Saturday, May 30, 2015

آم عام کیوں ہیں؟....وسعت اللہ خان

الفانسو، کیسر، چونسہ، قلمی، لنگڑا، طوطا پری، تخمی، دسہری، سندھڑی، فجری، انور ریٹول، ثمرِ بہشت، سرولی، الماس، امرپھلی، بینگن پھلی، بمبئی، نیلم، کلکٹر، دلکش، گلابِ خاص، لاہوتی، لال بادشاہ، مالدہ، نواب پوری، رانی پھول، صالح بھائی، شانِ خدا، تیموریہ، طوفان، زعفران، محمد والا، بادشاہ پسند، ملغوبہ، بادامی، چتوڑ، رومانی، حسن آرا، امام پسند،جہانگیر، سرخا، بھوگ، نناری، رتنا، سفیدہ، ونراج، یحیی مریم، زرد آلو، ہیم ساگر، لکشمی، ملائکہ، لانسی ٹیلا، منی لیتا، مومی کے، روبی، پامر، سائگون، اسپرٹ آف سیونٹی سکس، سن سیٹ، ینگ، نمرود، جکارتہ، اطاؤلفو، کالی پڈ، اینڈرسن، جین ایلن، بروکس، ڈنکن، ایڈورڈ، ایلڈن، ایمرلڈ، فورڈ، گلین، گولڈ نٹ، گراہم، ہیڈن، ہیچر، آئس کریم، ارون، آئیوری، کینزنگٹن پرائڈ، کینٹ۔۔۔ابھی تو نام شروع ہوئے ہیں۔
اور کس پھل کے بھلا اتنے نام ہیں۔ کون سا بادشاہ ہے جس سے لوگ اتنا انس رکھتے ہیں علاوہ آم بادشاہ، کہ جس کی جنم بھومی برِ صغیر ہے۔ امبیکا دیوی کی مورت ہی دیکھ لیں۔ ہزاروں برس سے آم کی چھاؤں میں براجی ہے۔

اور کیا ڈھائی ہزار برس سے ساون، انبوا کا پیڑ، پیڑ پے جھولا اور جھولے میں پینگیں بھرتی ناری پیڑھی در پیڑھی ہمارے ساتھ ساتھ نہیں؟ کالی داس کے ڈرامے سے امیر خسرو کے گیت اور غالب کے قصیدے سے ٹیگور کی نظم ’’آمیر منجوری‘‘ تک ایک ہی سلسلہ تو چلتا چلا آ رہا ہے۔ کہتے ہیں اکبرِ اعظم آم کا ایسا عاشقِ اعظم تھا کہ دربھنگا میں ایک لاکھ پیڑ لگوا دیے۔ تب سے چیتاونی ہے کہ آم کھائیے گا کہ پیڑ گنیے گا۔ کشمیر کے دوشالے سے کانچی پورم کی ساڑھی تک آج بھی سب سے بکاؤ وہ ملبوسات ہیں کہ جن پر آم کے پتے یا پھل کی کشیدہ کاری ہو۔
اب تو آم کی سلطنت نوے سے زائد ممالک تک پھیل چکی ہے مگر پچاس ملین ٹن میں سے آدھے آم آج بھی برِ صغیر (بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش) میں پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لیے تو آم بھارت اور پاکستان کا قومی پھل اور بنگلہ دیش کا قومی درخت ہے۔ اکیلے بھارت میں دنیا کا بیالیس فیصد آم پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد چین، تھائی لینڈ، پاکستان، میکسیکو، انڈونیشیا، برازیل، بنگلہ دیش، فلپینز اور نائجیریا کا نمبر ہے۔

چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی میں برِصغیر سے آم نے بودھ بھکشوؤں کے ہمراہ جنوب مشرقی ایشیا ہجرت کی اور برما، تھائی لینڈ، چین سے ہوتا انڈونیشیا اور فلپینز تک پہنچ گیا۔ (فلپینز کا آم کاراباؤ اس قدر شیریں ہے کہ گنیز بک میں جگہ پا چکا ہے)۔ پندھرویں اور سولہویں صدی کے بیچ فلپینز سے ہسپانوی جہازی آم کی گٹھلی میکسیکو لے گئے۔

یوں بحرالکاہل کے آر پار منیلا سے فلوریڈا اور ویسٹ انڈیز تک ہر ہسپانوی نوآبادی میں آم عام ہو گیا اور پھر بحراقیانوس عبور کرتا اسپین (غرناطہ و جزائرکینری) اور پرتگال تک جا پہنچا۔ لگتا ہے واسکوڈی گاما اور اس کے جہاز رانوں نے پرتگال چھوڑنے سے پہلے ہی آم چکھ لیا تھا تبھی تو مالابار کے ساحل سے پرتگیزی اور عرب جہازوں میں آم کا پودا مشرقی افریقہ تک جا پہنچا۔ ابنِ بطوطہ نے مانگا (آم کا پرتگیزی نام) صومالیہ کے شہر موگا دیشو میں مزے لے لے کے کھایا اور تذکرہ بھی کیا۔

مگر کسی جگہ سب سے زیادہ آم پیدا ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہاں سے آم کی ایکسپورٹ بھی سب سے زیادہ ہو۔ چنانچہ جب ہم دنیا میں سب سے زیادہ آم ایکسپورٹ کرنے والے دس ممالک کی فہرست دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ پیداوار کے باوجود ایکسپورٹ چارٹ میں بھارت کا نمبر پانچواں ہے کیونکہ اپنی ننانوے فیصد پیداوار بھارت خود کھا جاتا ہے۔ آم کا سب سے بڑا عالمی ایکسپورٹر میکسیکو ہے۔

اس کے بعد فلپینز، پاکستان اور برازیل ہے۔ یہ عجب ہے کہ ہالینڈ، پیرو، گوئٹے مالا، فرانس اور ہیٹی آم کی پیداوار والے دس بڑے ممالک کی فہرست میں شامل نہیں مگر دس بڑے عالمی ایکسپورٹرز میں ضرور شامل ہیں۔ ٹاپ ٹین ایکسپورٹرز میں لاطینی امریکا کے پانچ اور یورپ کے دو ممالک کی شمولیت کا سبب یہ ہے کہ یہ ممالک آم کی ٹومی ایٹکنز قسم کاشت کرتے ہیں جو ذائقے و سیرت میں بھلے برِصغیری آم سے کمتر ہو لیکن صورت، وزن اور شیلف لائف کے اعتبار سے سب سے بہتر مانا جاتا ہے۔

پاکستان آم کی پیداوار کے لحاظ سے چوتھے مگر ایکسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر یوں ہے کہ وہ کل پیداوار کا لگ بھگ آٹھ فیصد برآمد کر دیتا ہے۔ پاکستانی چونسہ، انور ریٹول اور سندھڑی بیرونِ ملک سب سے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، برطانیہ، مغربی یورپ، ایران، سعودی عرب، بحرین سنگاپور، قزاقستان، آزر بائیجان اور ترکی تک پاکستانی آم کی خاصی چاہ ہے۔ اس برس ایک لاکھ ٹن آم ایکسپورٹ کرنے کا ہدف ہے جس سے لگ بھگ ساٹھ ملین ڈالر کا زرِ مبادلہ متوقع ہے۔

پاکستان میں ہر سال تقریباً اٹھارہ لاکھ ٹن آم پیدا ہو رہا ہے۔ جنوبی پنجاب (ملتان اور بہاولپور ڈویڑن) اور جنوبی سندھ (میرپور خاص اور حیدرآباد ڈویژن) آم کا گڑھ مانے جاتے ہیں۔ ویسے تو یہاں تقریباً ایک سو پچیس اقسام کے آم پائے جاتے ہیں مگر مقبول کمرشل اقسام کی تعداد تیس کے لگ بھگ ہے۔
کاش مرزا اسد اللہ خان غالبؔ جون تا اگست ملتان سے براستہ رحیم یار خان میر پور خاص اور ٹھٹھہ تک سفر کر لیتے تو انھیں یہ کہنے کی ضرورت پیش نہ آتی کہ آم بہت ہوں اور میٹھے ہوں۔ غالبؔ بچشم ملاحظہ کرتے کہ انسان تو انسان گدھے بھی آم کھا رہے ہیں۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ آم سے اچار، چٹنی، مربہ، امچور، پاپڑ، جام، جیلی، جوس، آئس کریم وغیرہ بنتے ہیں مگر آم کی ان ذیلی نعمتوں کو نقد آور بنا کر معیارِ زندگی خاص کیسے کرنا ہے۔ اس بارے میں بہت کم کاروباری سیانے دلچسپی لیتے ہیں۔ اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ پاکستان میں کل پیداوار کا محض تین فیصد حصہ آم کا گودا ذیلی مصنوعات سازی میں استعمال ہوتا ہے۔ آم کی پیداوار کو صنعتیانے میں دس طرح کی مالی و انتظامی دشواریوں کے علاوہ بے ڈھب ٹرانسپورٹیشن، ناقص پیکنگ، منڈی تک پہنچنے میں تاخیر اور کولڈ اسٹوریج کی ناکافی سہولت کے سبب ویسے بھی تقریباً تیس فیصد سبزیاں اور چالیس فیصد پھل گاہک کے ہاتھوں میں پہنچنے سے پہلے ہی ضایع ہو جاتے ہیں۔

پھر بھی اتنے آم ضرور بچ جاتے ہیں جو ذاتی، علاقائی و بین الاقوامی تعلقات میں بڑھاوے کے کام آ سکیں۔ جس طرح بینک اکثر انھیں ہی قرضہ دیتا ہے جنھیں قرضے کی ضرورت نہ ہو، جیسے قربانی کا گوشت زیادہ تر انھی میں گردش کرتا ہے جن کے لیے قربانی یا گوشت کی دستیابی کوئی مسئلہ نہیں اسی طرح آموں کی پیٹی بھی اکثر اہلِ آم انھی خواص کو بھیجتے ہیں جنھیں اس نذرانے کی ضرورت نہیں۔ آم کے ذریعے پبلک ریلیشننگ بعض اوقات اچھے اچھوں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ (یہ بات سمجھنے کے لیے محمد حنیف کا ناول ’’اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز‘‘ پڑھنا ازبس ضروری ہے)۔

پھر بھی عام جنتا کو ہر سال اتنے آم ضرور میسر آ جاتے ہیں کہ اگر کوئی یہ کہے کہ پچھلی بار اسے ایک بھی آم نہیں ملا تو یا وہ جھوٹا ہے یا پھر بہت ہی جھوٹا۔
اور تم خدا کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے)۔

وسعت اللہ خان
بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس