Friday, October 17, 2014

عالم باعمل ... مو لا نا مفتی محمود.....


مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ علمی حلقے ہوں یا سیاست کی پرخاروادیاں ،درس و تدریس کا میدان ہو یا انتظامی و ملی امور، اتحاد امت کا سٹیج ہو یا ختم نبوت کا گراں قدر محاذ آپ کا نام روز روشن کی طرح عیاں ہے اور تا ابد رہیگا ۔ مفتی محمودصاحب ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے اور ایسی شخصیت تھے، جو اپنی ذات میں کی انجمنوں اور تحاریک کو سموے ہوے تھی۔ آپ واقعی اسم بامسمیٰ تھے۔ مفتی صاحب بیک وقت ایک محقق عالم دین ،بہترین استاد ، مدبر سیاستدان، بیدار مغزعالم مفتی، حق گوخطیب اور شب زندہ دارعارف باللہ تھے اور یہ القاب صرف فصاحت و بلاغت کی نظیر نہیں بلکہ حقیقت ہیں۔ 

علم کا یہ عالم تھا کہ بخاری شریف کی مشکل مباحث کو منٹوں میں حل کرنا آپ کا خاصہ تھا،فخرالسادات ،مجاہد ختم نبوت مولانامحمد انورشاہ کشمیری ؒکے مایہ ناز شاگرد حضرت مولانا محمد یوسف بنوری فرماتے ہیں کہ ایک بار مفتی صاحب جامعہ بنوری ٹاؤن تشریف لائے، اتفاقاً درس بخاری کا پیریڈ تھا ،میں نے حضرت مفتی صاحب سے درخواست کی کہ آج آپ نے بخاری شریف کا درس دینا ہے ۔ مفتی صاحب نے بخاری شریف جا کر کھولی اور یوں حدیث شریف کی تشریح کی اور علمی تقریر فرمائی کہ میں حیران رہ گیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا ،جیسے وقت کے ابن حجر عسقلانی تشریف فرما ہیں اور ایسی باتیں مجھے سننے کو ملیں کہ جو اس سے پہلے کبھی نہ سنیں جبکہ یہ بخاری شریف کا ایک مشکل مقام تھااور دلچسپ بات یہ کہ آپ ایک جلسے سے فارغ ہوکر تشریف لائے تھے۔ 

تیاری کا موقع بھی نہ مل سکا۔ بس اس واقعہ نے مفتی صاحب کا علمی مقام جو کہ میری نگاہ میں پہلے کا بلند تھااور بلند کر دیا جوں حضرت مفتی صاحب کی تقریر بخاری میںاضافہ ہوتا جاتا ساتھ ہی مفتی صاحب کا قد کاٹھ بھی علمی میدان میں بلند ہوتاجاتا،درس و تدریس کا یہ عالم تھاکہ بیک وقت موضوع کے متعلق تفسیر و حدیث ،فقہ و لطائف ومعانی،فصاحت و بلاغت ،فلسفہ و کلام سے مثالیں دے کر دلائل کے انبار لگا دیتے۔ مولانا منظور احمد فرماتے ہیں کہ حضرت مفتی صاحب کو ویسے تو تمام علوم پر عبور تھا،مگر حدیث اور فقہ پر بھی گہری نظر تھی ۔

قاسم العلوم ملتان میں انہوں نے تقریبا 25 برس تک بخاری و ترمذی شریف کا درس دیا۔دوران درس پیجیدہ اور مشکل ترین مباحث کو آسان انداز میں پیش فرماتے تھے۔ مدبر سیاستدان ہونے کی یہ حیثیت تھی کہ ملک پاکستان جو خالصتا لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا، تو سیکولر ذہنیت کے حاملین نے شروع سے ہی آئین میں اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کی ،تو علامہ شبیر احمد عثمانی کے بعد جس شخصیت نے آئین ِ پاکستان کو اسلامی آئین کے قالب میں ڈھالنے کا کردارادا کیا، وہ شخصیت مفتی صاحبؒ کی ہی تھی۔ 1973ء کا آئین آپ کی ہی جہد و مساعی کا ثمر ہے جب کہ دیگر اہل علم حضرات آپ کے شانہ بشانہ رہے اوراس آئین نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر چور دروازے کے ذریعے آنے والوں کے سارے راستے بند کردیئے ہیںاور پھر نو ماہ سرحد کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز رہ کر دنیا کو دکھا دیا کہ ایک عالم دین تم سے بہتر نظام چلانا جانتا ہے اور درویشی کا یہ عالم ہے کہ وزیراعلیٰ ہونے کے باوجود دال اور ساگ کے ذریعے زندگی گزاری جا رہی ہے۔ حالانکہ چاہتے تو عمدہ قسم کے کھانوں سے دسترخواںسج سکتا تھا ،لیکن آپ کے سامنے عمرثانی حضرت عمر بن عبدالعزیز کا اسوہ تھا کہ ہزاروں مربع میل کے حکمران ہیں، لیکن عید کے دن اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ کچے پیاز سے روٹی کھائی جارہی ہے۔ 

مفتی محمود صاحب نے بھی بیت المال کو اپنی ذاتی جاگیر نہ سمجھا بلکہ عوام کا حق سمجھ کر انہی پر لٹایا اور خود ایک پائی تک نہ لی اور فقط تنخواہ پر گزارہ کیا اور پھر وہ تنخواہ بھی آنے والے مہمانوں کی ضیافت پر صرف ہو جاتی اور جب وقت آیا ،تو وزرات کو بھی اصولوں کی خاطر لات ماردی اور بتادیا حقیقی بادشاہ اللہ کے غلام اور بندے دنیوی مناصب اور عہدوں کے محتاج نہیں ہوتے۔آپ بیدار مغز مفتی تھے۔ مسئلہ پر بیک وقت گرفت کرنا گویا آپ کی خاص پہچان تھی۔ مولانا مفتی محمد شفیع اور دیگر اہل علم حضرات سے فقہی مباحث پر ایسی مدلل و مفصل گفتگو ہوتی کہ بعض حضرات کوتو اپنے فتاویٰ سے رجوع کرنا بھی پڑ جاتاتھا،مناظرہ پر قدرت نے آپ کو ملکہ دیا ہوا تھا۔ عائلی قوانین کے سلسلے میں آپ کی گفتگو پاکستان کی تاریخ کا ایک لازوال حصہ ہے۔ 1947ء میں کذاب اکبر مرزا غلام احمد قادیانی کا وارث مرزا ناصر اسلامی لباس کا لبادہ اوڑھ کر اسمبلی میں آیا، تو اسمبلی کی اکثریت اس سے متاثر ہوگئی، لیکن جب مفتی محمود نے لگاتار گیارہ دن مرزا ناصر سے جرح کی ،تو اس جرح نے مرزا ناصر کو تارے دکھائے، وہیں ممبران اسمبلی کی آنکھیں کھول دیں اوروہ کہنے لگے کہ مفتی صاحب آپ کی وجہ سے ہمارا عقیدہ مضبوط ہوگیا،دیگر علماء کرام کے ساتھ مفتی صاحب کی ہی یہ مناظرانہ جدوجہد تھی کہ مرزائی غیر مسلم قرار پائے اور7 ستمبر1974ء پاکستان کی تاریخ میں وہ تاریخ ساز دن کہلایا جب سچے نبی ﷺ کی ختم نبوت کا پرچم قومی اسمبلی میں بھی لہرایا گیا اور حضور ﷺ کے بعد ہر شحض کو جو دعوی نبوت کرے یا اس جھوٹے مدعی نبوت کی تائید کرے اسکو کافر قرار دیا گیا۔ شب زندہ داری کا یہ عالم تھا کہ سیاست کی پر خارواری اور جاہ و منصب کا رنگ بڑوں بڑوں کو ڈگمگا دیتا ہے، لیکن وزیراعلیٰ کی زبان سبحان ربی الاعلیٰ کے ترانے سے ہمیشہ معطر رہی ،دن کو ممبران اسمبلی اور دیگر شخصیات کو نماز کی امامت کروائی تو رات کو تہجد کے وقت مصلے پر آنسو بہاکر اپنے رب کو راضی کیا،ایسے عظیم لوگ مائیں کم ہی جنم دیا کرتی ہیں۔ 

چنانچہ اس تقوی و للہیت اور دینی خدمات کا اللہ تعالی نے ثمر یہ دیا کہ علمی مرکز جامعہ بنوریہ میںمسئلہ دین پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے پاس بلالیا، وہ شخصیت جن کی ساری زندگی قال اللہ وقال الرسول میںگزری آخری وقت بھی ان کی زبان پر اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ کا مبارک نام ہی تھا۔

حافظ حسین احمد

Mufti Mahmood - Father of Maulana Fazalur Rehman

ایبولاوائرس… خطرناک صورت حال.....


مغربی افریقی ممالک سیرالیون،گنی اور لائبیریا سے پھیلنے والا جان لیوا، خطرناک وائرس ایبولا اب آہستہ آہستہ نہیں بلکہ بڑی تیزی کے ساتھ دنیا میں پھیل رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا وائرس سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کے دارالحکومتوں میں جڑیں پکڑ چکا ہے۔ اس پر پوری دنیا میں تشویش ہے۔ امریکہ کے صدر بارک اوباما نے ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو ’’عالمی امن کے لیے خطرہ‘‘ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایبولا مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس سے مقابلے میں دنیا پیچھے رہ گئی ہے کیونکہ رواں سال دسمبر تک اس کے ہزاروں نئے واقعات سامنے آنے کا خدشہ ہے۔مشن کے سربراہ اینتھنی بین بری نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’وہ (ایبولا) ہم سے تیز دوڑ رہا ہے اور ریس جیت رہا ہے۔

عالمی ادارے کے نائب سربراہ آئلوارد کاکہنا ہے کہ ایبولا سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر ردعمل بگڑتی ہوئی صورت حال کے مطابق نہیں ہے۔ متاثرین میں سے 70فیصد افراد مر رہے ہیں ۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ابھی مجموعی طور پر دنیا بھر میں اس سے متاثر افراد کی تعداد 8914 ہے جب کہ کم از کم 4447 افراد اس کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں سے 4024 ہلاکتیں مغربی افریقی ملکوں گنی، لائبیریا اور سیرالیون میں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ نائیجیریا، سینیگال، اسپین اور امریکہ میں بھی اس مرض کے کیس درج کیے گئے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں بھی اس وائرس سے لوگ متاثر ہوچکے ہیں ۔ امریکہ نے اپنے 4000 فوجی متاثرہ خطے میں بھجوانے کا اعلان کیا ہے جبکہ برطانیہ 750 فوجی اہلکار سیرالیون بھجوا رہا ہے۔ 

ایبولا وائرس آنے سے دنیا بھر میں چاکلیٹ کی سپلائی کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ آئیوری کوسٹ جو دنیا میں کوکا پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اس نے لائبیریا اورگِنی کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کرلی ہیں۔ دنیا بھر کے چاکلیٹ بنانے والی کمپنیاں تشویش کا شکار ہیں اس ضمن میں ورلڈ کوکا فائونڈیشن اب نیسلے، مارس اور دیگر ممبران سے اس کی کوکا انڈسٹری کے لیے فنڈ اکٹھا کررہی ہے تاکہ ایبولا کے خلاف پہلا قدم اٹھایا جا سکے۔19 ستمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو ’’عالمی امن اور سیکورٹی کے لیے خطرہ‘‘ قرار دیا تھا۔

 صحت سے متعلق امریکی ایجنسی کے مطابق اگر وائرس کو روکنے کے لیے اقدامات تیز نہیں کیے گئے تو آئندہ سال جنوری تک متاثرین کی تعداد 14 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔این آئی بی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر طاہرشمسی کا کہنا ہے کہ وائرس کے پاکستان میں پہنچنے کے امکانات موجود ہیں اور ائیر پورٹ پر افریقہ سے آنے والے مسافروں کی چیکنگ کی جانی چاہئیے اور کسی مسافر کو بخار ہو تو متعلقہ اداروں کو اطلاع دینی چاہئیے ۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین نے ملک میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ صدر مملکت نے ہدایت کی ہے کہ تمام صوبے ایبولا وائرس کی ادویات وافر مقدار میں اسٹاک کریں اور ہسپتالوں میں ایبولا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے وارڈ بھی مخصوص کیا جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایبولا وائرس کیا ہے؟ یہ مرض 1976ء میں سب سے پہلے سوڈان میں ظاہر ہوا تھا، اور 2013ء تک اس کے صرف 1716 واقعات سامنے آئے تھے۔ایبولا وائرس کا نام افریقی دریا کانگو سے پڑا ہے جسے فرنچ میں ایبولا کہتے ہیں۔ یہ انسانوں اور جانوروں میں پایا جانے والا ایک ایسا مرض ہے جس کے شکار افراد میں دو سے تین ہفتے تک بخار، گلے میں درد، پٹھوں میں درد اور سردرد جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور وہ قے، ڈائریا اور خارش وغیرہ کا شکار ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردوں کی کارکردگی بھی گھٹ جاتی ہے۔ مرض میں شدت آنے کے بعد جسم کے کسی ایک یا مختلف حصوں سے خون بہنے لگتا ہے اور اُس وقت اس کا ایک سے دوسرے فرد یا جانور میں منتقل ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ 

درحقیقت اسے دورانِ خون کا بخار بھی کہا جاتا ہے، اور جب خون بہنے کی علامت ظاہر ہوجائے تو مریض کا بچنا لگ بھگ ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ مگر صرف خون نہیں بلکہ پسینے، تھوک اور پیشاب سمیت جسمانی تعلقات وغیرہ سے بھی یہ ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوجاتا ہے، مریض کے زیراستعمال سرنج کا صحت مند شخص پر استعمال اسے بھی ایبولا کا شکار بناسکتا ہے۔ 

کہا جاتا ہے کہ چمگادڑوں اور پھر بندروں اور گوریلوں کے ذریعے یہ افریقہ میں پہلے جانوروں اور اُن سے لوگوں میں پھیلنا شروع ہوا، اور ایبولا کے شکار افراد کی بڑی تعداد ایک ہفتے میں ہی دنیا سے چل بستی ہے۔وہ چیزیں جو ایبولا کا سبب نہیں بنتیں ان میں ہوا، پانی، خوراک، مچھر یا دیگر کیڑے شامل ہیں۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ مریض کی چھوئی ہوئی اشیاء سے یہ مرض کسی اور میں منتقل ہوسکتا ہے۔ نہ ہی متاثرہ ممالک سے آنے والے طیاروں کے ذریعے یہ کسی اور ملک میں پہنچ سکتا ہے۔ یہ فلو، خسرہ، ٹائیفائیڈ یا ایسے ہی عام امراض کی طرح نہیں ہے۔ اس کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ یہ کسی وبا کی طرح ایک سے دوسرے براعظم تک پھیل جائے۔ تاہم متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد اگر اس کا شکار ہوں تو وہ ضرور کسی ملک میں اس کے پھیلائو کا سبب بن سکتے ہیں۔ اور اسی خطرے کے ساتھ یہ مرض اب پھیل رہا ہے ‘جس کے لیے دنیا میں تشویش بھی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔ 

اگرچہ ابھی تک اس کا کوئی مؤثر علاج دستیاب نہیں، تاہم بیمار افراد کو ہلکا میٹھا یا کھارا پانی پلاکر، یا ایسے ہی سیال مشروبات کے ذریعے کسی حد تک بہتری کی جانب لے جایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تکلیف کم کرنے کے لیے بلڈ پروڈکس، ڈرگ تھراپی، ایمیون تھراپی بھی کی جاتی ہے۔ اب تک اس کی کوئی ویکسین دنیا کی کسی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔ دو ویکسین پر کام ہورہا ہے اور وہ تجربات کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ اب اس ویکسین کی تیاری کے لیے کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ہر چند سال کے بعد براعظم افریقہ سے ایک وائرس وبا کی صورت میں کیوں پھلتا ہے اور وہ پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے کہ اس سے بڑا دنیا کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے کیا یہ اتنی ہی سادہ سی بات ہے یا بڑی عالمی قوتوں نے افریقہ کے جنگلات کو اپنی تجربہ گاہ میں تبدیل کردیا ہے جس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑرہا ہے۔

ایبولا وائرس کی تیاری میں امریکہ ملوث ہے؟

اخبار ’ڈیلی آبزرور‘ نے بعض دستاویزات اور ثبوتوں کی بنیاد پر ایبولا وائرس کو وجود میں لانے اور اس کے پھیلاؤ کا ذمے دار امریکہ کو قرار دیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ’’سمجھوتہ دو سو‘‘ کے کوڈ نیم کے ساتھ براعظم افریقہ میں خفیہ آپریشن کرتے ہوئے مہلک وائرس ایبولا کو وجود میں لانے اور اس کے پھیلاؤ کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا۔

لائبیریا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر سرل بروڈریک نے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ مہلک وائرس ایبولا کو امریکہ کی ایک فوجی اور صنعتی کمپنی 1975ء میں اُس وقت کی جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے تعاون سے وجود میں لائی۔ اس کے بعد سے امریکی وزارت دفاع اس وائرس کو ایک جراثیمی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ پروفیسر سرل بروڈریک کے مطابق امریکہ نے 1975ء میں جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کی مدد کے ساتھ ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں، کہ اُس وقت جس کا نام زئیر تھا، خفیہ طور پر ایبولا کا پہلا مہلک وائرس تیار کیا۔ اس کے بعد اس مہلک اور خطرناک وائرس کو لیبارٹری میں وجود میں لایا گیا اور اس کی replication کی گئی۔ اور امریکی وزارت جنگ نے براعظم افریقہ کی سیاہ فام آبادی میں کمی کے لیے اس وائرس کو حربے کے طور پر استعمال کیا۔ میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی تحقیقات سے بھی پروفیسر سرل بروڈریک کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔ 1976ء میں زئیر کے ایک دریا کے مضافاتی علاقے میں پہلی مرتبہ ایبولا وائرس کا پتا لگایا گیا۔ پروفیسر سرل بروڈریک نے اپنے دعوے کے اثبات کے لیے کتاب ’’حساس علاقہ‘‘ کا حوالہ دیا ہے جسے 1998ء میں تحریر کیا گیا۔ اس کتاب میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ امریکہ کی صنعتی، فوجی اور طبی کمپنیوں نے کس طرح امریکہ کے اتحادی بعض افریقی ممالک کے تعاون کے ساتھ امریکہ کی قومی سیکورٹی سے متعلق معلومات کے تحفظ کے لیے خفیہ جراثیمی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ یہ بات مسلّم ہے کہ ’’سمجھوتہ دو سو‘‘ کے کوڈ نیم سے انجام پانے والی خفیہ کارروائی کا مقصد وسیع و عریض براعظم افریقہ کے باشندوں کی آبادی میں کمی اور نسل کشی کے سوا کچھ اور نہیں تھا۔

٭٭٭ ایبولا…قاتل وائرس کی پاک افغان
سرحد پرموجودگی کی اشاعت

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف میں 4 اپریل 2001 ء میں ٹم بوچر کے مضمون میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ’’ایبولا‘‘ وائرس پاکستان افغان سرحد پر موجود ہے۔ ٹم بوچر نے یہ رپورٹ کوئٹہ سے لکھی تھی۔

ڈاکٹر فریحہ عامر

Ebola Virus in West Africa

ملالہ: نوبل انعام......ملالہ کی متنازعہ شخصیت .....


بچیوںکی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے والی 17 سالہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے امن کا نوبل انعام جیت لیا۔ پاکستان کی تاریخ میں ملالہ نوبل انعام حاصل کرنے والی دوسری شخصیت جب کہ دنیا بھر میں سب سے کم عمر نوبل انعام حاصل کرنے والی شخصیت بن گئی۔

ملالہ کو یہ ایوارڈ بھارت سے تعلق رکھنے والے ’’کلاش ستیارتھی‘‘ کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔ ملالہ کو ملنے والے اس ایوارڈ کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں غیرمعمولی شہرت حاصل ہوئی، لیکن ملالہ کو اصل شہرت اس وقت ملی جب اس نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں گل مکئی کے فرضی نام سے اپنی ڈائری تحریر کرنا شروع کی (جس میں اس کے سیکولر نظریات نمایاں تھے) یہ زمانہ تھا جب سوات میں طالبان سرگرمِ عمل تھے اس دوران ملالہ ایک حملے میں شدید زخمی ہوجاتی ہے۔ یہ واقعہ سوات میں فوجی آپریشن کے دوران پیش آیا تھا۔ اس واقعے کی وجہ سے ملالہکو دنیا بھر میں غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ملالہ کو نئی زندگی عطا فرماتے ہیں۔ اس دوران ملالہ اور اس کا خاندان مستقل طورپر برطانیہ منتقل ہو جاتا ہے۔ اپنے قیام کے دوران ملالہ یوسف “I Am Malal” کے عنوان سے ایک کتاب تحریر کرتی ہے۔ اس کتاب میں موجود مواد نے ملالہ کی شخصیت کو مزید متنازعہ بنا دیا۔

ملالہ کو نوبل انعام ملنے کے بعد ایک طالبہ کی حیثیت سے مجھے بھی شوق ہوا کہ اس کتاب کا مطالعہ کروں اور اس پر تبصرہ کروں:
“I Am Malal” انگریزی زبان کی یہ کتاب برطانیہ سے شائع کی گئی ہے۔ یہ کتاب 276 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے پبلشر “Weidenfeld And Nicolson London” ہیں۔ اس کتاب کو تحریر کرنے میں برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب نے ملالہ کی مدد کی ہے۔ ملالہ کی اس کتاب پر مختلف تبصرے اور تجزیے مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔

اس کتاب اپنا تبصرہ پیش کرنے سے پہلے میں اپنا تعارف کروانا چاہوں گا۔ میرا نام عائشہ منصور خان ہے۔ میں ایک نجی اسکول میں آٹھویں جماعت کی طالبہ ہوں میری عمر چودہ سال ہے۔ انگلش فکشن کے ساتھ ساتھ دینی کتب اور اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اس کتاب کے چھ باب ہیں، اس کے سرورق پر ملالہ یوسف زئی کے ساتھ کرسٹینا لیمب کا نام بھی موجود ہے۔ کرسٹینالیمب برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز سے منسلک ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ ملالہ نے اپنے ترجمان کے طور پر ایک ایسی شخصیت کو ہی کیوں منتخب کیا جس کے پاکستان اور اسلام کے متعلق منفی نظریات کے بارے میں میڈیا سے باخبر رہنے والے ہر فرد کو علم ہے۔

اس کتاب کے پہلے باب میں سوات کے معاشرے اس کی تہذیب و ثقافت، رہن سہن اور وہاں کے خوبصورت مناظر کیبارے میں ملالہ نے اپنے خیالات کا اظہارجس انداز سے کیا ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوات پھولوں، دریائوں اور پہاڑوں کی سرزمین ہے جہاں کے لوگ محنتی، جفاکش اور مہمان نواز ہیں۔ سوات پاکستان کا ایک خوبصورت شہر ہے جہاں نہ صرف ملک کے طول و عرض سے لوگ تفریح کرنے کے لیے آتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ غیرملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی تفریح کی غرض سے سوات کا دورہ کرتی ہے۔ میں نے بھی کچھ عرصہ قبل اپنے خاندان کے ساتھ تفریح کے لیے سوات کا دورہ کیا تھا اور اب ملالہ کی اس کتاب کا مطالعہ کیا تو مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ملالہ نے سوات کے حوالے سے ایک منفرد حقیقت کو بڑی خوبصورتی سے نظر انداز کیا ہے۔

اپنے سوات کے دورے کے دوران ایک طرف جہاں وہاں کی خوبصورتی نے مجھے بہت مسحور کیا وہیں اس بات نے بھی مجھے بہت زیادہ متاثر کیا کہ وہاں کے لوگ خوبصورت اور بااخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ دین کے بھی بہت زیادہ قریب ہیں۔ مردوں کی کثیر تعداد باجماعت نماز پڑھتی ہے، اکثر مرد حضرات کے چہرے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مزین اور باریش ہیں۔ سوات کی عورتیں اور بچیاں اپنے گھر سے باہر باپردہ نظر آتی ہیں۔ لیکن ملالہ کی کتاب میں سوات کے ماحول کے حوالے سے ہر جگہ مجھے پڑھ کر یہ محسوس ہوا کہ وہاں کا مذہبی ماحول ملالہ کو ناگوار گزرتا ہے۔ یا وہ بڑی اکتاہٹ کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔ لیکن جہاں تک میری رائے کا سوال ہے تو مجھے سوات کے لوگوں میں واضح طور پر ایک مذہبی رجحان اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے محبت نظر آئی۔

نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بلکہ عشق ہم پر فرض ہے اور یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ جب بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہم تحریر کریں گے تو لازماً صلی اللہ علیہ وسلم یا انگریزی میں (P.B.U.H) ضرور تحریر کریںگے۔ ملالہنے اپنی کتاب میں کئی جگہوں پر پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ہے لیکن ایک جگہ پر بھی صلی اللہ علیہ وسلم (P.B.U.H) لکھنے کی زحمت نہیں کی حالانکہ اسے یہ معلوم ہونا چاہییکہ اس بات کا حکم قرآن پاک میں خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ کا ذکر بھی ملالہ نے ایک عام انسان کے انداز میں کیا ہے۔ انکے نام کے ساتھ بھی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر نہیں کیا ہے، یہ سراسر بے ادبی اور بدتہذیبی نہیں تو اور کیا ہے؟

اپنی کتاب میں ملالہ اپنے والد کے نظریات و خیالات سے بے حد متاثر نظر آتی ہے۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ “I Am Malal” نامی کتابملالہ یوسف زئی سے زیادہ ضیاء الدین یوسف زئی کے خیالات کی عکاسی کرتی ہے اور کتاب میں بہت سے جگہوں پر اپنے والد کے حوالے سے جو واقعات ملالہ نے درج کیے ہیں وہ اس کے والد کی لادین سوچ کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر کتاب میں ملعون سلمان رشدی کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تحریر کی گئی توہین آمیز کتاب “The Satanic Verses” کے بارے میں اپنے والد کے حوالے سے ملالہ تحریر کرتی ہے کہ ’’یہ کتاب میرے والد نے پڑھی ہے لیکن وہ اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور یہ کہ میر امذہب اتنا کمزور نہیں کہ آزادی اظہار رائے کو برداشت نہ کر سکے‘‘۔ ملالہ کے والد کا اصرار کہ یہ آزادی اظہار رائے ہے اور ہمیں اسے برداشت کرنا چاہیے اور وہ قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی غلط تصور کرتے ہیں لیکن انہیں یہ بات شاید معلوم نہیں کہ کوئی مسلمان عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر مکمل مسلمان نہیں ہو سکتا اور کوئی توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم برداشت نہیں کر سکتا۔

ملالہ نے اپنی کتاب میں قادیانیوں کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’احمد اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن حکومت انہیں غیر مسلم قرار دیتی ہے‘‘ ملالہ شاید اتنا بھی نہیں جانتی کہ قادیانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے سے انکار کرتے ہیں اس لیے وہ مسلمان کہلائے جانے کے ہرگز مستحق نہیں ہیں۔ اس کتاب میں مصنفہ نے کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسینؓ کی شہادت کیواقعے کو بڑے سطحی انداز میں تحریر کیا ہے حالانکہ کربلا کا واقعہ ہمارے ایک واقعہ نہیں بلکہ عظیم پیغام ہے کتاب میں تحریر ہے کہ ’’جس طرح لوگ محرم میں ماتم کرتے ہیں اور سوگ کی مجالس کا انعقاد کرتے ہیں لگتا ہے کہ یہ واقعہ کل رات کی بات ہے۔‘‘ صفحہ نمبر 76 پر کتاب میں تحریر ہے:

“He gets so emotional you would think the events had happened just the night before, not more then 1,300 years ago”

ملالہ نے اپنی کتاب میں کئی جگہوں پر اسلامی احکامات کا مذاق اڑایا ہے خاص طور پر پردے کے بارے میں اکثر جگہوں پر اپنا ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ صفحہ نمبر 55 پر ملالہ تحریر کرتی ہے: ’’سوات میں طالبان کے آنے کے بعد عورتوںکو برقعہ پہننے پر مجبور کیا جاتا، ایسا برقعہ جو کپڑے کی بنی ہوئی شٹل کاک جیسا ہوتا ہے جس میں آنکھوںکے سامنے دیکھنے کے لیے جالی ہوتی اور گرمیوںمیں یہ برقعہ تندور کی طرح گرم ہو جاتا۔‘‘
اپنے والے کے حوالے سے ایک جگہ لکھتی ہے کہ:

میرے والد ہمیشہ کہا کرتے ہیں کہ پردہ نقاب میں نہیں، پردہ دل میں ہوتا ہے۔ اگر پردل دل میں ہوتا ہے تو پھر اللہ تعالی قرآن میں پردے کو فرض قرار دے کر تمام مسلمان عورتوںکو باپردہ گھروں سے باہر نکلنے کی ہدایت کیوں دی؟
ملالہ اپنی کتاب میں پردے کے حوالے سے متعدد جگہوں پر ناگواری اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہے باوجود اس کے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو بڑی سی چارد سے ڈھکے رہتی ہے یہی نہین بلکہ میرے خیال میں سوات کی عورتوں میں پردہ کو ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے، پردہ درحقیقت وہاں کی ثقافت ہے۔ ملالہ کی کتاب میں جنرل ضیاء الحق کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتی ہے:

وہ ڈرائونی شکل کا آدمی تھا اس کے گہرے کالے حلقے تھے اس کے لمبے دانت لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے تھے۔

کسی سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن اپنی تحریر و تقریر میں کسی شخص کی شکل کا مذاق اڑانا بہت زیادہ غیر اخلاقی بات ہے بلکہ گناہ ہے کیونکہ انسان کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے کی ہے اور خود قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعاولیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ:
’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں تخلیق کیا‘‘

اللہ کی تخلیق کی ہوئی شکل کا مضحکہ اڑانا، برقعہ جو ایک مسلمان عورت کی پہچان ہے کو ’’گرم تندور‘‘ کہنا داڑھی جو کہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کو ’’لائنٹین‘‘ سے تشبیہہ دینا، مردوں کی ٹخنوں سے اوپر شلوار کو مذاق اڑانا، ایسی اور اس جیسی بے شمار احمقانہ باتوں سے ملالہ کی کتاب بھری ہوئی ہے۔
میں نے جوںجوں ملالہ کی کتاب کا مطالعہ کیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ اس کتاب میں صرف اسلام کے حوالے سے ہی غلط باتیں نہیں کی گئیں بلکہ پاکستان کے خلاف بھی بہت سا مواد شامل ہے۔ کتاب کے صفحہ 45 پر تحریر ہے:

پاکستان کے پچاس سالہ جشن آزادی کے موقع پر ملالہ کے والد اور ان کے دوستوں نے بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھی تھیں کیونکہ ان کے خیال میں سواتکو پاکستان میں شامل کرنے سے لوگوں کوکچھ حاصل نہیں ہوا۔

اسی طرح پاکستان کے ایٹمی دھماکوںکے بارے میں ناپسندیدگی کے اظہار کے ساتھ ایک جگہ ملالہ کے حوالے سے تحریر ہے کہ:
آج کل کے حالات میں ہم متحدہ ہندوستان میں رہتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

یعنی ایک ایسی لڑکی جس کے والد نے پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریبات یوم احتجاج کے طور پر منائی ہو اور جو خود متحدہ ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دے وہ کیسے پاکستان کی بیٹی کہلانے کی مستحق ہو سکتی ہے؟

دوسری طرف وہ بیرون ملک رہ کر اسی پر پاکستان کی شناخت کے ساتھ انعامات و ایوارڈ وصول کر رہی ہے کیا یہ تضاد نہیں ہے؟

کتاب پڑھ کر تبصرہ کرنا میرا حق تھا، سو میںنے کیا، لیکن اس کیعلاوہ مجھے ذاتی طور پر ملالہ سے کوئی عناد نہیں۔جیسے میں ایک مسلمان پاکستانی طالبہ ہوں ویسے وہ بھی ہے اور اسی حیثیت سے میں اپنی بہن ملالہ یوسف زئی کو یہ مشورہ دوں گی کہ زندگی گزارنے کے لیے اسلام سے بہتر دنیا میں کوئی دین نہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’یہود و نصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے‘‘ لہٰذا اس حقیقت کو تسلیم کرو اور مغرب کے کمزور سہاروں سے پیچھا چھڑائو۔ اپنے آپ کو اپنے اہل خانہ کو ان کے شر سے بچائو اور اپنی کتاب میں موجود اسلام کے حوالے سے غلط باتوں پر اپنے رب کے حضور دل سے معافی مانگو کیونکہ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور بڑا رحیم ہے۔

عائشہ منصورخان

Malala Noble Prize

Thursday, October 16, 2014

نوابزادہ خان لیاقت علی خان......


کرنال( مشرقی پنجاب )کے ایک متمول زمیندار گھرانے میں آنکھ کھولنے والے لیاقت علی نے علی گڑھ سے 1919 ء میں گریجویشن کے بعد 1921ء میں انگلستان میں آکسفرڈ سے اصول قانون میں ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں1922ء میں بیرسٹری کا امتحان بھی پاس کیا، لیکن وکالت سے تعلق بس اتنا سا رہا کہ ہائیکورٹ کے وکلا کی فہرست میں نام درج کروا لیا،بطورِ پیشہ اسے کبھی اختیار نہیں کیا۔ نوابزادہ لیاقت علی خان 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلم رہنماؤں کی اس پود کی نمائندہ شخصیات میں سے ایک ہیں ،جو برطانوی راج سے آزادی حاصل کر کے الگ وطن کے حصول کے لیے یکسو ہوئے اور جن کی سرکردگی میں مسلمانانِ ہند نے اپنی آزادی کا مقدمہ لڑا اور اپنے لیے ایک آزاد ریاست کا خواب پورا کیا۔ لیاقت علی خان کی سیاسی زندگی کا آغاز انگلستان سے آنے کے بعد ہی ہو گیا تھا اور ابتدا ہی سے وہ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کی طرف مائل تھے۔ انگلستان سے آتے ہی یوپی کے کانگریسی راہ نماؤں نے ان سے کانگریس میں شمولیت کی درخواست کی ،لیکن انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ ان کی جماعت کے نظریات سے اتفاق نہیں رکھتے۔

 بعد ازاں 1923ء میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی 1926ء سے 1940 ء تک،وہ یوپی کی مجلس قانون ساز اور بعد ازاں مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن رہے۔ مسلم لیگ میں وہ سیکرٹری جنرل اور بعد ازاں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر جیسی اہم ذمے داریوں پر فائز رہے۔ نظریات کے حوالے سے لیاقت علی خان اسی فکر کے سانچے میں ڈھلے نظر آتے ہیں ،جسے ہم آل انڈیا مسلم لیگ کا بنیادی منہج فکر کہہ سکتے ہیں۔ 1930 ء میں لیاقت علی خان یوپی کی واحد مسلم درسگاہ ’’مدرسہ‘‘ کے صدر منتظم منتخب ہوئے ، مسلمانوں کی تعلیم ہمیشہ سے ان کی ترجیحات میں شامل رہی۔

 مسلم لیگ سے نظریاتی وابستگی کا اندازہ محض اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے ، جب مسلم لیگ نے 1932ء میں ایک سمجھوتے کی بنا پراسد علی اور مولانا حسین احمد مدنی جیسے کانگریسی فکر کے حامل راہ نماؤں کو جماعت میں شامل کیا ،تو لیاقت علی خان 1936ء سے اوائل 38ء تک مسلم لیگ سے مستعفی ہو کر انگلستان چلے گئے تھے حالاں کہ وہ اس وقت پہلی مرتبہ مسلم لیگ کے اعزازی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔ لیاقت علی خان کا خیال تھا اس سمجھوتے سے مسلم لیگ کا تشخص دھندلا گیا تھا۔ ایک درد مند قومی راہ نما کی حیثیت سے تعلیم ان کی پہلی ترجیح رہی۔ 1932ء میں مسلم تعلیمی کانفرنس کے 40 مطالبات انہی کی کوششوں سے منظور کیے گئے ، اسی طرح 1944ء میں اینگلو عریبک کالج دہلی کے صدر کے طور پر منتخب کیے گئے اور دسمبر 1945ء میں کل ہند مسلم تعلیمی کانفرنس کی صدار ت فرمائی۔

 اس حوالے سے علی گڑھ میں ان کے خطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نزدیک تعلیم نہ صرف آزادی کی جدوجہد میں کام یابی کی ضامن تھی بلکہ یہ اسے برقرار رکھنے کا بھی واحد ذریعہ تھی: ’’ہم آزادی کے لیے جدوجہد اس لیے نہیں کرر ہے کہ ہم انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہو کر ہنددؤں کی غلامی میں چلے جائیں بلکہ ہمارا مقصد ایک آزاد اور خود مختار مملکت کی تشکیل ہے تاکہ ہم اس نصب العین تک پہنچ سکیں ،جس سے ہمیں تیرہ سو سال پہلے حضرت محمد ﷺ نے روشناس کروایا تھا۔قرآن مجید کی رو سے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ صرف خدا کے لیے زندہ رہے اور خدا کے لیے جان دے کیوںکہ خدا ہی حقیقی حکمران ہے اور ساری حاکمیت اسی کی ذات میں مرتکز ہے۔‘‘ اسلامی معاشرے کے متعلق ان کا نظریہ قرارداد مقاصد کی منظور ی کے تناظر میں بھی سامنے آتا ہے اور مسلم ممالک کے ساتھ پر جوش تعلقات کی وہ تمام کوششیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جو انہوں نے اپنے دور حکومت میں کیں۔ اس حوالے سے ان کے خطاب کا یہ اقتباس روشنی ڈالتا ہے: ’’ہمیں اس خواب کو پورا کرنا ہے ،جس کے مطابق پاکستان میں ہم سچے مسلمانوں کی طرح اسلامی اصولوں پر عمل کر کے دنیا کو یہ دکھا سکیں کہ سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظاموں کے علاوہ بھی ایک نظام ہے جس کے اصول اسلام ہمیں مہیا کرتا ہے۔


(خیرپور 21 نومبر 1950ء ) ایک زمیندار خاندان کے چشم و چراغ ہونے کے باوجود فکری ارتقاء کے باعث ان کے دل ودماغ کا رشتہ استحصالی ذہنیت سے کٹ کر اسلام کے سماجی اصولوں سے جُڑ چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پنجاب میں زرعی اصلاحات کا بل اسمبلی میں پیش کیا تو اشرافیہ کی بے چینی دیدنی تھی کیونکہ یہ بل سراسر ان کے مفادات پر ضرب تھا۔ استحصالی نظام کے خلاف ان کا موقف بہت واضح تھا، جس کا اظہار انہوں نے ایک جگہ ان الفاظ میں کیا: ’’اگر پاکستان کو سرمایہ داروں کے استحصال کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا، تو اس ملک کا مستقبل تاریک ہو جائے گا،پاکستان یقینا نہ تو سرمایہ داروں کا ملک ہو گا اور نہ اشتراکیوں کا،یہاں صرف اسلامی اصولوں پر عمل ہو گا‘‘۔ (17 نومبر 1948ء جلسہ مسلم لیگ) یوں تو یو پی کی سیاست میں لیاقت علی خان شروع ہی سے منتخب نمائندے کی حیثیت سے مسلم مفادات کا تحفظ کرتے نظر آتے ہیں، لیکن مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن وہ 1940ء میں منتخب ہوئے۔

 اس دور میں پہلی دفعہ مسلم لیگ ایوان میں بطور الگ پارٹی کے سامنے آئی اور اس کا لیڈر قائد اعظم اور ڈپٹی لیڈر نوابزادہ کو بنایا گیا۔ تحریک پاکستان کے اگلے سالوں میں قائد اعظم ایک جاں گسل عوامی جدوجہد میں مصروف ہونے کی بنا پر اسمبلی کے اندر دستوری اور پارلیمانی معاملات میں مسلم مفادات کے لیے بہت کم وقت نکال پاتے ، یہاں تقریبا سار ی ہی ذمہ داری لیاقت علی خان نے ادا کی۔ قیام پاکستان کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان نے قائد اعظم کے شانہ بشانہ مہاجرین کی بحالی، افواج کی تنظیم ، معیشت کی بحالی غرضیکہ ہر طرف حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے ان تھک جدوجہد کی۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد یہ تأثر پھیلنے لگا کہ اب پاکستان میں لیڈرشپ کا خلا پیدا ہوگیا ہے، تو اس مشکل گھڑی میں لیاقت علی خان نے غمزدہ قوم کو پھر سے نئی امید دی ،بیرونی دنیا میں پاکستان کو ایک پراعتماد ملک کی حیثیت سے پیش کیا اور بالخصوص بھارت کے ان مکروہ عزائم پر پانی پھیر دیا ،جو وہ قائد اعظم کی وفات کے بعد پاکستان کے حوالے سے رکھتا تھا۔انہوں نے مختلف اوقات میں بھارتی جارحیت سے اپنے ملک کو تدبر اور حکمت سے محفوظ بنایا ،مثلا 1950ء میں کلکتہ کے فسادات کے بعد بھارت نے افواج مشر قی پاکستان کی سرحدوں پر جمع کرنی شروع کر دیں، فوری طور پر لیاقت علی خان نے ڈھاکاجا کر مسلمانوں کو رد عمل سے روکاجو فطری طور پر مغربی بنگال سے آنے والے لوگوں کی حالت زار دیکھ کر ان میں پیدا ہورہا تھا۔

 اس کے بعد طے پانے والالیاقت نہرو معاہدہ آج بھی دونوں ملکوں میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے بنیادی حیثیت کا حامل ہے ، جو بھارت کے اس دعوے کے رد کے لیے کافی ہے کہ بھارتی مسلمانوں سے سلوک اس کا داخلی معاملہ ہے اور پاکستان اس بارے میں کوئی بات نہیں کر سکتا۔ صوبائیت اور لسانیت نوزائدہ مملکت کے وجود کے لیے ویسا ہی خطرہ تھی، جیسے آج ہے۔ اس معاملے پر خان لیاقت علی آج بھی ہمارے سیاسی راہ نماؤں کے لیے مشعل راہ ہے: ’’میں سمجھتا ہوں کہ صرف ایک چیز یقینا پاکستان کو تباہ کر سکتی ہے اور وہ صوبہ پرستی کا جذبہ ہے۔کسی شخص کو بھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ پنجابی، پٹھان، سندھی یا بنگالی ہے۔اگر ہم پر صوبہ پرستی کا جذبہ غالب آجاتا ہے،اور ہم صوبائی نقطہ نظر سے سوچنا شروع کر دیتے ہیں ،تو پاکستان کمزور ہو جائے گا۔‘‘ (15اپریل 1958ء،پاک بحریہ سے خطاب) خارجہ پالیسی کے محاذپر، مسلم ممالک سے پرجوش تعلق ہمیشہ لیاقت علی خان کے پیش نظر رہا۔

 ایک موقع پر جب مشترکہ دفاع کی تجویز کا شوراٹھا، تو جولائی 1950ء میں عید کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا : ’’اگر مغربی جمہوریتیں اپنے طریق زندگی کے تحفظ کے لیے معاہدے کر سکتی ہیں اور اگر اشتراکی ممالک اپنی نظریاتی اساس کے دفاع کے لیے ایک بلاک بنا سکتے ہیں، تو مسلم اقوام متحد ہو کر کیوں اپنا تحفظ نہیں کر سکتیں اور دنیا کو یہ نہیں دکھا سکتیں کہ ا ن کا بھی ایک علیحدہ نظریہ اور طریق زندگی ہے۔‘‘ لیاقت علی خان کی شخصیت میں سیاسی تدبرو بصیر ت اور موقف پر پختگی کی دو نمایاں خصوصیات نظر آتی ہیں۔ تقسیم ہند کے موقع پر افواج کی تقسیم کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا تھا، لیاقت علی نے بطور وزیر خزانہ وائسرائے کو دو دفعہ باقاعدہ اس طرف متوجہ کیا اور پھر ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس ہوئے جن میں اسلحے اور افواج کی تقسیم کا فارمولا طے کیا گیا، انہیں تقسیم کے دوران افواج کی اہمیت کا ادراک ہو گیا تھا۔ وقت نے اس اہمیت کو ثابت کیا۔ سیاسی تنازعات میںمفاہمانہ ذہن اور ہٹ دھرمی سے پاک، لیکن اصولوں پر سودے بازی نہ کرنے کی روش، جو آج مفقود ہے۔اس کی ایک جھلک ان کے دور حکومت میں پنجاب کے ممدوٹ اور دولتانہ وغیرہ اور پیر آف مانکی شریف اور عبدالقیوم خان کی سرحد میں چپقلش میں نظر آتی ہے، جن کا لیاقت علی خان نے صرف منوانے سے نہیں ، مان لینے سے بھی حل نکالا!! موقف پر پختگی کی بہترین مثال 1949 ء میں ہندوستان سے روپے کی قدرپرہونے والا قضیہ ہے، جس میں ہندوستان نے دوسرے ممالک کے ساتھ اپنی کرنسی کی قدر گھٹا دی تھی لیکن پاکستان نے ایساکرنے سے گریز کیا، اب پاکستان کا ایک روپیہ بھارت کے ڈیڑھ روپے کے برابر ہو گیا تھا۔اس پر بھارت نے پاکستان سے تمام تجارت معطل کر دیکرنسی کی قدر گھٹانے تک یہ سلسلہ معطل کردیا۔ لیاقت علی خان نے بھی ڈھاکا جا کر کہہ دیا کہ بھارت کو ایک گانٹھ پٹ سن بھی نہیں دی جائیگی اور جیسا یہ کریں گے ،جواباً ان کے ساتھ بھی ویساہی کیا جائے گا۔یہی صورتحال جاری رہی یہاں تک کہ چھے مہینے بعد بھارت اپنی ضد سے باز آگیا۔ 16 اکتوبر1951ء کو تحریک پاکستان کا یہ نظریاتی سپاہی اور سیاسی مدبر شہید کردیا گیا۔ وہ آج ایک دمکتے ستارے کی طرح ہماری قومی تاریخ کے افق پر جگمگا رہے ہیں۔ ان کی زندگی میں ایک بار بابائے قوم نے انھیں خراج ِتحسین پیش کیا تھا، جو نہ صرف ان کے خلوص اور جدوجہد کے لیے سند کا درجہ رکھتا ہے بلکہ ہمارے سیاسی راہ نماؤں کے لیے بھی اس میں واضح پیغام ہے،قائد اعظم نے فرمایا تھا: ’’لیاقت علی خان نے نہایت تن دہی کے ساتھ شب و روز کام کیا ہے اور عام آدمی کے لیے یہ سمجھنا بھی بہت مشکل ہے کہ انہوں نے اپنے کاندھوں پر کتنا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔وہ کہلاتے تو نوابزادہ ہیں، لیکن فکر و عمل کے لحاظ سے بالکل عوامی کردار رکھتے ہیں اور ملک کے دوسرے نوابوں اور نوابزادوں کو چاہیے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلیں۔‘‘ (6 دسمبر 1934ء، مسلم لیگ کا اجلاس ،منعقدہ کراچی

Liaquat Ali Khan