Wednesday, November 26, 2014

جارج بش، باراک اوباما اور پاکستان....


گیارہ ستمبر 2001ء یعنی سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بعد امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کی آٹھ منٹ کی فون کال کے دوران ہی جب پاکستان کے طاقتور آمر حکمراں جنرل پرویز مشرف نے کسی مشورہ یا منظوری کے بغیر ہی افغانستان کی نئی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا غیرمشروط اور یکطرفہ وعدہ کردیا تو چند روز بعد میں نے ’’جنگ‘‘ کے انہی کالموں میں لکھا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ پاکستان کے مفاد، مستقبل کی خوشحالی اور امن و استحکام کیلئے کیا ہے لیکن اگر جنرل مشرف اس جنگ کے خاتمے پر مجھے آج 2001ء کا یہی مشکلات مسائل کا شکار پاکستان ، اسی جغرافیہ کے ساتھ مجھے لوٹا دیں گے تو میں ان کے اس تاریخی فیصلے کو درست مان کر سلام کروں گا پھر جب جنرل پرویز مشرف سے نیو یارک میں آمنا سامنا ہوا تو اس حوالے بھی سے گفتگو بھی ہوئی اور میں نے اپنا موقف بھی بیان کیا کہ جب آپ جنگی یا دیگر تعاون بڑی طاقت کے ساتھ کرتے ہیں تو ’’فری لنچ‘‘ نہیں بلکہ اس تعاون کی قیمت، جزا اور مراعات لازماً وصول کی جاتی ہیں ہم پہلے بھی افغان جنگ میں پاکستان کو بھرپور انداز میں استعمال کروا کر انتہائی سستے داموں خود کو بڑا نقصان پہنچا چکے ہیں۔ اس سے سبق سیکھ کر ہمیں آئندہ کے لئے عملی سبق سیکھنا چاہئے جنگ کے نقصانات کا ازالہ اور جنگ کے بعد کے انعامات میں سے ہمیں اپنا حصہ لینا چاہئے۔ مگر جنرل مشرف اپنے موقف پر قائم رہے۔

اسی طرح جب پرویز مشرف کی موجودگی میں اس خاکسار نے امریکی صدر جارج بش کو ایک سوال کی شکل میں یاد دلایا کہ پچھلی افغان جنگ میں پاکستان کو استعمال کرنے کے بعد امریکہ نے کس طرح پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا بلکہ اقتصادی پابندیاں بھی عائد کیں تو امریکی صدر بش کا جواب تھا کہ اس مرتبہ امریکہ۔پاکستان تعلقات میں ’’شارٹ ڈانس‘‘ نہیں ہوگا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ راشد قریشی اور جنرل پرویز مشرف کے دیگر معاونین کس قدر خوش تھے بلکہ جنرل مشرف بھی خوب خوش نظر آئے تھے۔ جی ہاں! سابق ری پبلکن صدر جارج بش نے درست کہا تھا کہ اب ’’شارٹ ڈانس‘‘ نہیں ہوا۔ بلکہ جارج بش کی رخصتی اور ڈیموکریٹ صدر بارک اوباما کے چھ سالہ دور صدارت کے دوران بھی ’’پاک۔ امریکہ تعلقات‘‘ کا ’’ڈانس‘‘ جاری ہے اور پاکستان کی فوج، سیاست، معیشت، معاشرت اور پاکستانی سرزمین اپنےعوام سمیت پاک۔ امریکہ تعلقات کے اس ’’ڈانس‘‘ سے نہ صرف تھک چکی ہے بلکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہو چکی ہے۔

پاکستان پاک۔امریکہ تعلقات کا ’’ڈانس‘‘ کرتے کرتے تھک گیا ہے۔ اسے کچھ بریک لے کر اپنی حالت درست کرنے، توانائی بحال کرنے اور اپنے وسائل منظم کرنے کی شدید ضرورت بھی ہے تو پچھلے کئی سال سے جاری ’’ڈانس‘‘ کی ستائش کی ضرورت ہے۔ تو ڈیموکریٹ امریکی صدر کو آخر خیال آیا کہ جنوبی ایشیا کے اسٹیج پر اب کئی سال پرانے پاک۔ امریکہ تعلقات کے ڈانس کو ختم کر کے نیا پارٹنر تلاش کرکے نئے انداز میں نئے رنگوں اور نئے سازوں کے ساتھ نیا ’’بھارت امریکہ ڈانس‘‘ شروع کیا جائے پاک۔ امریکہ تعلقات کے ڈانس میں رزمیہ موسیقی پر تیز رفتار اور تھکا دینے والے ڈانس میں دونوں پارٹنر زخمی بھی خوب ہوئے، اب بھارت کے ساتھ ڈانس کی اس امریکہ۔ بھارت اسٹرٹیجک پارٹنر شپ میں برابری، معاوضے اور مفادات کے اصول پہلے طے پائے ہیں۔ کسی رومانس یا فری لنچ کے وعدوں کی بجائے خالص سیاسی اور کاروباری انداز کے اس امریکہ۔ بھارت طویل ڈانس کا آغاز ہو چکا ہے اور پاک، امریکہ تعلقات کا ڈانس پارٹنر یعنی پاکستان امریکہ کے لئے اب اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ ویسے بھی پاکستانی قیادت کی صفوں میں کسی میں اتنی جرات ہی نہیں کہ وہ جرأت و سچائی کے ساتھ پاکستانی موقف ہی امریکیوں کے سامنے بیان کر سکے۔ مسلم دنیا کے دوسرے قائدین بھی اپنی حکمرانیاں بچانے کے لئے خوف زدہ حالت میں شب و روز بسر کر رہے ہیں۔

امریکی صدر اوباما نے جنرل راحیل کی امریکہ میں موجودگی کے دوران ہی نئے سال میں جنوری میں بھارتی یوم جمہوریہ کی تقریبات میں بھارت جا کر بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت قبول کرکے یہ واضح کر دیا ہے کہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر بھارت کی شدید اشتعال انگیزیوں پر امریکی تشویش اور پاک بھارت امن کی خواہش محض ترجمانوں کے سرکاری بیانات کی حد تک محدود ہے۔ وہ بھارتی یوم جمہوریہ پر بھارتی فوج اور اسلحہ کی نمائش بھی دیکھیں گے۔ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے پاکستان کی مشرقی سرحدوں یعنی پاک بھارت سرحدوں اور کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزیوں کا مسئلہ اپنی امریکیوں سے ملاقاتوں میں اٹھایا ہے اور امریکہ نے بڑی تشویش کے اظہار کے ساتھ نوٹس لیا ہے۔ مگر صدر اوباما کے بھارت کے دورے کے اعلان نے حقیقت واضح کر دی ہے۔

پاکستان نے تو امریکی دبائو اور یقین دہانیوں کے بعد ہی اپنی مشرقی سرحدوں سے اپنی فوج کو پاک۔ افغان علاقوں میں منتقل کرکے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ فوج متعین کی جبکہ مشرقی سرحدوں پر پاکستانی فوج کی زبردست کمی کا پورا پورا فائدہ اٹھا کر بھارت سرحد پار جاسوسی، اشتعال انگیزی اور بلوچستان میں تخریب کاری میں اضافہ کر رہا ہے۔ پاکستان کے سیاسی اور عسکری قائدین کو کسی خوش فہمی یا وعدوں پر انحصار کرنے کے شوق میں مبتلا رہنے کی ضرورت نہیں۔ مزید مشکل حالات سامنے آنے کو ہیں۔فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے 19 نومبر کو پاکستانی سفارتخانہ کے ڈنر میں اپنی چار منٹ کی مختصر تقریر میں دہشت گردی کے انسداد کیلئے پاک۔افغان تعاون کے نئے رشتوں اور اگلے چند ہفتوں اور مہینوں میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے اور تبدیلیوں کے جس ’’سمندر‘‘ کی جرأت مندانہ یقین دہانی کرائی ہے خدا انہیں اس مشن میں کامیاب کرے لیکن یہ مشن محض تعاون کے وعدوں کی خوشگوار امریکی گفتگو سے حاصل نہیں ہو سکتا۔

افغانستان اور پاکستان کو ایک ساتھ بریکٹ کرکے دہشت گردی کے خاتمہ کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ جو جنگ کسی اور کی تھی اب یہ ہماری اپنی بقاء کی لازمی جنگ بن چکی ہے۔ پہلے پاکستانی تعاون پر امریکہ ہمارا شکر گزار تھا ،آج ہماری قیادت ٹیکس ادا کرنے والے امریکی عوام اور امریکی حکومت کا تعاون اور مدد کرنے پر ہم شکریہ ادا کرکے رول بدلنے اور علاقہ میں مفادات اور ترجیحات کے تبدیل ہونے کی تصدیق تو کررہی ہےتو گویا ہم اپنا ثانوی رول اور اپنی اہمیت میں کمی کو تسلیم بھی کررہے ہیں لیکن اپنے پاکستانی عوام کو سچ اور حقائق بتانے سے آج بھی گریز کررہے ہیں۔ ماضی کے ہمارے سابق حکمراں بھی ابھی تک اپنے دور میں کئے گئے غلط فیصلوں اور ان کے نقصان دہ نتائج کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ہم تو آج بھی یہ حقیقت ماننے سے انکاری ہیں کہ ہماری غلطیوں، کوتاہیوں اور غیر دانشمندی کے باعث ہمارا ہم پلہ پڑوسی بھارت ہم سے بہت آگے نکل گیا ہے ہم ابھی تک داخلی بحرانوں، آمرانہ روشوں، کرپشن لوٹ مار اور بدامنی کی لپیٹ میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اپنی بقاء کے اس خطرناک مرحلے میں بھی ہم دھرنوں اور تشدد کی سیاست میں لگے ہوئے ہیں۔کینیڈین پاسپورٹ کی تجدید اور فنڈ ریزنگ کے بہانے دھرنا ختم کرکے کینیڈا اورامریکہ آنے والے علامہ طاہر القادری نئے مشورے، نئی ہدایات کے ساتھ تازہ دم ہوکر عمران خان سے راستے جدا کرکے پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں۔ ان کے کینیڈین پاسپورٹ کی تجدید اسلام آباد میں کینیڈین سفارتخانہ بھی کر سکتا تھا اور امریکہ میں تین چھوٹے سائز کے جلسوں میں کتنی فنڈ ریزنگ ،کس قانون کے تحت سیاسی مہم کیلئے ہوئی؟ وزٹ کے اصل مقاصد ہی کچھ اور تھے۔ پاک، امریکہ تعلقات کے ’’شارٹ ڈانس‘‘ والے صدر جارج بش کے بعد اب صدر اوباما بھارت۔ امریکہ لانگ ڈانس میں شریک ہیں۔

عظیم ایم میاں
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

George Bush, Barak Obama and Pakistan

سراج الحق کا پاکستان....