Tuesday, January 27, 2015

مفید ترین شخصیت کیسے بنا جا سکتا ہے؟....

جس کمپنی یا ادارے میں آپ کام کر رہے ہیں، اس میں ترقی کی طرف بڑھنا آپ کا حق ہے۔ لیکن ترقی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھے رہیں۔ بلند سے بلند تر مقام حاصل کرنے کے لیے بنیادی شرط ’’مسلسل جدوجہد‘‘ ہے۔ یہ جدوجہد ایسی ہونی چاہیے کہ جس سے یہ ظاہر ہو کہ آپ متعلقہ ادارے کے خیرخواہ ہیں۔ اس کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو ادارے میں آپ کی حیثیت پہیے کے دندانوں جیسی رہے گی۔اگر آپ ترقی کے خواہش مند ہیں تو اس کے لیے سب سے مفید اور بنیادی کلیہ یہ ہے۔

-1پہلے سوچییے! -2پھر اسے لکھ لیجیے! -3 اور پھر اس پر عمل کیجیے! عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ اس مفید آئیڈیے کو مفید سمجھتے ہیں تو اس کا اظہار اپنے مالک سے کر دیجیے۔ ڈاکٹر ولیم۔ ایم۔ سکال نے کہا تھا:’’اگر آپ کو کوئی مفید خیال سوجھتا ہے تو اس پر فوراً عمل کیجیے یا اپنے مالک کو بتا دیجیے۔ اگر آپ مناسب موقعے یا وقت کا انتظار کرتے رہیں گے تو یہ مناسب وقت کبھی نہیں آنے والا۔ پھر پچھتانا احمقانہ بات ہو گی۔‘‘ اپنے خیال کو کسی دوسرے وقت پر نہ ٹالیے۔

ایسا کرکے آپ سنہرے موقعے کو ضائع کرتے ہیں۔ جو لمحہ آپ کے ہاتھ میں ہے اس سے فائدہ اٹھایئے۔ اپنے خیال یا تجویز یا مشورے کو مت چھپایئے۔ آپ کا یہ رویہ آپ کو بہت نقصان پہنچا سکتا ہے۔اس خوف کو دل سے نکال دیجیے کہ آپ کی تجویز یا مشورہ آپ کو ندامت سے دوچار کر سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ سننے والا اسے ناقابل عمل کہہ دے۔ اس سے دل برداشتہ ہو جانا اپنے آپ کو ’’شکست خوردہ‘‘ ثابت کرنا ہے۔ ہمت نہ ہاریئے اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہیے۔ کوشش کریں کہ آپ کے پاس زیادہ سے زیادہ مفید تجاویز ہوں۔ اپنے آپ کو ’’مفید ترین شخصیت‘‘ بنائیے۔ اس میں آپ کی جیت ہے۔ صرف اسی طریقے سے آپ جلد از جلد امیر ترین بن سکتے ہیں۔

 (ایم- آر- کوپ میئر کی تصنیف سے مقتبس)

دہشت گردی کا حامی کون؟....



Monday, January 26, 2015

مدارس کی اصلاح۔۔۔ چند تجاویز.....

ایک عرصے سے مذہبی مدارس کی اصلاح پر زور دیا جا رہا ہے۔ سالہا سال سے اس موضوع پر تجاویز کے پلندے اکٹھے کئے جا رہے ہیں لیکن یہ ’’وبا‘‘ ہے کہ طول پکڑتی جا رہی ہے۔

جس طرح کسی ہجوم میں یہ پہچاننا ناممکن ہوتا ہے کہ مجرم چہرہ کون سا ہے اور معصوم کون سا، اسی طرح مدارس کے ہجوم میں ایسے مدرسے کو سنگل آؤٹ نہیں کیا جا سکتا کہ فلاں مدرسہ واقعی ایک مذہبی تدریس گاہ ہے اور فلاں معاشرے کا وہ ناسور ہے جس کی بیخ کنی کے لئے آج پاکستان کی سویلین حکومت کو فوجی عدالتیں قائم کرنا پڑی ہیں۔

اس تناظر میں فی الوقت میرے ذہن میں چھ ایسی تجاویز آ رہی ہیں جن کو اپنے قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ وزارتِ مذہبی امور اور وزارتِ داخلہ کے کار پردازوں سے بھی میری درخواست ہے کہ ان پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، ممکن ہے ان پر سو فیصد عمل درآمد نہ کیا جا سکے لیکن اربابِ اختیار اگر ان کو آج صرف رجسٹر ہی کر لیں تو آنے والے ایام میں شائد ان کی صدائے باز گشت، کسی کام آ سکے۔

اول: ’’تاریخِ مدارسِ پاکستان‘‘ کے نام سے ایک ایسی تاریخ شائع کی جائے جس میں1947ء سے لے کر آج تک مُلک کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت، بلتستان میں قائم ہونے والے مدارس کی تمام تفصیل موجود ہو۔۔۔۔ یہ ایک بڑا کام ہے، حساس نوعیت کا ہے اور حساس تر توجہ بھی مانگتا ہے۔

میرے خیال میں اگر ہو سکے تو ایک صدارتی فرمان کے ذریعے کسی بھی ایسی نئی مسجد کی تعمیر غیر قانونی قرار دی جائے جس میں طلبا و طالبات کے لئے اقامتی اور تدریسی سہولیات موجود ہوں یا ان کا آئندہ امکان ہو اور جس کی منظوری قبل ازیں حکومت سے نہ لی گئی ہو۔ مَیں سمجھتا ہوں اگر ٹیلی فون ڈائریکٹری اپنی فربہ اندام ضخامت کے ساتھ ہر سال شائع کی جا سکتی ہے تو ’’تاریخِ مدارسِ پاکستان‘‘ تحریر کرنا کچھ ایسا ناممکن نہیں ہو گا۔ مزید سہولت کر کے صوبائی سطح پر شائع کرنے کا بھی سوچا جا سکتا ہے۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ اس تصنیف میں صرف ایسی مساجد کا اندراج کیا جائے، جن کے ساتھ کوئی مدرسہ ملحق ہو۔ ’’خالص‘‘ مساجد کی تاریخ بھی اگر شائع کرنی مقصود ہو تو اس کے لئے ایک علیحدہ کاوش کی جا سکتی ہے۔

دوم: مدارس میں زیر تعلیم طلباء کے والدین کا مکمل ریکارڈ موجود ہونا چاہئے۔ اس ریکارڈ میں والدین کے شناختی کارڈ کی کاپیاں موجود ہوں جو نادرا سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہوں۔ متعلقہ وزارت/محکمے کے ارکان گاہے بگاہے ان شناختی کارڈوں کی مزید تفتیش و توثیق موقع پر جا کر کر سکتے ہیں۔ جو طلبا کسی مدرسے سے فارغ التحصیل ہو جائیں ان کا ریکارڈ بھی موجود ہونا چاہئے۔یہ سراغ بھی لگانا چاہئے کہ یہ فارغ التحصیل طلباء سوسائٹی کی مین سٹریم میں اب کیا رول ادا کر رہے ہیں اور اس رول کی قومی اہمیت و افادیت کیا ہے۔

سوم: سب سے اہم نکتہ ان مدارس کو فنڈز کی فراہمی کا ہے۔ حکومت اس سلسلے میں جو تگ و دو کر رہی ہے، وہ لائق تحسین ہے، لیکن جو پریکٹس عشروں سے جاری ہو اور جسے مذہب کا چھاتہ بھی میسر ہو، اس کو ایک قلیل مدت میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ آج اگر کسی دریا کا منبع بالکل بند کر دیا جائے تو دریا کو خشک ہوتے ہوتے ایک قابلِ لحاظ عرصہ درکار ہو گا۔

جو غیر ملکی حکومتیں یا مخیر تنظیمیں پاکستان میں کسی مدرسے کی مالی معاونت فرما رہی ہوں ان کا پورا ریکارڈ منظر عام پر لایا جائے۔ میڈیا کو اس کام کے لئے آگے بڑھنا چاہئے۔ ٹاک شوز کا ایک ایسا سلسلہ شروع کرنا چاہئے جس میں ان ’’مالی معاونتوں‘‘ کی پوری تاریخ (اور جغرافیہ) واشگاف بلکہ برہنہ کیا جائے تاکہ پاکستانی عوام کو معلوم ہو کہ دوست کے پردے میں دشمن کون ہے اور دشمن کے ترکش میں کس کس دوست مُلک کے تیر ہیں۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے حال ہی میں برطانیہ کا جو دورہ کیا ہے اور وہاں جا کر برطانوی ارباب ِ حکومت کو جو آئنہ دکھایا ہے اس کی خبریں میڈیا پر آ رہی ہیں۔ ان کا یہ دورہ ایک غیر روائتی اقدام تھا اور دورے کا ایجنڈا اس سے بھی غیر روائتی تھا۔ کسی جمہوری مُلک میں کسی آرمی چیف کو اتنے پریشر کا سامنا نہیں ہوا جتنا جنرل راحیل کو ہوا ہے۔ سیاسی حکومت کو اپنے آرمی چیف کے اس اقدم سے سبق اندوز ہونا چاہئے۔

میرے خیال میں جنرل راحیل شریف کا اگلا اقدام یہ ہونا چاہئے کہ وہ اِسی قسم کا ایک دورہ اُن مسلم ممالک کا بھی کریں کہ جن کے تومان، ریال اور درہم و دینار، پاکستانی مساجد و مدارس کی سالانہ آبیاری کر رہے ہیں۔ آئی ایس آئی کے پاس ایسے ثبوت موجود ہوں گے جن میں ان ’’برادر اسلامی ملکوں‘‘ نے پاکستان کے مدارس کی مالی معاونت کر کے ایک مذہبی پراکسی وار کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ یہ برادر اسلامی ممالک، پاکستان کے اصل مارِ آستیں ہیں۔ پاکستان کو خواہ ’’گھاس‘‘ بھی کھانی پڑے، آستین کے اِن سانپوں کا سر کچلنا پہلی ترجیحی ہونی چاہئے۔ جنرل راحیل کو ان عرب اور ایرانی ’’بھائیوں‘‘ سے مل کر انہیں وہی کچھ کہنا چاہئے جو ’’برادر ڈیوڈ کیمرون‘‘ کو کہا گیا ہے!

چہارم: تمام مدارس کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے کہ وہ کہاں سے ’’ہاتھ‘‘ آئے۔ ان سب کو فروخت کر کے اوقاف فنڈ میں منتقل کر دیا جائے۔ اگر کسی بریلوی مزار کو اوقاف کے ماتحت لایا جا سکتا ہے تو کسی وہابی مدرسے یا شیعہ امام بار گاہ کو کیوں نہیں؟

پنجم: ہمارے وزیر داخلہ نے اگلے روز اسلام آباد میں اس موضوع پر ’’متعلقہ بزرگوں‘‘ سے طول طویل گفتگو کی ہے، جس کی تفصیل میڈیا پر آ چکی ہے۔ اس تفصیل کے مطابق مُلک میں10فیصد مدارس ایسے ہیں جن پر شبہ ہے کہ وہ دہشت گردوں کے معاونت کار رہے ہیں (اور اب بھی ہیں) ان مدارس کے خلاف جو کارروائی حکومت کرے گی، اس میں اس نئی شق کا اضافہ بھی ہونا چاہئے کہ اس کی انتظامیہ کو سیک (Sack) کر کے ایک نئی انتظامیہ تشکیل دی جائے۔ اور اگر ایسا کرنا فی الحال ممکن نہ ہو تو وہ موضوعات جو ان مدارس میں پڑھائے جاتے ہیں، ان کا تدریسی عملہ فی الفور سبکدوش کر دیا جائے۔ اور اس کی جگہ نئی بھرتی کی جائے۔

ہمیں معلوم ہے کہ1971ء کی پاک بھارت جنگ میں مشرقی پاکستان کے سکولوں اور کالجوں میں غیر مسلم اساتذہ نے جو رول ادا کیا تھا، وہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کی تحریک میں کتنا پیش پیش تھا۔ کسی بھی تحریک کی نظریاتی پرورش کے لئے ایسے اساتذہ کا رول بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو اپنے مشن کے ساتھ اندھا دھند حد تک مخلص ہوں اور خود ان کی اپنی نظریاتی پرورش بھی ایک مخصوص اندھا دھند سانچے میں ڈھلی اور ایک مخصوص ماحول میں پروان چڑھی ہو۔ مشتبہ مدارس کے یہ اساتذہ ان مدارس کی گویا ’’مشتبہ کور کمیٹیاں‘‘ ہیں ، ان کو جتنی جلد ہو سکے Replace کیا جانا ضروری ہے۔

ششم: جن10فیصد مشتبہ مدارس کا ذکر چودھری نثار علی خان نے کیا ہے، ان کی اکثریت میں ذریعہ تعلیم و تدریس پشتو ہے۔ پشتو زبان ویسے بھی پاکستان کی دوسری بڑی زبان ہے۔ مقامِ افسوس ہے کہ معاشرے پر زبان کی تاثیر اور اس کے اثرات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ مشرقی پاکستان 25سال تک ہمارے ساتھ رہا۔ بنگالیوں کے ساتھ میل ملاقاتوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں غیر مسلم اساتذہ کا اوپر جو ذکر کیا گیا، اس کے ساتھ مغربی پاکستان میں بنگالی زبان کی عدم تفہیم بھی مشرقی بازو کی علیحدگی کا سبب بنی۔ زبان کی اس اجنبیت نے بنگال رجمنٹ اور ایسٹ پاکستان رائفلز کی صورت میں پاکستان آرمی کی مین سٹریم کو جس قدر اور جتنا نقصان پہنچایا، اس کی تاریخ نہایت دردناک ہے۔ بنگالی افسروں نے1971ء کی جنگ میں پاکستان آرمی کے ساتھ جو غداری کی اس میں پاک فوج کی اکثریت کی بنگلہ زبان سے نا آشنائی بھی ایک ایسا اہم عنصر تھا،جس پر آج تک کوئی تفصیلی سٹڈی نہیں کی گئی۔۔۔۔ یہی کھیل اب فاٹا اور فاٹا کے گردو نواح کے علاقوں میں کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان کا ہر پشتون شہری اردو سے ایک بڑی حد تک واقف ہے لیکن ہر شہری پشتو سے ایک بڑی حد تک ناواقف ہے۔

مشتبہ مدارس میں ذریعہ تدریس اگر پشتو ہو تو ہر پاکستانی کو پشتو زبان سے شناسائی اِسی لئے ضروری ہے کہ وہ یہ جان سکے کہ ان مدارس میں کس مذہبی موضوع پر کتنے غلو سے کام لیا جا رہا ہے۔ جو دہشت گرد پکڑے جاتے ہیں ان میں اکثریت کی زبان پشتو ہوتی ہے۔ ان سے انٹر ایکشن کرنے میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی بعض اوقات مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر دو دہشت گرد موبائل فون پر ہم کلام ہوں تو پاس کھڑا پشتو نہ سمجھنے والا کوئی بھی پاکستانی یہ نہیں جان سکتا کہ اس کے سامنے اس کا قاتل کھڑا ہے یا کوئی ہم قوم یا ہم مذہب ہے!۔۔۔مجھے یقین ہے متعلقہ وزارتیں متذکرہ بالا موضوعات سے واقف ہوں گی کہ دہشت گردی کا یہ جان لیوا عارضہ ایک طویل عرصے سے پاکستان کو لاحق ہے۔ بایں ہمہ مَیں محسوس کرتا ہوں کہ بارِ دگر ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جائے۔

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

Sunday, January 25, 2015

شاہ عبداللہ کی وفات اور مشرق وسطیٰ....


اسلامی دنیا کے اہم ملک سعودی عرب کے چھٹے بادشاہ شاہ عبداللہ کا نو سال پر محیط اقتدار اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے علیل شاہ عبداللہ 22 اور 23 جنوری کی درمیانی شب خالق حقیقی سے جاملے۔شاہ عبداللہ کئی عرصے سے پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا تھے اور گزشتہ کئی دنوں سے وینٹی لیٹر پر تھے۔ 90 سالہ شاہ عبداللہ نے اپنی زندگی میں ہی مملکت سعودی عرب کے معاملات اپنے سوتیلے بھائی ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز کو سونپ دئیے تھے۔ جو 48سال تک ریاض کے گورنر رہے ہیں۔79 سالہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز صرف20 سال کے تھے تو انہیں وزیر بنا دیا گیا تھا۔

 اپنے بھائی شہزادہ نائف کی وفات کے بعد 2012 میں ولی عہد مقرر ہوئے اور شاہ عبداللہ مرحوم کی خرابی صحت کے باعث مختلف تقریبات میں ان کی نمائندگی کرتے رہے۔ شاہ عبداللہ کی موت کی خبرنے پوری اسلامی دنیا کو غمگین کردیا۔ حافظ عبدالکریم بتا رہے تھے کہ شاہ عبداللہ کی موت پر سعودی عرب کی گلیاں ویران ہیں۔ پورے ملک کی فضا سوگوار ہے۔ شاہ عبداللہ کو ایک اچھے بادشاہ کے طور پر لیا جاتا تھا۔ شاہ عبداللہ کو جمعہ کی نماز کے بعد ریاض میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف، مصر کے وزیر اعظم ابراہیم ملہب، سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان موجود تھے۔

شاہ عبداللہ کو تو شاہی خاندان کے فرمانرواؤں نے اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ایک بے نشان قبر میں دفنا دیا ہے مگر شاہ عبداللہ کی موت کے عالم اسلام بالخصوص مشرق وسطی پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟ کیا شاہ سلمان مشرقِ وسطی کے حوالے سے سعودی عرب کی سابق پالیسیاں جاری رکھیں گے؟ کیا خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ سے سعودی عرب کو محفوظ کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے؟ تیل کے حوالے سے نئے سعودی حکمران کی کیا پالیسی ہوگی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات کا ہر شخص متلاشی ہے۔ آج کے کالم میں ان سوالات کا احاطہ کرنے کی کوشش کروں گا۔

سعودی عرب کے نئے بادشاہ سلمان نے عہدہ سنبھالنے کے چند گھنٹوں بعد ہی ایک بیان جاری کیا کہ ’سیکورٹی اور استحکام برقرار رکھنے اور سلطنت کی تمام برائیوں سے حفاظت کرنے میں اللہ میری مدد کرے۔' اس بیان سے نئے بادشاہ کی ترجیحات کے بارے میں اندازہ ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے نئے بادشاہ اندرونی اور بیرونی طور پر کئی معاملات کو مزید بہتر بنانے کے لئے کام کریں گے۔ اس حساس وقت میں سعودی شاہی خاندان کے جانشینی کا عمل خوش اسلوبی سے حل ہوچکا ہے۔ مگر نئے بادشاہ کو غیر معمولی رفتار سے کچھ ممکنہ مسائل سے نمٹنا ہو گا۔ 
شاہ سلمان کی جانب سے اپنے سوتیلے بھائی شہزادہ مقرن کو ولی عہد مقرر کر نا دانشمندانہ اقدام تھا۔ اس کے بعد نیا نائب ولی عہد مقرر کرنے کا اعلان سامنے آیا۔ نائب ولی عہد وزیر داخلہ محمد بن نائف کو مقرر کیا گیا ہے اور یہ شہزادوں کی نئی نسل کے پہلے شخص ہیں جنھوں نے تخت تک جانے والی سیڑھی پر قدم رکھا ہے۔ محمد بن نائف شہزادہ نائف کے بیٹے ہیں ۔جو شاہ عبداللہ اور شاہ سلمان کے بھائی تھے۔ 2012 تک وہ سعودی عرب کے ولی عہد رہے اور انہی ہی کی وفات کے بعد شاہ سلما ن کو ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔ پھر شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کو وزیر دفاع بھی مقرر کردیا۔

شاہ سلمان کے دور میں پہلی بار آل سعود کی تیسری نسل اقتدار کا حصہ بن رہی ہے۔ کیونکہ شاہ عبداللہ کا خیال تھا کہ ابھی اقتدار ہم بھائیوں میں رہے۔ اور تیسری نسل کو اقتدار میں کچھ عرصے بعد شریک کیا جائے اور شاید اس سے بہتر موقع نہیں تھا۔

حالیہ رونما ہونے والے واقعات سے شاہی خاندان کی اکثریت مطمئن ہو گی۔ خاندان کے درمیان کچھ معاملات خوش اسلوبی سے طے کرانے میں ہمسایہ ملک کے سربراہ کا بھی کردار ہے۔ جنہوں نے چند روز قبل عمرے کی غرض سے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ جب شاہ عبداللہ وینٹی لیٹر پر تھے۔

بادشاہ سلمان کو جن نئے چیلنجوں کا سامنا ہوگا۔ اس میں سیکورٹی بہت اہم ہے۔ ان کی اولین ترجیح ملک میں سیکورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا ہوگی۔داعش کے خطرے سے سعودی عرب کو محفوظ کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ جس کا وہ اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بھی تذکرہ کرچکے ہیں۔ شدت پسندوں کو سعودی عرب کے اندر حملوں سے باز رکھنے کی پالیسی کے تحت اسلامی رہنماؤں اور پڑھانے والے افراد کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ عراق کے حوالے سے بھی شاہ سلمان کی پالیسی میں تبدیلی آنے کا کوئی خاص امکان موجود نہیں ہے۔ کیونکہ اس وقت وزیر دفاع انہی کے صاحبزادے ہیں اور وزیر داخلہ شہزادہ نائف کے فرزند ہیں۔ اس لئے سعودی عرب میں شاہ سلمان کا دور ایک اچھے دور کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

شاہ سلمان اپنے پیشرو عبداللہ کی طرح وہاں زمینی فوج نہ بھیجنے کے فیصلے پر قائم رہیں گے کیونکہ سعودی رہنماؤں کی رائے کے مطابق ملکی فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔یمن کے حوالے سے بھی سابق پالیسی جاری رہے گی مگر یمن میں القاعدہ کا بڑھتا ہوا اثر مشرق وسطیٰ کے لئے خطرہ ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب خطے میں امن کی کوششوں کو جاری رکھنے کے لئے اقدامات کی کوشش کرے گا۔ لیکن بادشاہ سلمان خطے کے تنازعات میں مداخلت کرنے پر کم مائل ہوں گے اور خطے کے دوسرے ممالک میں دخل اندازی کو ترجیح نہیں دیں گے۔

شاہ سلمان کا دور اصلاحات کے دور کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے ۔بادشاہ کے اندرونی طور پر درپیش مسائل میں سے ایک حقوق انسانی ہیں اور توقع ہے کہ ان کے بارے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔اس بات کا کم ہی امکان ہے کہ وہ اپنے پیشرو عبداللہ کے اقدامات کو واپس لیں گے۔اس کے علاوہ سلطنت کی تیل کے بارے میں پالیسی پر بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔سعودی عرب تیل کی پیداوار میں کٹوتی نہ کرنے کی پالیسی کو جاری رکھے گا ۔پیٹرولیم کی وزارت پر علی نائمی کو برقرار رکھنےسے یہ تاثر ملتا ہے کہ موجودہ پالیسی ہی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک سعودی عرب اور تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک کم قیمتوں کو برداشت کر سکتے ہیں جس میں امریکہ میں شیل پیٹرول کی صنعت کے لئے مشکل حالات پیدا کرنے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے اوپیک کی مارکیٹ متاثر ہو رہی ہے۔لیکن یہ طے ہے کہ شاہ سلمان کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پالیسی میں اہم تبدیلیاں رو نما ہوسکتی ہیں۔

حذیفہ رحمان
بہ شکریہ روزنامہ جنگ

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...