Wednesday, August 27, 2014

مقبرہ مہابت خان.......TOMB OF MAHABAT KHAN

 

گلابی باغ سے شالا مار جاتے ہوئے تھوڑی دور دائیں ہاتھ ایک پٹرول پمپ کے نیچے گنجان آبادی کے درمیان مہابت خان کا مقبرہ ہے کسی زمانے میں یہ مقبرہ ایک وسیع و عریض باغ کے وسط میں واقع تھا جو کہ باغ مہابت خان کہلاتا تھا۔ مہابت خان کا اصلی نام زمانہ بیگ تھا وہ کابل کا باشندہ تھا اس نے نوعمری میں ہی شاہی ملازمت اختیار کرلی اور ترقی کرتے کرتے ہفت ہزاروی بن گیا۔ مہابت خان کا شمار عہد جہانگیر کے نامور جرنیلوں میں ہوتا ہے مہابت خان نے جہانگیر کے عہد حکومت میں سیاست میں بڑا اہم کردار ادا کیا اس نے نور جہاں اور اس کے بھائی آصف خان وزیراعظم کی چالوں سے تنگ آ کر جہانگیر کے خلاف بغاوت کر دی 1621ء میں جب جہانگیر نے کشمیر جاتے ہوئے دریائے جہلم عبور کیا تو مہابت خان نے جو موقع کی تاک میں تھا اپنے جان نثار سپاہیوں کی مدد سے جہانگیر کو حراست میں لے لیا۔

 نور جہاں اور آصف خاں ابھی فوج کے ساتھ دریا کے دوسرے پار ہی تھے کہ انہیں اس واقع کی اطلاع ملی۔ نور جہاں نے بڑی حکمت عملی سے کام لے کر خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا اور چند ہی روز میں ایسی چال چلی کہ مہابت خاں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ جہانگیرو نور جہاں کو رہا کرکے خود دکن کی طرف بھاگ گیا اور وہاں شہزاد خرم سے مل گیا۔ اس واقعہ کے چند ماہ بعد ہی جہانگیر کا انتقال ہوگیا۔ آصف خاں کی تدبیر سے نور جہاں اور اس سیاسی مہرے شہزادہ شہریار کو شکست ہوئی اس طرح شاہ جہاں کی تخت نشینی کے لیے میدان صاف ہوگیا شاہ جہاں نے تخت نشینی کے بعد مہابت خاں کی عزت افزائی کی۔ مہابت خان نے اپنی زندگی میں ہی لاہور میں شالا مار باغ کے قریب ایک باغ لگایا اور اس میں اپنا مقبرہ تعمیر کروایا۔

 مہابت خان نے 1635ء میں وفات پائی اور اپنی وصیت کے مطابق اپنے تعمیر کردہ مقبرے میں دفن ہوا۔ باغ تباہ و برباد ہوگیا گزشتہ صدی کے نصف آخر میں ایک پارسی سوداگر نے نو سو روپے کے عوض اسے خرید لیا اور وہ مزار کی دیکھ بھال کرنے لگا۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد باغ سے احاطے میں مکانات بننے لگے دیکھتے ہی دیکھتے یہ مزار آبادی میں گھر کر رہ گیا اس مزار و مقبرے کے چار محرابی دروازے ہیں ان پر محرابی چھت ہے مزار پر اب بھی پرانی مصوری کہیں کہیں سے نظر آ جاتی ہے۔

 (شیخ نوید اسلم کی کتاب ’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ ‘‘ سے ماخوذ)

TOMB OF MAHABAT KHAN

خاکسار تحریک کے بانی.......علامہ عنایت اللہ مشرقی


خاکسار تحریک کے بانی، ادیب، عالم دین اور ممتاز ریاضی دان علامہ عنایت اللہ مشرقی 25 اگست 1883ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے ریاضی اور طبعیات کے شعبوں میں اعلیٰ امتیازات حاصل کئے تھے۔ 1926ء میں مصرمیں موتمر اسلامی کی کانفرنس ہوئی، اس میںصاحب تذکرہ علامہ عنایت اللہ مشرقی کو بھی مدعو کیا گیا۔ اس عظیم کانفرنس میں دنیا بھر کے ہوشمند اور صاحب علم مسلمان رہنمائوں نے شمولیت کی ،وہاں پر آپ کو بھی خطاب کی دعوت دی گئی۔ آپ نے اس کانفرنس میں عربی زبان میں خطاب کیا جو ’’ خطاب ِمصر‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔اس خطاب میں آپ نے مسلمان راہنمائوں کو ایک قابل ِعمل پروگرام دیا۔

 اس کانفرنس کی صدارت کا اعزازبھی آپ کو حاصل ہوا۔ جامعہ الازہرکے علمانے آپ کو علامہ کے خطاب سے نوازا۔ آپ اس وقت علامہ عنایت اللہ مشرقی کے لقب سے ملقب ہوئے جبکہ آپ کی عمر صرف 38برس تھی۔ 1931ء میں علامہ مشرقی نے خاکسار تحریک کے نام سے ایک جماعت قائم کی، جس کا منشور نظم، ضبط، خدمت خلق اور اطاعت امیر تھا۔ خاکسار تحریک کے قیام کے وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی کوئی بھی مؤثر جماعت نہیں تھی اور جو تھیں وہ مسلمانوں کو متحد کرنے کی بجائے تقسیم کر کے دشمن کے عزائم پورے کرنے میں نادانستہ طور پرمعاون بن رہی تھیں۔

 خاکسار تحریک کا قیام غلام ہندوستان میں انگریزوں جیسی خون آشام حکومت کے دہشت ناک تسلط کے ہوتے ہوئے فی الحقیقت ایک کرشمہ سے کم نہ تھا ۔ خاکسار تحریک کے قیام کے بعد علامہ مشرقی کی آوازپرآزادی کی تڑپ رکھنے والے مسلمان نوجوان جوق در جوق خاکسار تحریک میں شامل ہو کر اصلاح نفس، اطاعت امیر، خدمت خلق اور سپاہیانہ زندگی کے حامل بنتے گئے اوردیکھتے ہی دیکھتے پشاور سے راس کماری تک مسلمان نوجوانوں کی قطاریں رواں دواں ہو گئیں اور ہندوستان کی فضاچپ راست کی آوازوں سے گونجنے لگی۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے83برس بعد علامہ مشرقی کے تربیت یافتہ خاکسار انگریز حکومت کے مدِ مقابل تھے اور لاہور میں مسلح پولیس سے دست بدست جنگ میں3انگریزوں کو ہلاک کر کے انہوں نے جتا دیا تھا کہ اب ہندوستان پر انگریز کے لئے قبضہ برقرا ررکھناممکن نہیں رہا۔ انگریز اپنی چالوں اور اپنے سدھائے ہوئے ہندو اور مسلمان لیڈروں کے طرز عمل سے مطمئن تھا کہ ہندوستان میں انگریزی راج کے لئے اب کوئی خطرہ باقی نہیںرہا، اب چین ہی چین ہے، لیکن 19مارچ 1940ء کے دن لاہور میں خاکساروں سے ٹکرائو کا معرکہ اس قدر دھماکہ خیز تھا کہ اس نے انگریزی حکومت کے مضبوط ترین قلعہ میں زلزلہ برپا کر دیا۔

 اس معرکہ میں جو چندانگریز افسروں کی ہلاکت سے وائسریگل لاج دہلی سے لیکر ویسٹ منسٹر ایبے اور10ڈائوننگ سٹریٹ سے بکنگھم پیلس لندن تک سبھی کے مکینوںمیں کہرام مچ گیا۔ تاج برطانیہ کی کرۂ ارض پر پھیلی ہوئی بیسیوں نوآبادیوں میں کہیں بھی کوئی انقلابی تحریک نہیں تھی، جو انگریزوں کے لئے خطرہ بنتی۔ یہ صرف ہندوستان تھا، برطانیہ کے تاج کا سب سے بڑا اور گراں قدر ہیرا، جسے مسلمانوں سے چھیننے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے260سال لگے اور ان لڑائیوں میں بے شمار انگریز ہلاک ہوئے، اس متحدہ ہندوستان میں ایک شخص عنایت اللہ مشرقی نے ایک منظم تحریک پیدا کر کے اس سب سے بڑے ہیرے کو انگریزوں سے واپس چھیننے کے لئے جانباز مجاہد تیار کئے ،جو آخر کار معرکہ لاہور کے دوران دنیا کی سب سے بڑی حکومت کے اقتدار کے لئے خطرہ بن گئے۔ 1950

ء میں علامہ صاحب نے ’’انسانی مسئلہ‘‘ نامی مقالہ لکھ کر دنیا کے ہوشمند انسانوں کو چونکا دیا۔ اس مقالہ میں صاحب علم یعنی سائنس دانوں کو حکومت کرنے کا حق حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی۔ کمیونزم اورمغربی جمہوریت کے قربِ عظیم کا پردہ چاک کیا گیا۔ طبقاتی انتخاب میں غریب کی حکومت قائم کرنے کا قابل عمل تصور دیا گیا۔ الغرض اس مقالہ سے دنیا بھر کی حکومتوں میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا اوربیرونی دبائو پر حکومت نے علامہ صاحب کو گرفتار کر کے بغیر مقدمہ چلائے جیل میں ڈال دیا ۔ دنیا کے بہت سے رہنما ،جنہوں نے اپنی اپنی قوموں کو غلامی اورا خلاقی پستی کے جہنم سے نکالنے کی مقدور بھر کوشش کی مشکلات اور مصائب کے دوران مایوسی اور قنوطیت کا شکار ہوئے ۔ ان کی سوچ اور فکر میں ضعف پیدا ہوا،لیکن حیرت انگیز امر ہے کہ علامہ مشرقی کی سوچ اور ارادوں میں کسی بھی لمحے کوئی کمزوری، ضعف اور لرزش پیدا نہیں ہو ئی۔آخر کار دین ِاسلام کے غلبے اور مسلمانوں کی آزادی کے لئے انتھک جدوجہد کرنے والا یہ عظیم انسان اپنی زندگی کے تمام طوفانوں سے گزر کر مطمئن نفس کے ساتھ27اگست1963ء کو لاہور میں وفات پاگیا اور اپنے گھر میںآسودۂ خاک ہے


Inayatullah Khan Mashriqi

Tuesday, August 26, 2014

سیاسی بحران کے حل کی جانب پیش رفت.......


اسلام آباد میں دھرنے مسلسل جاری ہیں۔ اگر دھرنے مزید کچھ عرصے یونہی جاری رہتے ہیں اور ان کا کوئی حل نہیں نکلتا تو اس سے حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ دھرنے دینے والی جماعتوں کے ساتھ حکومت کے مذاکرات جاری ہیں اور ان کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز تحریک انصاف اور سرکاری وفد کے درمیان خوشگوار ماحول میں مذاکرات ہوئے ہیں مگر ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

ان مذاکرات کا شروع ہونا ہی بڑی کامیابی ہے کیونکہ اب بحران کے حل کے لیے فریقین ایک دوسرے کی بات سن رہے ہیں ۔ چند روز قبل یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ حکومت نے دھرنے کے شرکا کو طاقت کے بل بوتے پر منتشر کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن حکومت نے ایسے کسی بھی عمل کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھرنوں کے خلاف طاقت کے استعمال کا سوچ بھی نہیں سکتی، وہ مسئلے کا پرامن حل چاہتی ہے تاکہ ملک کو بحران سے نکالا جا سکے۔

اب سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری میدان میں آ گئے ہیں اور انھوں نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کا مشورہ دیا ہے۔ آصف زرداری کے سامنے آنے کے بعد اس بحران کے حل کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ہفتے کو جاتی امرا رائیونڈ میں آصف زرداری نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر یہ اتفاق کیا گیا کہ جمہوریت کو کسی صورت ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا‘ مسائل آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی طریقے سے ہی حل کیے جائیں گے‘ جمہوریت آئین اور پارلیمنٹ بالادست ہیں‘ ان کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

آصف زرداری نے کہا ہم کسی فریق نہیں جمہوریت کے ساتھ ہیں پارلیمنٹ کو مدت پوری کرنی چاہیے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو صورت حال واضح ہو جاتی ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ میں موجود سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی جمہوری نظام کو بچانے کے لیے متفق ہو گئی ہیں اور کسی بھی ایسے عمل کی مخالفت کر رہی ہیں جس سے اس نظام کو خطرات لاحق ہو جائیں۔ چند روز قبل بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے حق میں متفقہ قرار دادیں منظور کی گئی تھیں۔
اس طرح دیکھا جائے تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام اپوزیشن جماعتیں سوائے چند ایک کے‘ حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں۔ آصف علی زرداری نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت اور مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد اسلام آباد میں جاری سیاسی کشیدگی کا کوئی مناسب حل تلاش کرنا ہے۔

ان ملاقاتوں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئین اور قانون برتر ہیں ان پر عمل ہونا چاہیے افراد آتے جاتے رہتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بار بار اس امر کا اظہار کر رہے ہیں کہ حکومت اور دھرنا دینے والی جماعتوں کو مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی تلاش کرنا چاہیے۔ آصف علی زرداری نے بھی سراج الحق کی جانب سے فریقین کے درمیان تصفیہ کروانے اور انھیں مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھیں ان کوششوں کو جاری رکھنا چاہیے۔

پیپلز پارٹی‘ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے رہنما اس امر کا بارہا اعادہ کر چکے ہیں کہ فریقین معاملات کو طول دینے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اس کا حل تلاش کریں۔ دھرنا دینے والی پارٹیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے رویے میں لچک پیدا کریں اور کوئی ایسا سخت مطالبہ نہ کریں جس سے مذاکرات کا عمل آگے بڑھنے میں رکاوٹ پیدا ہو۔ جب کسی مسئلے پر مذاکرات کا عمل شروع ہوتا ہے اس دوران بہت سی تلخیاں اور اتار چڑھاؤ بھی سامنے آتے ہیں جس سے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ مذاکرات کا عمل آگے بڑھنے کے بجائے یہیں پر ختم ہو جائے گا لیکن اگر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان تلخیوں کو دور نہ کیا جا سکے۔

جمہوریت میں مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ فریقین دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اگر ایک مرتبہ بات چیت ناکام ہو جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوبارہ بات چیت نہیں کرنی‘ ڈائیلاگ‘ ڈائیلاگ اور ڈائیلاگ ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس مسئلے کا حل بات چیت سے ہی نکل آئے گا اور سیاستدان سیاسی طریقے سے اس کا حل نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے‘ عمران خان اور طاہر القادری کے جو بھی مطالبات ہیں انھیں بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے جمہوری حکومت کو اسٹریٹ پاور کے ذریعے ختم کرنے کے عمل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر حکومتوں کے خلاف فیصلے کرنے سے جمہوریت کمزور ہو گی‘ حکومتوں سے غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے بہترین حکومتیں لائی جا سکتی ہیں۔ آصف علی زرداری کے مثبت اور مصالحانہ رویے کے باعث حکومت کو نیا حوصلہ ملا ہے اور جمہوری حکومت ڈی ریل ہونے کے جو خدشات سامنے آ رہے تھے وہ بھی ٹلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔دھرنوں کا عمل جتنا طول پکڑتا چلا جائے گا وہ حکومت اور ملک کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ثابت ہو گا۔ اس لیے تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ صبر و تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے جلد از جلد مسئلے کا حل نکالیں۔

 

Monday, August 25, 2014

طیب اردگان اتاترک کے بعد مقبول ترین رہنما.......


ترکی میں قوم نے بھاری اکثریت سے وزیراعظم طیب اردگان کو وزیراعظم ہاؤس سے ایوان صدر میں پہنچادیاہے۔
ان انتخابات میں گزشتہ بارہ برس سے حکمران جماعت کے سربراہ اور اب تک ملک کے وزیراعظم طیب اردگان کی بڑی اکثریت سے کامیابی نے ان کے ملکی اور بین الاقوامی مخالفین کو شدیدمایوسی کا شکارکیا ہے۔ ترک سیکولر حلقوں کو امید تھی کہ وہ کم ازکم اس بار صدارتی انتخابات میں طیب اردگان کو شکست سے دوچارکریں گے لیکن ان کی یہ کوشش بھی ناکام رہی۔

اگر 10اگست کو منعقدہ انتخابات میں کسی بھی امیدوار کو 50 فی صد ووٹ حاصل نہ ہوتے تو پھر دوسرے مرحلے کا انتخاب 24 اگست کو ہوناتھا لیکن قوم نے طیب اردگان کو 52فیصد ووٹ دے کرمعاملے کو پہلے مرحلے میں ہی نمٹادیاہے۔ ان کے حریف امیدواروں میں سے اکمل الدین احسان اوگلو کو 38.4 فیصد اور صلاح الدین دیمیرتاس کو 9.8 فیصد ووٹ ملے۔

اس بار ایوان صدر کی طرف دوڑ میں یہی تین امیدوار میدان میں تھے۔ ترکی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب عوام براہ راست صدارتی انتخاب کا حصہ تھے اور اس کے لیے ووٹ ڈالا۔ اس سے پہلے ترک پارلیمان ہی صدرمنتخب کرتی تھی۔ 71سالہ اکمل الدین کو حزب اختلاف کی دو جماعتوں ریپبلیکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) اور قومی موومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) کی حمایت حاصل تھی۔ یادرہے کہ ری پبلیکن پیپلزپارٹی کے بانی کمال اتاترک تھے۔ اس جماعت کو طیب اردگان کی حکمرانی سے پہلے نسبتاً زیادہ مقبولیت حاصل تھی لیکن اردگان کے اقتدارمیں آنے کے بعد یہ جماعت ہرگزرتے دن کے ساتھ سکڑتی چلی گئی۔

اکمل الدین احسان اگلو نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کے طور پر دس سال( 2004 ء سے 2014ء) تک خدمات سرانجام دیں۔ وہ صدر کے روایتی کردار کو برقرار رکھنے کا نعرہ لگارہے تھے کیونکہ ان کے مطابق سربراہ مملکت کو ملک کے روز مرہ کے امور میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ بہرحال قوم نے فیصلہ سنادیا کہ طیب اردگان جو بھی نظام دیں گے، وہ ملک وقوم کی بہتری ہی میں ہوگا۔ دوسرے حریف 41 سالہ صلاح الدین دمیرتاس بائیں بازو کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کے رہنما ہیں اور کرد اقلیت کے مقبول رہنما ہیں۔ انھوں نے اپنی انتخابی مہم کا مرکز غریب، مزدور، نوجوان اور دبے کچلے افراد کو بنایا ہے۔

طیب اردگان کو ملک کے سوا پانچ کروڑ سے زیادہ اہل ووٹرز نے اپنا 12 واں صدر منتخب کیاہے۔ یادرہے کہ 60 سالہ اردگان 2003ء سے ترکی کے وزیر اعظم تھے۔ آئین کے مطابق اگلی ٹرم کے لئے وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔
انھوں نے قوم سے وعدہ کیاتھا کہ وہ اس انتخاب میں کامیاب رہے تو وہ آئین میں ترمیم کر کے صدر کے رسمی عہدے کو عملی طور پر بااختیار قوت کا محور بنائیں گے۔ قونیہ میں اپنی آخری انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اردگان نے ترکی کے جمہوری اور اقتصادی معیار کو بلند کرنے اور ترکی کو ’عالمی قوت‘ بنانے اور ’عالمی قیادت‘ فراہم کرنے کی بات کہی۔ یادرہے کہ عراق، شام اور یوکرین کی شورش کے درمیان ترکی مغربی دنیا کا ایک اہم اتحادی ہے اور ہمارے نمائندے کے مطابق جو بھی اس ملک کا سربراہ ہوگا اس کے پاس اس اہم جغرافیائی اور سیاسی خطے کی چابی ہوگی۔

دارالحکومت انقرہ میں اپنی جماعت کے مرکزی دفتر کے باہر جمع اپنے حامیوں کے سامنے فتح کا اعلان کرتے ہوئے اردگان نے کہا کہ وہ ملک میں سماجی مفاہمت کا ایک نیا دور شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ’سماجی مفاہمت کا دور ہے، پرانے ترکی میں پرانی باتوں کو چھوڑیں، آج جو ہمیں پیار کرتے ہیں اور وہ جو جیت نہیں سکے، آج ترکی کی فتح ہوئی ہے۔‘
ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے وابستہ مارک لوئن کا کہنا ہے کہ اردگان فیصلہ کن شخصیت کے مالک ہیں۔ ترکی کی معیشت کا رخ بدل ڈالنے کیلئے ان کے حامی ان سے محبت کرتے ہیں جبکہ ان کے ناقدین ان کے سخت رویے اور اسلامی میلان کے لیے انھیں ناپسند کرتے ہیں۔

برطانوی دارالحکومت لندن میں قائم ایک تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس سے منسلک ماہر Fadi Hakura کے مطابق یہ انتخابی نتیجہ غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ الیکشن سے قبل ہی رائے عامہ کے جائزوں میں یہ بات سامنے آ گئی تھی کہ اردگان 54 تا 58 فیصد ووٹ حاصل کر کے یہ انتخابات جیت سکتے۔ انہوں نے کہا، ’’رجب طیب اردگان اس انتخابی نتیجے کو صدر کے عہدے کو زیادہ با اختیار بنانے کے اپنے منصوبوں کے حوالے سے فیصلہ کن مینڈیٹ کے طور پر دیکھیں گے۔‘‘

بارہ برسوں سے طیب اردگان کا کچھ بھی نہ بگاڑسکنے والی بڑی اپوزیشن جماعت ری پبلیکن پیپلزپارٹی کا کہناہے کہ اب اردگان باقاعدہ آمرمطلق بن جائیں گے۔ سب سے زیادہ خطرہ اس بات کاہے کہ چیک اینڈ بیلنس کاپورا نظام کمزور پڑجائے گا۔ وہ سارے ریاستی معاملات صدارتی محل سے چلائیں گے۔
دوسری جانب نیشنلسٹ ایکشن پارٹی کے رہنما دولت باچیلی نے اردگان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے صدر کے عہدے تک پہنچنے کے لیے دھوکہ دہی اور چالاکی سے کام لیا۔ باچیلی کے بقول اردگان بطور صدر دیکھے جانے کے حوالے سے ’مشکوک اور متنازعہ‘ ہیں۔ نیشنلسٹ ایکشن پارٹی کی طرف سے ان انتخابات میں موجودہ وزیر اعظم کے مرکزی حریف امیدوار اکمل الدین احسان اوگلو کی حمایت کی گئی تھی۔

رجب طیب اردگان گزشتہ 10 سال سے ترکی کے وزیراعظم ہیں ان کے دور حکومت میں ترکی نے بہت تیزی سے معاشی ترقی کی ہے جبکہ انہوں نے 1923 میں قائم ہونے والے مصطفی کمال اتا ترک کے سیکولر ترکی میں اسلامی اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اردگان کے صدر بننے سے انقرہ اتا ترک کے سیکولر خیالات سے مزید دور ہو جائے گا، ترکی اس وقت نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کا ممبر بننے کا بھی امیدوار ہے۔

واضح رہے کہ رجب طیب اردگان کی حکمران جماعت کی جانب سے پہلے ہی کہا جا چکا ہے کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں ملک میں صدارتی نظام کے قیام کے آئینی اصلاحات کی جائیں گی جس سے تمام انتظامی اختیارات صدر کو مل جائیں گے۔ ترکی کا موجودہ آئین 1980 کے فوجی دور میں بنایا گیا تھا جس کی رو سے صدر کے پاس کابینہ کی صدارت، وزیراعظم و دیگر وزراء ، آئین سازی کے اداروں کے ارکان اور اعلیٰ عدلیہ میں ججز کے تقرر کا اختیار نہیں ہے۔ یاد رہے کہ رجب طیب اردوان کی جماعت اے کے پی نے مارچ میں بلدیاتی انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کی تھی۔
1954ء میں استنبول کے نواحی علاقے ’قاسم پاشا‘ میں پیدا ہونے والے طیب اردگان1976ء میں ترکی کی اسلامی تحریک نیشنل سالویشن پارٹی کے نوجوانوں کے ونگ کے مقامی صدرمنتخب ہوئے۔1994ء میں استنبول کے مئیرمنتخب ہوئے اور1998ء تک اسی ذمہ داری پر رہے۔

اسی سال طیب اردگان کے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی گئی۔ فوج کی حمایت یافتہ سیکولر عدالت نے دس ماہ قید کے لئے جیل بھیج دیا۔ ان کا ’’جرم‘‘ ایک نظم پڑھناتھا۔1999ء میں وہ ایک دوسرے مقدمے میں چارماہ کے لئے قید ہوئے۔2001ء میں طیب اردگان نے ’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘ قائم کی۔ یہ روایتی اسلامی جماعتوں کی نسبت ماڈریٹ تھی۔
یوں اس جماعت نے لبرل اور سنٹررائٹ کے مایوس ووٹرز کو اپنی طرف کھینچا۔2002ء میں اس نوزائیدہ پارٹی نے 35فیصد ووٹ حاصل کرکے حکومت قائم کرلی۔2003ء میں طیب اردگان پر دس سالہ پابندی ختم ہوئی، یوں انھوں نے ضمنی الیکشن لڑ کر وزارت عظمیٰ سنبھال لی۔ پارٹی نے اس وقت تک عبداللہ گل کو وزیراعظم بنا رکھا تھا۔ 2011ء میں پارٹی نے عام انتخابات میں مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کی۔ اس بار اسے 50فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ مارچ 2014ء میں ملک میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے تو جسٹس پارٹی نے بھاری کامیابی حاصل کی۔ 12سال تک وزیراعظم رہنے کے بعد جولائی2014ء میں طیب اردگان نے اعلان کیاکہ وہ صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے۔

تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ طیب اردگان جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے بعد ملک کے سب سے مضبوط سیاستدان بن چکے ہیں۔ ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ وہ اب ایک آمر بنتے جارہے ہیں اور ملک کو تقسیم کردیں گے۔ اردگان کے مخالفین مختلف اندازمیں اردگان کی فتح کو دھندلانے کی کوشش کر رہے ہیں مثلاً گولن تحریک کے ایک حامی اخبار ’ٹوڈے زمان‘ کا کہنا ہے کہ ایک ایسے فرد کیلئے جو ترک میڈیا کے 60فیصد حصہ پر کنٹرول رکھتاہو اور حکومت میں ہونے کا فائدہ اٹھارہاہو، اس کے لئے 51.7فیصد ووٹ حاصل کرنا غیرمعمولی کامیابی نہیں ہے‘‘۔ یہ اور اس طرح کی دوسری باتیں کہنا اور لکھنا اب سعی لاحاصل ہے۔ حکمران جسٹس پارٹی کے گزشتہ بارہ برس کے سفرکا جائزہ لیاجائے تو وہ پارلیمانی ، بلدیاتی اور صدارتی انتخاب میں پہلے کی نسبت زیادہ شرح سے لوگوں کا اعتماد حاصل کررہی ہے۔

بارہ سال تک بطوروزیراعظم اقتدارمیں رہنے کے بعد صدر اردگان وہ ایک نیا ترکی قائم کرنے کی طرف جارہے ہیں جس میں ایک دوسرے سے نفرت کی بجائے مصالحت ہوگی۔ یہ کمال اتاترک کے دور سے بالکل مختلف ترکی ہوگا۔ طیب اردگان نے بطور وزیراعظم اپنے مصالحتی ایجنڈے پر عمل کا ایک ثبوت قوم کو دے دیاہے کہ انھوں نے کردوں کو قومی دھارے میں شامل کرلیا ہے۔ حالیہ صدارتی انتخاب میں تیسرا امیدوار کرد ہی تو ہے۔

اگرچہ نومنتخب صدر اردگان نے کامیابی کے بعد اپنی تقریر میں مصالحت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی بات کی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اپنے مخالفین کو باور کرادیاکہ وہ ان کی مخالفت اور سازشوں سے پوری طرح باخبر ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نیا ترکی، عظیم ترکی، قیادت کرنے والا ترکی آج کامیاب ہوچکاہے۔ ہم ایک دور کے دروازے بند کررہے ہیں۔ اور اب ہم اپنا پہلا قدم اگلے دور میں رکھ رہے ہیں۔ ہم ہراس فرد کا سرنیچا کردیں گے جو ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرہ بنے گا۔

گزشتہ پارلیمانی انتخابات سے پیشتربعض تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ طیب اردگان معروف ترک سکالرفتح اللہ گلن کی حمایت سے محروم ہوچکے ہیں۔ دونوں کے درمیان شدید اختلافات کا نقصان اردگان کو انتخابات میں شکست یا اکثریت کم ہونے کی صورت میں ہوسکتاہے لیکن ان تجزیہ نگاروں کے اندازے مکمل طورپر غلط ثابت ہوئے۔ اس قدر غلط ثابت ہوئے کہ اس بار صدارتی انتخابات سے ’گولن فیکٹر‘ کا ذکر ہی گول ہو گیا۔

طیب اردگان کو ملک کے راسخ العقیدہ مسلمان طبقہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اپنی وزارت عظمی کے ادورارمیں طیب اردگان نے سرکاری تعلیمی اداروں اور دفاتر میں لڑکیوں اور خواتین کیلئے سکارف اوڑھنے کی اجازت دیدی۔ حالانکہ سیکولرز نے اپنے ادوار حکومت میں اس معاملے میں سخت رویہ اختیارکیا۔
طیب اردگان کے ایوان صدر جانے کے بعد تجزیہ نگار اس سوال پر غورکررہے ہیںکہ اب وزیراعظم کون ہوگا؟ اردگان 28اگست تک وزیراعظم کے طورپر ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اس کے بعد معاملات قائمقام وزیراعظم سنبھالے گا۔ اصل وزیراعظم کون ہوگا، اس کا فیصلہ جسٹس پارٹی کی 50رکنی ایگزیکٹوکمیٹی ہی کو کرناہے جو فیصلہ سازی کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔

طیب اردگان کی مسلسل نویں کامیابی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ وہ وہی کچھ کررہے ہیں، جس کی لوگوں کو ضرورت ہے۔ 26سالہ عائشہ نورسالک اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’’ آج تک اردگان میری توقعات پر پورے اترے ہیں۔ ان کا وژن، ان کی فکر میرے وژن اور فکر سے قریب تر ہے۔ انھوں نے اس ملک وقوم کو جو کچھ دیا، میں اس پر بہت خوش ہوں۔‘‘ عائشہ نور فیشن ڈیزائنر ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں: ’’میں اردگان کو اس وقت تک ووٹ دیتی رہوں گی، جب تک ان کی پارٹی میری توقعات پر پورا اترتی رہے گی۔ 

عبید اللہ عابد