تھا، مگر مجھے یہ ہاسٹل کی وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے۔ منیبہ اور مانی کو ہاسٹل داخل نہ کرانا اور میری چیزیں ہاسٹل سے لے آنا۔ عبدالمبین نے کس دل گردے کے ساتھ یہ تحریر لکھی ہوگی، یہ تو وہی جانتا ہوگا۔ معصوم بچے نے ماں کو زیادہ نہ رونے کی بھی تاکید کی۔ عبدالمبین کے والد سردار محمد رفیق نے پولیس کو بتایا کہ اس کی ٹیچر اسے چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر سزا دیتی تھی، میرے بیٹے کی موت کی ذمے دار ٹیچر ہی ہے۔

اس کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ ہمیں انصاف ملے۔ یقیناً بچے کا خط پڑھ کر صاحب اولاد کا دل بھر آتا ہے، کاش کہ بچے کے والدین اس کی شکایت کا نوٹس لیتے، نقصان ہوجانے کے بعد ایک لفظ باقی رہ جاتا۔ وہ ہے ’’کاش‘‘۔ کاش یہ ہوجاتا، کاش وہ ہوجاتا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ واقعہ بھی دو ماہ قبل کا ہی ہے۔ جب قلعہ عبداللہ ڈسٹرکٹ بلوچستان میں ثاقبہ نامی طالبہ نے پرنسپل کے ظالمانہ سلوک کی بنا پر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔ اس کا تعلیمی کیریئر بہت شاندار تھا، کالج کی پرنسپل نے انٹرمیڈیٹ کا ایڈمیشن فارم نہیں بھیجا تھا، پرنسپل کے اس رویے سے یقیناً وہ امتحان میں نہیں بیٹھ سکتی تھی، یقیناً یہ اس کے ساتھ بہت بڑا ظلم تھا۔ لہٰذا اس جواں سالہ لڑکی نے خودکشی کو ترجیح دی۔

اس حادثے نے اہل دل کو خون کے آنسو رلا دیا اور خوشیوں بھرا گھر ماتم کدہ بن گیا۔ اس نے بھی اپنے پیغام میں پرنسپل کو ہی اپنی خودکشی کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔ 12 اپریل 2016 کو ایک ڈینٹل کالج کے طالب علم عبدالباسط کی خودکشی نے پورے شہر کو اداس کردیا۔ ہر شخص کو اس کی موت کا صدمہ تھا اور ہونا چاہیے۔ ایک گھرانے کا چراغ گل ہوگیا اور روشن گھر، خوشیوں سے بھرا گھر اندھیروں اور دکھوں میں ڈوب گیا۔

ہمارے شہر کراچی میں ٹرانسپورٹ کے بے حد مسائل ہیں، رش کے باعث ٹریفک جام ہوجاتا ہے، ایمبولینسیں پھنس جاتی ہیں اور جاں بلب مریض دم توڑ جاتے ہیں لیکن عبدالباسط کے ساتھ یہ مسئلہ نہیں تھا، اس بے چارے مظلوم نوجوان کی گاڑی خراب ہوگئی تھی اور وہ اسے خود ٹھیک کرتا رہا یا کسی مکینک کو دکھانے میں اتنا وقت بیت گیا کہ امتحان کا مقررہ وقت ختم ہوگیا اور ممتحن حضرات پرچے اپنے ساتھ لے گئے، بے شک ہر ادارے کے اپنے قوانین اور اصول و ضوابط ہوتے ہیں لیکن ساتھ میں انسانیت کی بقا اور علم و اخلاق کے تقاضے بھی کچھ ہوتے ہیں، کسی کی ختم ہوتی زندگی اور ذہنی تکلیف اور مستقبل کی بربادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر قانون ہیچ ہے۔

ویسے بھی ہمارے ملک میں قانون کو مٹی کے برتنوں کی طرح بے دردی کے ساتھ توڑ دیا جاتا ہے۔ اپنے ارادوں اور اصولوں میں لچک دکھانا اور بگڑتے حالات کو سنوارنا ایک تعلیم یافتہ شخص کا پہلا اصول ہوتا ہے، لیکن ڈینٹل کالج کے اساتذہ و منتظمین نے تمام اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر عبدالباسط کو مایوسی اور شکست کی دلدل میں دھکیل دیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا معلمین اس کے سر پر ہاتھ رکھتے، اسے حوصلہ دیتے کہ تمھارا پرچہ آج یا کل ضرور لے لیا جائے گا۔ چونکہ عبدالباسط گزشتہ دو سال سے اسی پرچے میں فیل ہورہا تھا تو نتیجہ اس کا الٹ ہوتا۔ انسانیت کی جیت ہوجاتی۔

نسیم انجم

Read More