Monday, September 1, 2014

افواہوں کا بازار.......اسلام آباد.



 سلام آباد کے ڈی چوک میں دو سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے خلاف پولیس کے تشدد اور آنسو گیس کے استعمال کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پہچا تو وہاں چند مخصوص کردار نظر آئے۔
ایک نیلی جینز جیکٹ اور شرٹ میں ملبوس صاحب نے مجھے سوال جواب کرتے ہوئے دیکھا تو میرے پاس آئے اور اندازہ لگایا کہ میں شاید میڈیا سے ہوں تو انھوں نے مجھے بہت رازداری اور ذمہ داری سے ’کچھ اہم معلومات‘ پہنچانا شروع کر دیں۔
 
ساری رات اس طرح کے کئی کردار آتے اور جاتے رہے جن کا مقصد مجھے اور میڈیا کے بعض دوسرے افراد کو ’اہم معلومات‘ فراہم کرنا تھا۔
اسی دوران پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک رکنِ پارلیمان تشریف لائے جنہوں نے اپنا استعفیٰ دے رکھا ہے اور انھوں نے ہسپتال کا دورہ کرنے سے پہلے ہی میڈیا کے سامنے دھواں دار بیانات دینے شروع کیے۔ اُن کی باتوں کی بنیاد اسی طرح کے لوگوں کی ’اہم معلومات‘ تھی۔
جب یہ بیانات میڈیا کے سامنے دیے جا رہے تھے تو میں جونیئر ڈاکٹروں کے ساتھ ایک کمرے میں سب سن رہا تھا اور وہ سب بیک زبان کہہ رہے تھے ’یہ سب بالکل غلط ہے۔‘
ان جونئیر ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ’ہسپتال کی انتظامیہ نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا اور لاشوں کے غائب کیے جانے اور ہسپتال نہ پہنچنے دینے کی باتیں بالکل درست نہیں ہیں۔‘

ایک اور رکن قومی اسمبلی کچھ دیر میں تشریف لائے جب ان سے بات کی تو ان کی گفتگو، باتوں اور انداز سے اندازہ ہوا کہ وہ کس طرح کی مجلس سے اٹھ کر آ رہے تھے کیونکہ ان سے جو بو آ رہی تھی وہ کم از کم آنسو گیس کی نہیں تھی۔
ان رکن قومی اسمبلی نے ٹی وی چینلوں پر چلنے والی افواہوں اور ہسپتال میں پہنچتے ہی سرگوشیاں کرنے والے ’مخصوص کرداروں‘ کی باتوں میں آکر ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹرعائشہ عیسانی سے کہا کہ مریضوں کی دیکھ بھال نہیں ہو رہی۔ اس پر ڈاکٹر عائشہ نے انھیں ہسپتال کے اُن وارڈوں کا دورہ کروایا جہاں مریض پہنچے اور انھیں سب کچھ دکھایا، جس کے بعد اُن کے پاس کہنے کو کچھ ہیں تھا۔

ہسپتال کے مختلف وارڈوں میں دیکھا کہ بڑی تعداد میں آنے والے لوگوں پر آنسو گیس کے اثرات تھے۔
زخمی ہونے والے افراد میں سے غالب اکثریت کا تعلق پاکستان عوامی تحریک سے تھا جن کے سروں یا گردنوں پر چوٹیں آئی تھیں، جن میں سے بعض کا بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔

ڈیوٹی پر موجود دو ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ دو مختلف افراد کی موت اُن کے سامنے ہوئی مگر نہ ہی ان ڈاکٹروں نے مجھے لاشیں دکھائیں اور نہ ہی مجھے اپنی ساری رات کی تلاش میں کوئی ایسی لاشیں ملیں یا ان ہلاکتوں کے کوئی اور گواہ۔
دو افراد آئی سی یو میں داخل تھے جنھیں بہت ہی بری حالت میں ہسپتال میں لایا گیا جن میں سے ایک کے پیٹ جب کہ دوسرے کے سر میں چوٹیں لگیں تھیں۔


 بغیر ثبوت، بغیر شواہد کے خبریں سُن سُن کر سوشل میڈیا پر ساری رات لوگ ایک کی دو اور دو کی چار بنا کر آگے بڑھاتے رہے۔"

ہسپتال کے ایک ذمہ دار افسر نے مجھے بتایا کہ ان دونوں افراد کی حالت تو رات کو ہی خطرناک سے بھی بری تھی مگر اُن کی ’طبی موت‘ ابھی واقع نہیں ہوئی‘ تھی جو اتوار کو صبح ہو واقع گئی۔
سب سے اہم بات یہ دیکھی کہ بہت زیادہ جھوٹی اور بے بنیاد باتیں ایسے لوگ کر رہے تھے جن کے پاس نہ تو کوئی شواہد تھے اور نہ معلومات اور نہ ہی اُن کا اس سارے معاملے سے تعلق تھا، مگر سنی سنائی بغیر دیکھی باتیں ایک سے دوسرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا تھا۔
میرے سامنے ایک نجی چینل کے رپورٹر نے کہا کہ ایک شخص ہلاک ہو چکا ہے جب اُن سے ثبوت کا پوچھا تو اُن کا جواب تھا کہ ’میں نے ٹی وی کی فوٹیج دیکھی ہے جس میں نظر آ رہا ہے۔‘

بغیر ثبوت، بغیر شواہد کے خبریں سُن سُن کر سوشل میڈیا پر ساری رات لوگ ایک کی دو اور دو کی چار بنا کر آگے بڑھاتے رہے جس سے ابھرنے والی نفرت اور غصے کی لہر وقت کے ساتھ شاید تھم جائے گی مگر پاکستان میں کون ہے جو وقت گزرنے کے بعد ثبوت مانگے گا؟

طاہر عمران

فوج سے ثالثی کا مطالبہ......


پاکستان کی سیاست میں فوج کے کردارکو کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری ریاست میں سیاست اب بھی ایک کمزور فریق کے طور پر موجود ہے ۔ اگرچہ ہم دعویٰ تو بہت کرتے ہیں کہ ہماری جمہوریت اور جمہوری ادارے ماضی کے مقابلے میں کافی مضبوط ہوگئے ہیں لیکن عملاً اس میں حقیقت کم اور خواہشات کی عکاسی زیادہ بالادست نظر آتی ہے ۔

سیاست میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کو دیکھنے یا پرکھنے کے لیے اہم پہلو سیاسی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔سیاست میں آسان یا مشکل مراحل کا سامنے آنا فطری امر ہوتا ہے ۔ یہ ہی وہ موقع ہوتا ہے جہاں سیاسی و جمہوری قیادتوں کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ پیش آنے والے واقعات یا مسائل کو کیسے پرامن اور جمہوری طریقے سے نمٹ کر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ہماری سیاسی قیادت ان معاملات میں ایک وسیع تجربہ رکھنے کے باوجود بدستور ناکامیوں سے دوچار ہے ۔

یہ بحث کہ پاکستان کی جمہوری اور سیاسی ناکامی کی پہلی اور آخری وجہ فوج کی سیاسی معاملات میں حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی مداخلت ہے ، مکمل سچ نہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فوج کی بار بار مداخلت سے پاکستان کی جمہوری سیاست کے تسلسل میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں ، لیکن اس میں خود سیاسی قوتوں کا اپنا بھی کردار ہے ۔ کیونکہ ہماری بیشتر سیاسی جماعتیں اور قیادتیں اقتدار کے حصول ، کسی کی حکومت کو بنانے یا توڑنے ،سیاسی لین دین، سمجھوتوں سمیت اقتدار کی مضبوطی کے لیے فوج ہی کی طرف دیکھتی ہیں ۔

بعض سیاسی جماعتیں تو اپنی سیاسی حکمت عملیوں کو فوج کی پالیسیوں کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیتی ہیں ۔ سیاسی قوتیں اپنی جماعتوں کو مضبوط کرنے کی بجائے انھیں خاندانی اور آمرانہ سیاست کا حصہ بناکر خود جمہوری نظام کو کمزور کرتی ہیں ۔ جہاں بھی سیاسی قوتیں مضبوط ہونگی اور بحرانوں میں کسی سہارے کی تلاش کی بجائے اپنے مسائل کو خود حل کرنے کی صلاحیت دکھائیں گی ، وہاں فوج کا سیاسی کردار خود بخود محدود ہوجاتا ہے ۔

حالیہ اسلام آباد میں جاری دھرنوں کا حل بھی سیاسی جماعتوں سمیت پارلیمنٹ بھی تلاش نہیں کرسکی ہیں یہاں تک کہ مذاکرات سے حکومت سمیت تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی ابتدائی طور پر انکاری کا پہلو بھی فوجی مداخلت یا مشورہ کی وجہ سے آگے بڑھا۔فوج کی جانب سے سیاسی قوتوں کو جاری کردہ پیغام کہ معاملات سیاسی اور پرامن طور پر حل کرنے اور بامعنی اور بامقصد مذاکرات کے مشورہ نے ہی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی۔مسلم لیگ )ن( اور وزیر اعظم کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت میں اب وزیراعظم سب سے بڑے مخالف ہیں لیکن پچھلے 15 دنوں میں وزیر اعظم، وزیر اعلی پنجاب اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کی فوجی قیادت سے تواتر سے ملاقاتوں کی کہانی کچھ اور صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
اگرچہ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ وزیر اعظم، وزیر اعلی پنجاب اور وزیر داخلہ کی فوجی قیادت سے ملاقاتوں کا مقصد محض سیکیورٹی کے معاملات ہیں حالانکہ ان ملاقاتوںمیں براہ راست ’’دھرنوں کی سیاست ‘‘ بھی زیر بحث رہی ، اس موضوع میں مسئلہ محض سیکیورٹی کا ہی نہیں بلکہ سیاسی معاملات بھی زیر بحث آئے۔ اگرمسئلہ سیکیورٹی کا تھا تو اس کے لیے تو محض وزیر داخلہ ہی کافی تھے ۔ فوج کی قیادت نے ان ملاقاتوں پر اسی نقطہ پر زور دیا کہ ان کا کردار محض سیکیورٹی تک محدود ہے، سیاسی معاملات کو حکومت خود سیاسی طریقے سے نمٹنے کی کوشش کرے۔

یہ بات راقم نے تواتر سے لکھی تھی کہ اگر دھرنوں کی سیاست پر سیاسی قیادتیں اور حکومت کسی اتفاق رائے پر نہ پہنچیں ، تو ہم کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے عمل کو نہیں روک سکیں گے لیکن اب جو سیاسی بحران کی صورت میں ہمیں مسائل درپیش ہیں اس نے اس حقیقت کو عیاں کردیا کہ معاملات اسلام آباد میں نہیں بلکہ راولپنڈی میں طے ہونگے۔ ایک سیاسی بحران وزیر اعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی آخری ملاقات کی صورت میں سامنے آیا ۔ اس ملاقات میں وزیر اعظم نواز شریف نے براہ راست فوج سے دھرنوں کی سیاست کے خاتمہ اور فریقین میں اتفاق رائے کے لیے فوج کی ثالثی کی درخواست کردی ۔

یہ خبر بھی سامنے آئی کہ وزیر اعظم کو وزیر داخلہ چوہدری نثار نے مشورہ دیا کہ فوج کی مدد حاصل کیے بغیر اسلام آباد کا بحران حل نہیں ہوسکے گا حکومت کی اس درخواست پر فوج کا براہ راست عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے رابطہ، فوجی قیادت سے ملاقات کا عمل بھی سامنے آیا ۔ امید تھی کہ اب فوج کے ثالثی کے کردار سے فریقین میں اتفاق رائے سامنے آجائے گا ۔ لیکن وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے فوجی مدد پر ان کے خلاف جو سیاسی بھونچال آیا، اس نے وزیر اعظم کو مجبورکردیا کہ و ہ اپنے بیان سے انحراف کرجائیں ، تاکہ سیاسی نقصان سے بچ سکیں ۔

اسی تناظر میں وزیر اعظم نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی واضح تردید کردی کہ انھوں نے خود فوج سے سیاسی مدد مانگی بلکہ ان کے بقول عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی خواہش پر آرمی چیف نے مجھ سے اجازت لے کر ملاقات کی ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنی گواہی میں وزیر داخلہ چوہدری نثار کو بھی گواہ بنایا، ان کے بقول ایک نہیں دس حکومتیں بھی قربان کرسکتا ہوں لیکن اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کروں گا۔

وزیر اعظم کو یہ بھی کہنا پڑا کہ عمران خان اور ڈاکٹرطاہر القادری نے فوج کو بطور ادارہ متنازعہ بنایا لیکن آئی ایس پی آر یا فوجی ترجمان کی جانب سے وضاحت کے بعد حکومت کو سیاسی محاذ پر شدید سیاسی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ فوجی ترجمان کے بقول وزیر اعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں حکومت نے فوج کے سربراہ سے سیاسی بحران کے حل کے لیے براہ راست سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی ، اسی بنا پر فوج کے سربراہ نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کی تھی ۔
اگر حکومتی موقف درست تھا کہ وزیر اعظم نے ایسا کوئی مطالبہ فوجی قیادت سے نہیں کیا تھا، تو اس کی وضاحت کے لیے 12گھنٹے کیوں انتظار کیا گیا۔ دراصل وزیر اعظم شدید دباؤ میں ہیں اور فوج سے مدد مانگنے پر ان کی حمائتی جماعتوں نے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ان کے بیانات کے تضادات کو بھی اسی تناظر میں دیکھاجانا چاہیے ۔

اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اس حالیہ سیاسی بحران میں فوج کو خود حکومت نے سیاسی معاملات میں ڈالا ہے ، اس سے قبل اسلام آباد میں سیکیورٹی کے نام پر فوج کو طلب کرنے پر بھی بیشتر سیاسی جماعتوں نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ اس لیے اب حکومت کچھ بھی کہے اس نے فوج سے ثالثی کا مطالبہ کیا ہے ۔

وزیر داخلہ کا بیان کہ فوجی ترجمان کا بیان ہماری منظوری سے سامنے آیا، حکومتی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے ، وزیر اعظم کے پارلیمنٹ سے خطاب کی نفی کرتا ہے ۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہم پہلے خود فوج سے سیاسی مدد مانگتے ہیں ، پھر اپنی سیاسی بقا کے لیے اس کی نفی کرکے خود اداروں کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ فوج سے سیاسی ناکامی کی صورت میں مدد مانگی گئی ، لیکن اس پر حکومتی یو ٹرن پر فوجی ترجمان کی وضاحت حکومت کے لیے اچھا شگون نہیں ، کیونکہ اس سے حکومت اور فوج میں بداعتمادی پیدا ہوئی اور وزیر داخلہ کا بیان بھی عذر گناہ از بدتر گناہ کے مترادف تھا، جو اچھی علامت نہیں۔
یہ بات ماننی ہوگی کہ حکومت، عمران خان ، ڈاکٹر طاہر القادری اور دیگر سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے میں بنیادی مسئلہ ’’ بداعتمادی ‘‘ کا ہے۔ کوئی کسی کو سیاسی قوت تسلیم نہیں کرتا، کوئی کسی کے مطالبہ کو غیر آئینی سمجھتا ہے اورکوئی حکومت پر اعتبار کے لیے تیار نہیں ۔ ایسی صورت میں فوج کی سیاسی مدد کا حصول حکومت کی سیاسی مجبوری بھی بن گیا تھا اگرچہ سیاسی معاملات میں فوج کی ثالثی کوئی اچھی علامت نہیں لیکن جب حالات سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادتوں کے کنٹرول سے باہر نکل جائیں اور سب ایک دوسرے کے خلاف دست و گریبان ہوکر ڈیڈ لاک پیدا کردیں ، تو یہ ہی کچھ ہوگا، جو اس وقت قومی سیاست پر غالب ہے ۔

اب بھی جو معاملات طے ہونگے اس میں فوج ہی کا کردار ہوگا کیونکہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے نہیں بلکہ حکومت نے بطور سہولت کار ازخود گیند فوج کے کورٹ میں ڈالی ہے اور اس کا اعتراف حکومت کو کرنا چاہیے کہ وہ سیاسی محاذ پر ناکام ہوکر مسئلہ کے حل کے لیے فوج کی مدد چاہتی ہے لیکن وزیر اعظم کے طرز عمل کے باعث اس مصالحت کا امکان بھی ختم ہوگیا ہے ۔

سلمان عابد

Sunday, August 31, 2014

قحط کے باعث تھر سے بڑے پیمانے پر ہجرت.......


تھرپارکر کے تعلقہ چھاچھڑو کی کچی سڑک کے کنارے بیٹھا اٹھائیس سالہ سکھو آٹھ ماہ کی ہجرت کے لیے تیار ہے۔
اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ موجود سکھو کا کہنا ہے"پہلے یہاں سے مرد کپاس کی فصل کی کٹائی کے موسم میں جون اور جولائی کے مہینوں میں دوسرے علاقوں سے جاتے تھے، مگر اب یہ زندہ رہنے کے لیے ہمارے پاس واحد راستہ رہ گیا ہے"۔
اس کے باعث مرد اپنے پورے خاندان کو سندھ کے مختلف تعلقوں اور دیہات میں منتقل کردیتے ہیں اور سکھو کا کہنا ہے"مجھے جس خیال سے سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے وہ یہ ہے کہ میں اس وقت کیسے زندہ رہ سکوں گا جب میں یہاں نہ ہوں اور میرا خاندان مرجائے"۔
اس نے مزید کہا"کیونکہ میں اس حقیقت سے واقف ہوں میرے گاﺅں میں اب کھانے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں بچا"۔

سکھو اور اس کا خاندان نہارو بھیل گاﺅں سے دو روز تک پیدل چل کر چھاچھڑو پہنچا اور اب وہ یہاں سے بھی جارہا ہے، اس کی والدہ بتاتی ہیں"میں نے پچاس برسوں کے دوران تین بار قحط سالی دیکھی مگر موجودہ حالات بدترین ہیں"۔
سکھو کی اہلیہ پلے ہی ضلع سانگھڑ کے ایک گاﺅں جاچکی ہے" میرے گاﺅں سے اب تک ساڑھے چار سو خاندان جاچکے ہیں اور اب وہاں صرف پچاس افراد ہی باقی بچے ہیں"۔

تھرپارکر حالیہ دنوں میں اس وقت خبروں کی سرخیوں کی زینت بنا جب صوبائی اسمبلی میں آخرکار قحط سالی پر ایک پالیسی کی منظوری دے دی گئی، جس کے اہم نکات کا اعلان کراچی میں وزیراطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
چھاچھڑو کے دیہی طبی مرکز کے میڈیکل سپرٹینڈنٹ کے ڈیٹا کے مطابق مارچ سے اب خطے میں سات ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں بیشتر بچے ہیں، مگر این جی اوز کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

علی نواز ایک این جی او اویئر ان چھاچھڑو سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا کہنا ہے" سرکاری ہسپتالوں میں صرف ان اموات کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے جو ان کی عمارت کے اندر ہوتی ہیں، وہ ان بچوں کا شمار نہیں کرتے جو بنیادی طبی مراکز اور ڈسپنسریز میں ہلاک ہوجاتے ہیں، ہمارے ڈیٹا کے مطابق مارچ سے اب تک 112 ہلاکتیں ہوچکی ہیں"۔

تھرپارکر کے چھ سب سے زیادہ متاثرہ تعلقوں میں سے ایک چھاچھڑو کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ پر سفر کے دوران قحط کی علامات کو نظرانداز کرنا بہت مشکل ہے، حکام کے مطابق کچھ عرصے قبل سے اب تک کافی بڑے یہاں سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے ہجرت کی ہے۔

مرکزی شاہراہ پر خاندانوں کو عمرکوٹ اور مٹھی کی جانب جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، کچھ افراد پیدل جارہے ہوتے ہیں، جبکہ کچھ اپنے مویشیوں پر یا سوزوکی پک اپ پر سفر کرتے ہیں، جبکہ سڑک کے کنارے مردہ مویشیوں کا ڈھیر دیکھا جاسکتا ہے۔

تھرڈیپ کے سنیئر پروگرام منیجر ڈاکٹر اشوک بختانی کا کہنا ہے"بارش کے حوالے سے رواں سال کو بدترین قرار دیا جاسکتا ہے"۔
انہوں نے بتایا " یہ اب تک موسم انتہائی خشک رہا ہے یہاں تک کہ جو تھوڑی بہت بارش ہوئی اس کے بھی چھاچھڑو کے ارگرد مردہ فصلوں اور مویشیوں پر کوئی مثبت اثر مرتب نہیں ہوسکا"۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں برس کے قحط نے انہیں 1987 کی قدرتی آفت کی یاد دلا دی ہے" اسے سیاہ قحظ کا نام دیا گیا تھا، اس وقت بھی ایسی ہی صورتحال تھی، ہر جگہ غذا کی کمی تھی، مویشی مر رہے تھے اور لوگ گھربار چھوڑ کر دیگر علاقوں کا رخ کررہے تھے، مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اسے زیادہ بڑا چیلنج نہیں سمجھتی"۔

اس بار ٹی وی چینیلز کی گاڑیاں چھاچھڑو کے دیہی طبی مرکز کے باہر نظر نہیں آرہیں، میڈیکل سپرٹینڈنٹ نے بارشوں کی کمی کو پہلے " میڈیا کی طرف سے بڑھا چڑھا کر بیان کرنا" قرار دیا، اور بعد ان کا کہنا تھا" یہ ایک حقیقت ہے جس نے ہمیں خوفزدہ کردیا ہے کیونکہ اس کے اثرات آنے والے مہینوں میں سامنے آئیں گے"۔

سیگریٹ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ" قحط اور کم خوراکی کا آپش میں کوئی تعلق نہیں، درحقیقت یہ این جی اوز کا اضافی آمدنی کے حصول اور دم توڑتے اخبارات کا اپنے قارئین میں اضافے کی حکمت عملی ہے، زمینی صورتحال مختلف ہے، رواں سال مارچ تک ہمارے ہسپتال میں صرف ایک موت رپورٹ ہوئی"۔

ان کے بقول دیگر مہینوں کا ڈیٹا مرتب کیا جارہا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ تھر میں بیشتر اموات علاقے میں موجود دیگر مسائل کے باعث ہوئیں"ان میں خواتین کا باربار حاملہ ہونا، قبل از وقت زچگی اور رہائشیوں کا مناسب غذا کا استعمال نہ کرنا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد امراض پھوٹ پڑے، صرف قحط سالی ہی ہلاکتوں کی واحد وجہ نہیں"۔

این جی او اویئر ان چھاچھڑو کے عمرکوٹ میں نمائندے محمد صدیق اصرار کرتے ہیں موجودہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں باکل مختلف ہے" ہم نے لاتعداد اجلاسوں میں صوبائی حکام کو تھر کے مسئلے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی، چھاچھڑو اور حال میں تعلقہ بنائے گئے علاقے ڈھلی قحط سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، رواں برس 31 افراد خودکشی کرچکے ہیں، جس کی وجہ خوراک کی قلت اور مالی مشکلات تھیں"۔

ڈاکٹر اشوک تھر خاص طور پر چھاچھڑو کی موجود صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر طویل المعیاد حل متعارف کرانے پر زور دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے" اگر بارش نہیں ہوگی تو فصلیں بھی نہیں اگ سکیں گی، اگر فصل فروخت نہیں ہوگی تو پھر ایک خاندان کس طرح اپنے مویشیوں کو خوراک فراہم کرسکے گا؟ یہاں تک کہ اگر مویشی قحط سے بچ بھی جائیں تو بھی وہ ایک کاشتکار کے لیے بے کار ہوجائیں گے کیونکہ ان میں ہل جوتنے کی طاقت نہیں رہے گی، موجودہ صورتحال اپنے آپ ٹھیک نہیں ہوسکتی"۔

انہوں نے مزید کہا" صورتحال ماضی کے مقابلے میں زیادہ تشویشناک ہے،گزشتہ سال کے اختتام کے بعد سے چھاچھڑو کی سترہ میں سے پانچ یونین کونسلوں میں بارش نہیں ہوئی تھی جس پر ماتم برپا ہوگیا تھا، اس بار چھاچھڑو کی کسی یونین کونسل میں بارش نہیں ہوئی اور اب تک کہیں کوئی شور ہوتا نظر نہیں آرہا"۔

ڈاکٹر اشوک کا کہنا تھا کہ طویل المعیاد بنیادوں پر زمینوں اور لوگوں کو ہونے والے نقصان کی تلافی ممکن نہیں" اس صورتحال میں ہمیں تبدیلی کے لیے کسان یا ہاری کی بات کو سننا چاہئے"۔

پارلیمنٹ کے احاطے میں موجود مظاہرین